وبا کے زمانے میں بین الاقوامی سفر: کیا آپ نے کبھی لندن سے پاکستان یا انڈیا بس پر جانے کا سوچا ہے؟

ایڈونچرز اورلینڈ

،تصویر کا ذریعہAdventures Overland

،تصویر کا کیپشنایڈونچرز اورلینڈ کا دہلی سے لندن تک بس چلانے کا منصوبہ ہے جس کا کرایہ تقریباً 20 ہزار ڈالر ہو گا
    • مصنف, عارف شمیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

حالیہ دنوں میں ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کرتی رہی جس میں 1970 کی دہائی میں بریڈ فورڈ سے راولپنڈی چلنے والی ایک بس دکھائی گئی جو 12 دنوں میں مسافروں کو اپنی منزل پر پہنچا دیتی تھی۔

اس بس کو شاہین ایکسپریس کہا جاتا تھا اور اس کے پہلے سفر میں اس میں 40 مسافر بیٹھے تھے، جن میں نو بچے، پانچ عورتیں اور دو طالب علم بھی شامل تھے۔

اس زمانے میں بریڈ فورڈ سے راولپنڈی تک کی ٹکٹ صرف 40 پاؤنڈ کی ہوتی تھی اور جو شاہین ایکسپریس پر ہی واپس آنا چاہتا تو اس کا رٹرن کرایہ 75 پاؤنڈ ہوتا۔

وہ دور اور تھا۔ نہ سکیورٹی کے مسائل آج جیسے تھے اور نہ سرحدوں پر آج کی سختیاں اور کورونا کا خوف۔ لوگ کاریں، منی بسیں اور یہاں تک کے پیدل ہی لفٹ لیتے ہوئے بھی دنیا کی سیر کو نکل جاتے تھے۔

لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ لیکن پھر بھی مہم جوئی کے متوالے اپنے شوق کی خاطر نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حال ہی میں انڈیا سے خبر آئی کہ دلی کی ایڈونچرز اوورلینڈ کمپنی انڈیا کے دارالحکومت سے لندن تک بس سروس شروع کر رہی ہے۔ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ اگر کورونا کی وبا آڑے نہ آئی تو مئی، جون 2021 میں وہ لندن کی جانب سفر کر رہے ہوں گے۔

تاہم ایڈونچرز اوورلینڈز کا سفر ماضی میں کیے گئے لندن کے سفر سے قدرے مختلف ہے۔ یہ سیدھا سادہ سات، ساڑھے سات ہزار کلومیٹر کا سفر نہیں ہے جو زیادہ سے زیادہ بارہ چودہ دنوں میں ختم ہو جاتا تھا بلکہ یہ تقریباً 20 ہزار کلو میٹر کی مسافت ہے جس کے دوران 70 دن میں آپ 20 کے قریب ممالک سے ہوتے ہوئے لندن پہنچیں گے۔

تشار اگروال (دائیں) اور سنجے مدن

،تصویر کا ذریعہTUSHAR AGARWAL

،تصویر کا کیپشنتشار اگروال (دائیں) اور سنجے مدن پرانے دوست ہیں اور اکثر دنیا کے کئی ممالک کا سفر ساتھ کر چکے ہیں

کمپنی کے بانی توشار اگروال اور سنجے مدن پہلے بھی دہلی سے لندن کے سفر کرا چکے ہیں لیکن وہ مختلف اس طرح تھے کہ ان میں لوگ اپنی گاڑیاں لے کر قافلے کی صورت میں چلتے تھے۔ اب بس بس ہو گی اور 20 کے قریب مسافر جنھیں ایڈونچر کا شوق ہو گا۔

بی بی سی اردو نے توشار اگروال سے فون پر بات کرتے ہوئے پوچھا کہ ابھی تک کووڈ 19 سے لگی پابندیاں ختم نہیں ہوئیں، کیا ان کا ابھی تک منصوبہ اگلے سال مئی تک بس لندن لے جانے کا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی مئی میں آٹھ نو مہینے باقی ہیں، ویزہ پرمٹ کے لیے ہمیں صرف تین چار مہینے ہی چاہیئے ہوتے ہیں، باقی سب چیزیں تیار ہیں۔

