کراچی پی آئی اے کے طیارہ کا حادثہ: قومی فضائی کمپنی نے ’مشتبہ لائسنس‘ کے حامل 141 پائلٹس گراؤنڈ کر دیے

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی قومی فضائی کمپنی، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے غیر ملکی سفیروں اور شعبہ ہوا بازی کے عالمی نگراں اداروں کو مطلع کیا ہے کہ پی آئی اے سے وابستہ مشتبہ لائسنس کے حامل تمام 141 پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔
پی آئی اے کے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک نے تمام سفیروں اور عالمی نگراں اداروں کو ایک خط کے ذریعے اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔
اس حوالے سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے سے وابستہ مشکوک لائسنس کے حامل 141 پائلٹوں میں سے 17 پائلٹ پہلے ہی معطل تھے تاہم اب باقی رہ جانے والے پائلٹس کو بھی گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔
پی آئی اے نے ان تمام 141 پائلٹس کی ناموں کی فہرستیں بھی جاری کی ہیں۔
اس سے قبل وزارت ہوا بازی نے 262 پائلٹس کی لسٹ جاری کی تھی۔ وزارت ہوا بازی کا کہنا ہے کہ ان پاکستانی پائلٹس کے پاس مشتبہ لائسنس ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
262 پائلٹس میں سے 141 پاکستان کی قومی ایئر لائن، پی آئی اے، سے وابستہ ہیں، نو نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو جبکہ دس سریئن ایئر میں کام کر رہے ہیں۔
وزارت ہوا بازی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اوسطاً 'ایک تہائی پائلٹس' مشتبہ لائسنس کے حامل ہیں۔
یاد رہے کہ 24 جون کو پارلیمان میں مئی کے مہینے میں پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کے تباہ ہونے والے حادثے کی ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان نے یہ انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں متعدد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر بہت سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ پی آئی اے کی پروازیں بہت سے بین الاقوامی روٹس پر بھی چلتی ہیں۔
غلام سرور نے پارلیمان کو آگاہ کیا تھا پاکستان میں لائسنس یافتہ کمرشل پائلٹس کی تعداد 860 ہیں جن کے لائسنسز کی تصدیق ایک طویل مرحلہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی انکوئری کی گئی جس کے مطابق 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہیں۔
وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ متعدد پائلٹس نے چھٹی والے دن پیپر دے کر لائسنس حاصل کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ چند پائلٹس نےاعتراف کیا کہ ان کےلائسنس جعلی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایسےتمام پائلٹس کو چارج شیٹ کیا جائے گا اور ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جعلی لائسنس والے پائلٹس کےخلاف فوجداری مقدمات بھی درج کیےجائیں گے۔'
صحافی طاہر عمران نے چند روز قبل یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ آخر پائلٹس کی ڈگری جعلی ہونے کا مطلب کیا ہے اور جعلی لائسنس کا کیا مطلب ہے۔
جعلی لائسنس کا کیا مطلب ہے؟ اور یہ سلسلہ کب شروع ہوا؟
جعلی لائسنس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو پائلٹس اس فہرست کا حصہ ہیں انھیں طیاروں کے بارے میں نہیں پتا یا انھیں طیارے اڑانے نہیں آتے۔
درحقیقت سنہ 2012 میں پائلٹس کے لیے متعارف کروائے گئے نئے امتحانی نظام میں موجود چند مسائل کی وجہ سے ان پائلٹس کی قابلیت پر سوالیہ نشان لگا۔
سنہ 2012 سے قبل یہ تمام پائلٹس لائسنس کی بنیاد پر قابل اور درست تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب بھی ان کے پاس پاکستان سول ایوی ایشن کا جاری کردہ لائسنس ہے جو بالکل اصل اور مصدقہ ہے۔
مگر جس امتحان کے نتیجے میں وہ جاری کیا گیا ہے اس پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBLOOMBERG
تو اس جرم میں پائلٹس سے زیادہ سول ایوی ایشن اور خصوصاً اس کا لائسنسگ کا شعبہ مشکوک ہے جس نے ان پائلٹس کو کسی بھی وجہ سے ان مبینہ طور پر مشکوک امتحانات کے نتیجے میں لائسنس جاری کیے۔
یہاں اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جہاں ان پائلٹس کے جعلی لائسنس کا ذکر ہوتا ہے وہاں اس بات کا بالکل بھی ذکر نہیں کیا جاتا کہ یہ لائسنس کس نے اور کیوں جاری کیے؟
یاد رہے کہ یہ امتحانات سول ایوی ایشن کے دفتر میں سول ایوی ایشن کے کمپیوٹرز پر سول ایوی ایشن کی نگرانی میں سول ایوی ایشن کے نظام کے تحت لیے جاتے ہیں۔
انھیں چیک بھی سول ایوی ایشن کے لوگ کرتے ہیں، نمبر بھی وہی لگاتے ہیں، پاس اور فیل بھی وہی کرتے ہیں اور پھر نتیجہ نکال کر لائسنس بھی سول ایوی ایشن ہی جاری کرتی ہے۔
ڈگری جعلی ہونے کا کیا معاملہ ہے؟ کیا پائلٹ ہونے کے لیے تعلیمی قابلیت ضروری ہے؟
ڈگری جعلی ہونے کا بین الاقوامی طور پر پائلٹ بننے کے ساتھ کچھ خاص تعلق نہیں ہے اور دنیا میں چند ایسے افراد بھی ہیں اور گزر چکے ہیں جو بالکل ان پڑھ تھے مگر انھوں نے لائسنس لیے اور طیارے اڑاتے رہے۔
پی آئی اے کے بہت سے پائلٹس جنھیں پی آئی اے نے ڈگری کی بنیاد پر نکالا، اُن میں سے کئی سعودی عرب یا دوسرے ممالک میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ان میں ایک مشہور کیس کرکٹر وقار یونس کے بھائی فیصل یونس کا بھی ہے۔
یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ ڈگری کا تعلق ہر ایئرلائن کے ہیومن ریسورس قوانین کے ساتھ ہے اور بنیادی معاملہ اخلاقی دھوکہ دہی کا ہے نہ کہ تعلیم کی کمی کا۔
مگر بہت سے ماہرین یہ بات کہتے ہیں کہ ایک ایسے پیشے میں جس کا دارومدار ایمانداری اور انتہا درجے کے احساس ذمہ داری پر ہے اس کی بنیاد آپ جھوٹ پر رکھ کر کیسے آگے چل سکتے ہیں۔