’تقریباً 40 ہزار کے قریب تو ہمیں انکوائریاں آ چکی ہیں اور لوگوں نے اس دلچسپ سفر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ابھی سے بکنگ کر لیں، لیکن ہم نے ابھی بکنگ شروع نہیں کی۔ اگر سب چیزیں ٹھیک رہیں تو ہم نومبر یا دسمبر سے بکنگ شروع کریں گے۔‘

جب تشار سے سوال کیا کہ انھوں نے اتنا لمبا روٹ کیوں چنا اور ماضی کی طرح روایتی روٹ کو ترجیح کیوں نہیں دی، تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ ماضی کی طرح پاکستان سے ایران، ترکی اور یورپ کا چھوٹا روٹ لیں۔ یہ سستا بھی تھا اور اس میں کم دن بھی لگتے تھے۔ لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات اور ویزہ کے مسائل آڑے آئے اور ہم یہ نہ کر سکے۔‘

’لیکن جو نیا روٹ ہم نے چنا ہے یہ بھی بہت خوبصورت اور ایڈونچر سے بھرپور ہے۔ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ مغربی چین کتنا خوبصورت ہے، برما کا سحر کیا ہے۔ کرغستان، ازبکستان، قازقستان میں کتنا جادو ہے، مہمان نوازی ہے۔ ہمارے اس ٹور پہ لوگ ان سب کا مزہ لیں گے۔‘

مارک ٹلی
،تصویر کا کیپشنمشہور براڈکاسٹر مارک ٹلی دستاویزی فلم ’کراچی ٹو خیبر پاس‘ کی فلم بندی کے دوران

کہتے ہیں ناں ’شوق کا کوئی مول نہیں‘، بالکل اسی طرح اس سفر کا کرایہ بھی شاید ہر کسی کے بس کی بات نہ ہو۔ یہ ہے 20 ہزار ڈالر فی مسافر۔ لیکن اگر کوئی اکٹھے اتنا نہیں دینا چاہتا تو وہ راستے میں اتر سکتا ہے اور اسی لیے ہی کمپنی نے اس سفر کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

تاہم تشار کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو یہ کوئی مہنگا ٹور نہیں ہے۔ ’آپ 70 دن میں 20 ممالک دیکھتے ہیں اور زیادہ تر جگہوں پر رکتے بھی ہیں۔ 70 میں سے 25 دن تو آپ سڑک پر ہوتے ہی نہیں۔ آپ سائٹ سییئنگ کر رہے ہوتے ہیں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہ رہے ہوتے، زندگی کا مزہ اٹھا رہے ہوتے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو ایک لحاظ سے سستا پیکیج ہے۔‘

تاہم یہ بھی یاد رہے کہ یہ 70 دن کا ون وے پیکج ہے۔

پھر پاکستان کیسے پیچھے رہ سکتا ہے؟

لندن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کاروباری جو اپنا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے بتانے پر اصرار کرتے ہیں، کاغذات پر لندن تا لاہور اور بعد میں کرتار پور منصوبہ بنا کر تیار بیٹھے ہیں۔ انھیں اشارہ ہے بس حکام کا، چاہے وہ یورپی ہوں یا پاکستانی۔ باقی ان کے پاس سب تیار ہے۔

یہ ہیں حبیب جان، جو ہیں تو سیاسی شخصیت لیکن کاروبار میں بھی کسی طرح پیچھے نہیں ہیں۔ جب بی بی سی اردو نے ان سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ تمام روکاٹوں کے باوجود ان کا منصوبہ تیار ہے۔ بسیں تیار ہیں، ڈرائیور تیار ہیں، بریک ڈاؤن مکنیک تیار ہے، اور تو اور مسافر تک تیار ہیں کہ کب منصوبے کو سبز بتی دکھائی جائے اور وہ بس پکڑیں۔

تہران
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ سے یورپ جاتے ہوئے پہلا پڑاؤ ایران ہی تھا، جس کا دارالحکومت تہران ایک بہت ماڈرن شہر ہوا کرتا تھا

حبیب جان کہتے ہیں کہ کرتار پور رہداری پاکستان کو عالمی سطح پر لانے کا ایک سنہرا موقع ہے جسے گنوانا نہیں چاہیئے۔ یہ نہ صرف سکھ برادری کے دل میں پاکستان کے لیے عزت لائے گا بلکہ اس سے کشمیریوں کی کاز بھی اجاگر ہو گی کہ پاکستان امن کے ذریعے معاملات سلجھانا چاہتا ہے۔

دوسرا یہ کہ اس سے سیاحت بڑھے گی، صنعتوں کو فروغ ملے گا اور پاکستان کا نام روشن ہو گا۔

تو پھر بس کیوں رکی ہوئی ہے؟

حبیب جان کے مطابق بس کے ابھی تک نہ چلنے کی کئی وجوہات ہیں، یا یوں کہیئے کہ یہ ابھی ان کے بس میں نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان حکومت کو چاہیئے کہ وہ بھی کرتاپور ٹورازم کو اسی طرح فروغ دے جس طرح اس نے کرتار پور راہداری بنانے میں سنجیدگی اور پھرتی دکھائی تھی۔ یورپ کے دیگر ممالک میں موجود پاکستان کے کونسل خانوں میں خصوصی کرتارپور ڈیسک ہونے چاہیئں جو کرتار پور جانے والی سکھ برادری اور ٹراسپورٹرز کو سہولیات فراہم کریں۔

’کیونکہ ہر ملک کی اپنی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ اس میں ایکٹیو کردار ادا کرے اور دوسرے ممالک کو یقین دلائے کہ اس سے امن کو فروغ ملے گا اور اس میں سب کا فائدہ ہے۔‘

حبیب جان

،تصویر کا ذریعہHABIB JAN

،تصویر کا کیپشنحبیب جان سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا سوفٹ امیج پیش کرنے کا یہ ایک سنہری موقع ہے

ایک اور بڑا مسئلہ انشورنس کا بھی ہے جو یورپ میں بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ہر ملک میں یہ مختلف طریقے سے ہوتا ہے۔ حبیب جان کے مطابق ماضی میں یہ مسئلہ نہیں تھا، اسی لیے 70 اور 80 کی دہائی میں لوگ بسوں اور منی بسوں پر دنیا بھر کا سفر کر لیتے تھے۔‘

’اس کے علاوہ امیگریشن بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ اسے کیسے حل کرنا ہے۔ کسں طرح حکام کو یقین دلانا ہے کہ مسافر بس سروس کی ذمہ داری ہیں اور ان کو منزلِ مقصود تک پہنچایا جائے گا۔‘

’اور آج کا مسئلہ ہے کووڈ۔19 کا۔ کب اس سے چھٹکارا ملے اور چیزیں آگے بڑھیں۔‘

سو سرحدیں بند ہیں، منصوبے بند ہیں، بسیں بند ہیں، لیکن حبیب جان کے خواب بند نہیں ہوئے۔ انھیں یقین ہے کہ وہ پاکستان حکومت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ اس منصوبے کے سر پر ہاتھ رکھے کیونکہ ’اس میں سب کا فائدہ ہے۔‘

’سرکاری طور پر کچھ لوگوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی ہے لیکن اب صرف پاکستان حکومت کو قدم آگے بڑھانا ہے جو کوئی بہت مشکل کام نہیں۔ صرف انفراسٹرکچر ذرا ٹھیک کرنا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس کا سادہ سا حل علی بابا ڈاٹ کام پر موجود ہے۔ جہاں 100 کمروں کا کنٹینر ہوٹل صرف دو ہفتوں میں بنایا جا سکتا ہے۔ اس لیے شروع میں کرتار سنگھ میں کوئی فائیو سٹار ہوٹل بنانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم ابتدا میں کرایہ کم رکھ رہے ہیں جو کہ 850 پاؤنڈ ہے اور اس میں مسافر 60 کلو گرام تک سامان اپنے ساتھ لے کے جا سکتے ہیں۔ ’اب ذرا سوچیں کہ جب یاتری پاکستان سے اتنی مقدار میں چیزیں خریدیں گے تو ملک کے ذرِ مبادلہ کو کتنا فائدہ ہو گا۔ مقامی صنعت بہتر ہو گی، نوکریاں ملیں گے، ٹورازم بڑھے گا۔‘

میرپور سے برمنگھم: یہ کوششیں پہلے بھی ہوئیں

سنہ 2012-13 میں بھی میرپور، پاکستان سے برمنگھم تک بس سروس کا ایک منصوبہ بنا تھا جو پایہ تکمیل تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ گیا۔ افغانستان کی سرحد کے نزدیک ایران اور ترکی سے ہوتے ہوئے 6400 کلو میٹر کا سفر طے کر کے اس بس کو برمنگھم پہنچنا تھا اور اس سروس کے پیچھے اس وقت کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کا ہاتھ تھا۔

12 دنوں پر مشتمل سفر کی اس وقت ٹکٹ 130 پاؤنڈ رکھی گئی تھی۔ وزیر طاہر کھوکھر کو یقین تھا کہ بس چار ہفتوں میں چل پڑے گی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

برمنگھم
،تصویر کا کیپشن1970 کی دہائی کا برمنگھم جہاں میرپور سے آنے والے افراد کی ایک بڑا تعداد رہتی ہے

بی بی سی کے مطابق انھوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا وہ مختلف غیر ملکی سفارتخانوں سے بات کر رہے ہیں اور جیسے ہی مسائل حل ہوتے ہیں وہ شیڈول کا اعلان کریں گے۔

تاہم سکیورٹی آڑے آ گئی۔ برطانیہ نے اپنے شہریوں کو ایران نہ جانے کا مشورہ دیا اور یہ بھی کہا کہ کوئٹہ بھی تب جائیں اگر بہت ہی زیادہ ضرورت ہو۔

یاد رہے کہ برمنگھم میں دنیا کی سب سے بڑی کشمیری آبادی رہتی ہے جن میں ایک بڑی تعداد ان کشمیریوں کی ہے جو 1960 کی دہائی میں پاکستان میں ڈیم بننے کی وجہ سے بے گھر ہو کر برطانیہ آئے تھے۔ لیکن ان کے اب بھی میرپور سے گہرے روابط ہیں۔ اور اسی لیے میرپور کو ’لٹل برمنگھم‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یورپ کی ہپی بسیں

1960 اور 1970 کی دہائی وہ دہائی تھی جس میں نوجوان گروہوں کی شکل میں دنیا فتح کرنے نہیں بلکہ اسے دیکھنے اور اسکا مزہ لینے کے لیے نکلے تھے۔ اور کیونکہ مشرق کا ایک اپنا سحر تھا اس لیے زیادہ تر گروہ اپنی منی بسیں اور والکس ویگن کیمپر وینز لیے ایران، افغانستان، پاکستان اور انڈیا آتے تھے۔ اس سے قبل بھی کلکتہ سے لندن ایک بس چلی تھی لیکن اس کا ذکر پھر کبھی۔

ہپیوں کی دنیا
،تصویر کا کیپشنہپی دنیا کے نئے مسافر تھے جو اپنی بسوں اور منی بسوں میں نت نئی جگہوں کا سفر کرتے تھے

اگر کسی کو 60 اور 70 کی دہائی کا پاکستان یاد ہو تو کراچی، پشاور اور لاہور میں کیمپر وینز میں بیٹھے سگریٹ پیتے ہوئے غیر ملکی نوجوان لڑکے لڑکیاں کون بھول سکتا ہے۔ وہ پیسے اکٹھے کر کے یہاں آتے تھے اور کئی ایک تو کئی کئی سال یہیں رہتے۔ نہ کوئی ڈر تھا نہ کوئی خوف۔ لیکن وہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیار اور محبت کی دہائیاں تھیں۔ پھر وقت بدل گیا۔ پرانی چیزوں کے شوقین کئی افراد کے پاس وہ کیمپر وینز اب بھی موجود ہیں۔

’بس اور نو بس‘: ہچ ہائیکنگ کے پاکستانی شیدائی

آج کے بہت سے سادہ دل پاکستانی نوجوان تو شاید یہ ہی جانتے ہیں کہ کیسے چوروں کی طرح رات کے اندھیروں میں کسی بھی لمحے آتی ہوئی گولیوں کے ڈر سے ترکی کی سرحد عبور کر کے یورپ پہنچا جاتا ہے۔ انھیں شاید اس بات کا ادراک بھی نہ ہو کہ ایک وقت تھا کہ پاکستانی نوجوان کندھے پر بستر بند یا رک سیک اٹھائے آرام سے سرحدیں کراس کر لیتے تھے اور سپاہی ہاتھ ملا کر انھیں الوداع کہتے ہیں۔ ان ہی طالب علموں میں سے ایک مجید شیخ بھی تھے۔ سنیے انھیں کی زبانی۔

’میں نے 1972 میں بی اے کا امتحان دیا اور فیصلہ کیا کہ یورپ کا سفر پیدل کیا جائے، یعنی جہاں بس ملے بس لو، جہاں لفٹ ملے لفٹ اور پیدل تو چلنا ہی تھا۔ میں اور میرا دوست پہلے لاہور سے پشاور پہنچے، جہاں سے افغانستان کا ویزہ لگوایا۔ شام کو کابل پہنچے اور ایک سستے سے ہوٹل میں قیام کیا۔ میرے پاس کل پاکستانی 2500 روپے تھے اور میرے دوست کے پاس 3500 روپے اور انھیں میں ہم نے اپنا سارا سفر کرنا تھا۔

مجید شیخ

،تصویر کا ذریعہMAJEED SHEIKH

،تصویر کا کیپشنمجید شیخ

ان دنوں کابل سے صبح چار بجے بس چلتی تھی جو دو دن میں ہرات پہنچاتی تھی۔ ہم پہلی رات اتنا سوئے کہ صبح چار بجے والی بس مس کر دی۔ لیکن اگلے دن جاگتے رہنے میں ہی عافیت جانی۔ ہرات سے مشہد کی بس، جہاں امام رضا کا مزار دیکھا۔ جس طرح افغانستان میں کابل کے سوا سب کچھ بہت پسماندہ تھا اسی طرح ایران بالکل ایک گاؤں لگتا تھا۔ لیکن وہاں بھی اچھی بات یہ تھی کہ وہ سفر کے لیے دوسرے ملکوں کے سٹوڈنٹ کارڈ بھی قبول کرتے اور رعایتی ٹکٹ دیتے تھے۔ ہم سٹوڈنٹ کارڈ استعمال کر کے تھرڈ کلاس ٹرین میں بیٹھے اور دو دن میں تہران پہنچے۔

تہران پہنچ کر تو ہماری آنکھیں ہی کھل گئیں۔ پورے ملک سے برعکس یہ تو ایک بہت ماڈرن شہر تھا، بڑی بڑی عمارتیں، جدید کاریں اور خوبصورت ماڈرن لڑکیاں۔ وہیں ذرا اور رہنے کو دل چاہا، لیکن ہم تو مسافر تھے اور ہمیں تو ابھی بہت دور جانا تھا۔

بس پکڑی اور ترک سرحد پر پہنچے۔ وہاں بھی ایک عجیب سا دھچکہ لگا جو ہمارے لیے نیا تھا۔ ترک فوجی نے ہمارے پاسپورٹ دیکھ کر جو پہلا سوال کیا وہ تھا شیعہ ہو یا سنی۔ بہت حیرت ہوئی لیکن ہم نے اس پر قابو پا ہی لیا۔ جب بتایا سنی تو اس نے خوش آمدید کہا۔ پاکستان میں ابھی یہ بلا اس شکل میں نہیں آئی تھی۔

خیر خدا خدا کر کے استنبول پہنچے جس میں بس اور فیری کا سفر بھی شامل تھا۔ وہاں ہمیں ہم جیسے دو فرانسیسی نوجوان مسافر ملے جن سے دوستی ہو گئی۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ بیوقوفو پیسے سے کون سفر کرتا ہے، لفٹ لیا کرو۔ اور ان سے ہم نے لفٹ لینا سیکھا۔ ہم دو دو میں بٹ گئے، ایک فرانسیسی میرے ساتھ اور دوسرا میرے دوست کے ساتھ۔ اس طرح ہم یونان پہنچے۔ اب ہم ذرا سیانے ہو گئے تھے اس لیے ہم نے فوراً ہی دو جرمن نوجوانوں کو ڈھونڈ لیا جن کے پاس کار تھی اور وہ ہم چاروں کو لفٹ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ انھوں نے ہمیں جرمنی اتارا۔ لیکن یہ سفر بہت خوبصورت تھا جو یوگوسلاویہ، اٹلی، سابق چیکو سلواکیہ، رومانیہ اور بلغاریہ سے ہوتا ہے ہمیں فرانس لے گیا۔ خیر 10 دن بعد فرانس پہنچے۔ لیکن اس وقت تک سب پیسے ختم ہو چکے تھے۔

مجید شیخ اپنے سکول کے دوستوں اور اساتذہ کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہMAJEED SHEIKH

،تصویر کا کیپشنمجید شیخ کو سکول کے زمانے سے ہی سیاحت کا بڑا شوق تھا اور وہ دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر چین کی سرحد تک چلے جاتے تھے

ہمارا جو فرانسیسی دوست تھا اس نے ہمارا یہ کام بھی آسان کر دیا۔ وہ ہمیں انگوروں کے ایک باغ میں لے گیا، اس کے مالک سے بات کی اور اسے ہمارے متعلق بتایا کہ ہم سٹوڈنٹ ہیں۔ سو ہمیں انگور توڑنے اور رات کو انھیں پیروں سے گوندھنے کا کام ملا جس سے وائن بنائی جاتی تھی۔ وہ ایک اچھا تجربہ تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک پاکستانی طالب علم کو امیر بنانے کا کام بھی۔ مجھے اس کام کے کل 5900 پاکستانی روپے ملے جو اس سے کہیں زیادہ تھے جو میں پاکستان سے لے کر چلا تھا۔ پھر وہاں سے فیری لے کر لندن پہنچا۔

لیکن واپسی کا سفر بھی کوئی کم ایڈوینچر نہیں تھا۔ کیونکہ میرا دوست ایک ماہ کے لیے لندن رک گیا تھا، اس لیے مجھے اکیلے ہی واپس پاکستان جانا پڑا۔ جیب میں پیسے بھی تھے اور کچھ الگ کرنے کی جستجو بھی، سو میں نے سوچا کیوں نہ ٹرین سے واپس جایا جائے۔ میں نے فرانس سے ٹرین لی لیکن سابق یوگوسلاویہ کے بارڈر پر پتہ نہیں کیوں مجھے روک لیا گیا۔ میں نے بہت سمجھایا کہ میں کچھ دن پہلے ہی تو یہاں سے گیا ہوں اور اس وقت کسی نے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ لیکن کسی نے ایک نہ سنی، اب ان کا کہنا تھا کہ ویزہ لے کے آؤ۔ خیر مجھے اٹلی بھیج دیا گیا، رات ہو گئی تھی۔ پولیس والا کوئی رحم دل تھا۔ کہنے لگا مجھے یقین ہے کہ تم ایک طالب علم ہو جو بدقسمتی سے یوگوسلاویہ کی سرحد پر پھنس گئے ہو۔ رات یہاں رک جاؤ صبح چلے جانا۔ اگر میں تمہیں سلاخوں کے پیچھے بند کر دوں تو مجھے تمھیں قانوناً مفت کھانا اور بستر بھی دینا پڑے گا۔ اگر ڈرو نہیں تو ایسا ہو سکتا تھا۔ مجھے نہیں لگا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ صبح میں تھانے سے نکل کر باہر گھوم رہا تھا کہ مجھے ایک بہت ہی شاندار مرسڈیز گاڑی میں ایک انڈین ملا جس کا کاروبار ہی یہ تھا کہ وہ اچھی مہنگی گاڑیاں انڈیا لاتا اور انھیں بیچتا۔ وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا اور مجھ سے اردو میں بات کی۔ میں نے جب اسے اپنا مسئلہ بتایا تو اس نے کہا میں بھی انڈیا جا رہا چلو ساتھ ہی چلتے ہیں۔ خیر ویزہ لیا اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ شاید ان دنوں نوجوانوں میں اتنا خوف نہیں تھا۔ اس طرح میں اس کے ساتھ آرام سے مفت پاکستان پہنچا۔

ان دنوں سب کچھ سادہ اور سستا تھا لیکن اگر آپ اب بھی ڈھونڈیں تو شاید مل جائے گا۔ ایڈونچر ختم نہیں ہونا چاہیئے۔‘

دلیپ کمار کی فلم اور کابل کے سنیما

طارق رحمان پاکسان کے شہر اسلام آباد میں ایک بزنس مین ہیں اور سوفٹ ویئر کا کام کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی سفر ختم نہیں ہوا۔ حالات جیسے بھی ہوں نوجوانوں کو احتیاط کے ساتھ اپنی زندگی جینے کا مکمل حق ہونا چاہیئے اور لمبے لمبے ایڈونچر والے سفر چاہے وہ بس سے ہوں یا گاڑیوں، ٹرینوں سے جوانی میں ضرور کرنے چاہیئں۔

طارق رحمان انگلینڈ میں رہتے تھے لیکن 1985 میں انھوں نے کار میں انگلینڈ سے پاکستان کا سفر کرنے کی ٹھانی اور وہ بھی اپنی بیوی، بہن اور ایک تین سالہ بچے کے ساتھ۔ انھیں سے سنیے ان کے سفر کی کہانی۔

طارق رحمان

،تصویر کا ذریعہTARIQ REHMAN

،تصویر کا کیپشنطارق رحمان کہتے ہیں کہ جوانی میں ہی ایڈونچر کر لینے چاہیئں کیونکہ یہ عمر واپس نہیں آنی

’ہمارا سفر کل 16 دن کا تھا، یورپ کی سڑکیں تو بالکل صاف اور خالی تھیں اس لیے ہم بغیر کسی مسئلے کے ترکی تک پہنچ گئے۔ ہم نے تین دن ترکی میں قیام کیا جہاں ہمیں بہت پیار ملا۔ استبول کے ایک ریستوران میں جب ملازم کو پتہ چلا کہ ہم پاکستانی ہیں تو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے شیف کے پاس لے گیا اور اسے بتایا کہ میں پاکستانی ہوں۔ اس نے بہت اصرار کیا کہ میں اپنی پسندیدہ ڈش بتاؤں تاکہ وہ اسے ہمارے لیے تیار کرے۔ لیکن مجھے ترک ڈشز کے بارے میں پتہ نہیں تھا۔ خیر اس نے خود ہی پھر ایک نہایت لذیذ ڈش بنائی۔ سب کچھ انتہائی سستا اور عمدہ تھا۔

ایران میں بھی ہم تین دن رکے لیکن کیونکہ یہ ایرانی انقلاب کے بعد کا دور تھا یہاں ذرا سختی تھی۔ ہماری ساری چیزیں چیک کی گئیں اور ہمیں بتایا گیا کہ نہ تو گاڑی سے کوئی چیز نکلے اور نہ ہی آئے۔ جو چیزیں ہمارے پاس ہیں ہم ان کے ساتھ ہی ملک سے باہر نکلیں۔ پولیس کی ایک ایسکورٹ گاڑی ہمارے ساتھ نکلی اور ہمیں بارڈر تک چھوڑ کے آئی۔ اس نے ہم سے سو ڈالر چارج کیے جو کہ ان کی سرکاری ’ایسکورٹ فی‘ تھی۔

خیر وہاں سے زاہدان، تفتان، دلبندین، نوشکی سے ہوتے ہوئے کوئٹہ پہنچے۔ لیکن اگر کوئی کہے کہ ہم کہیں بھی ڈرے تھے تو بالکل نہیں۔ وہ دور اور تھا۔

میں آپ کو بتاؤں کہ ہم طالب علمی کے دنوں میں بھی اکثر انڈین فلم دیکھنے بس پر بیٹھ کر کابل چلے جاتے تھے، کیونکہ وہاں انڈین فلمیں سنیما گھروں میں دکھائی جاتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں اور میرے دوست دلیپ کمار کی مغلِ اعظم دیکھنے کابل گئے تھے۔ تورخم سے آگے کابل تک بس چلتی تھی اور کوئی ڈر نہ تھا۔ شاید اب نوجوان نسل اس طرح کابل جانے کا سوچ بھی نہ سکے۔ لیکن میں پھر بھی کہوں گا کہ اگر ایڈونچر کرنا ہے، زندگی کا مزہ لینا ہے تو اسی عمر میں لیں۔ اگر میرا بیٹا بھی مجھے اب ایسا کرنے کا کہے تو میں اسے اجازت دے دوں گا۔‘

نوٹ: مجید شیخ اور طارق رحمان کے پاس ان کے اس ایڈونچر کی کوئی تصاویر نہیں ہیں کیونکہ بقول طارق رحمان کے اس بات کو تقریباً 40 سال ہو چکے ہیں اور اگر کوئی تصویر تھی بھی تو پتہ نہیں کہاں ہے۔ اور مجید شیخ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس تو اتنے پیسے ہی نہیں ہوتے تھے کہ کیمرہ خرید سکیں اور تصاویر اتاریں۔ بس ایک ہی جنون تھا کہ دنیا دیکھنی ہے۔