سعودی عرب کا محدود حج کا اعلان: عازمینِ حج کو جمع کرائے گئے پیسے واپس ملیں گے یا نہیں؟

حج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجن افراد نے فریضہِ حج کی ادائیگی کے لیے حکومت یا نجی کمپنیوں کو خطیر رقم جمع کروائی تھیں، اب میں سے کئی افراد کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ اب انھیں ان کے پیسے کیسے اور کس طرح مل پائیں گے
    • مصنف, اعظم خان، منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

رواں برس پاکستان سے ایک لاکھ 80 ہزار افراد نے فریضہِ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانا تھا، جن میں سے ایک لاکھ سات ہزار افراد سے حکومت نے براہ راست پیسے وصول کیے تھے۔ لیکن سعودی عرب کی حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر حج کے شرکا کی تعداد محدود رکھنے اور صرف سلطنت میں مقیم افراد کو حج کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے جس کے باعث اب یہ سب افراد اس برس حج نہیں کر پائیں گے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ’اس سال حج میں سعودی عرب میں ہی مقیم تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد کو حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔‘ عام طور پر سالانہ بیس لاکھ سے زیادہ افراد فریضہ حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال حج کے لیے آنے والوں کو مکہ مکرمہ پہنچنے سے قبل کورونا وائرس ٹیسٹنگ کے عمل سے گزرنا ہو گا اور واپسی پر بھی وہ قرنطینہ کے پابند ہوں گے۔

ایسے میں وہ افراد جنھوں نے فریضہِ حج کی ادائیگی کے لیے خطیر رقم جمع کروائی تھیں، اب میں سے کئی افراد کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ اب انھیں ان کے پیسے کیسے اور کس طرح مل پائیں گے اور کیا پوری رقم مل پائے گی یا اس میں کٹوتی ہو گی؟ اور اگر کٹوتی ہو گی تو کتنے فیصد؟

یہ بھی پڑھیے

تفصیلات کے مطابق حج کے لیے ہر درخواست گزار نے چار لاکھ ستتر ہزار روپے جمع کرائے تھے۔ شمال سے جانے والے درخواست گزاروں نے چار لاکھ نوے ہزار اور جنوب والوں نے چار لاکھ اسی ہزار روپے جمع کروائے تھے۔

ان میں سے جن درخواست گزاروں نے حکومت سے قربانی کے انتظامات کرنے کے لیے بھی درخواست دی تھی، انھوں نے مزید 23 ہزار روپے بنک میں جمع کرائے تھے۔

حج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجن درخواست گزاروں نے حکومت سے قربانی کے انتظامات کرنے کے لیے بھی درخواست دی تھی، انھوں نے مزید 23 ہزار روپے بنک میں جمع کرائے تھے

نجی طور پر حج پر جانے والوں کی تعداد تقریباً 70 ہزار بنتی ہے۔

نجی آپریٹر معاذ خاکوانی کے مطابق نجی کمپنیوں کے مختلف پیکیجز کی منظوری بھی حکومت خود ہی دیتی ہے۔ ان کے مطابق سب سے کم پیکج پانچ لاکھ اور 30 ہزار سے شروع ہوتا ہے۔

مذہبی امور پر نظر رکھنے والے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں کے مختلف پیکج ہوتے ہیں، اور سہولیات کے اعتبار سے ہر پیکج کی رقم مختلف ہوتی ہے۔

’ائیر لائن کی بزنس کلاس میں سفر سے لے کر، ہوٹل جانے والی وی آئی پی کاروں اور فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے سے کعبے کے منظر تک، یہ اور ایسی بے شمار سہولیات ان پیکیجز میں شامل ہوتی ہیں اور ہر ہیکیج کی رقم اسی حساب سے وصول کی جاتی ہے۔‘

تاہم حکومت نے نجی ٹور آپریٹیرز کو حج کے خواہشمند افراد سے پیسے جمع کرنے سے منع کر دیا تھا۔

لیکن معاذ خاکوانی کے مطابق ’حکومت کے منع کرنے تک تقریباً 12 فیصد درخواست گزار حج کے لیے اپنا پیسا جمع کرا چکے تھے۔‘

حج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزارت مذہبی امور کے وفاقی وزیر نورالحق قادری نے تصدیق کی کہ 'پاکستان کی حکومت حج کے لیے جمع کیے گئے پیسے درخواستوں گزاروں کو بغیر کسی کٹوتی کے واپس کر دے گی اور جن لوگوں نے اس سلسلے میں رقوم بنکوں میں جمع کروائی تھیں وہ اپنے اپنے پیسے واپس لے سکتے ہیں‘

مذہبی امور پر نظر رکھنے والے ایک صحافی کے مطابق ’جن درخواست گزاروں کی درخواستیں مسترد ہو جاتی ہیں اور وہ حج پر نہیں جا پاتے، حکومتِ پاکستان ہر سال ان سب افراد کو ان کے جمع کرائے گئے پیسے واپس کر دیتی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ صرف ان کمپنیوں یا ٹور آپریٹرز کے لیے بنے گا جنھوں نے ہوٹلوں، کاروں، کھانے اور سعودی عرب میں حجاج کرام کو مختلف امور میں معاونت فراہم کرنے اور حج کے علاوہ مختلف مقامات کی سیر وغیرہ کروانے والے افراد کو پیشگی ادائیگی کر دی تھی۔۔۔ انھیں رقم کی واپسی میں مسائل کا سامنا پیش آ سکتا ہے۔‘

بی بی سی بات کرتے ہوئے وزارت مذہبی امور کے وفاقی وزیر نورالحق قادری نے تصدیق کی کہ ’پاکستان کی حکومت حج کے لیے جمع کیے گئے پیسے درخواستوں گزاروں کو بغیر کسی کٹوتی کے واپس کر دے گی اور جن لوگوں نے اس سلسلے میں رقوم بنکوں میں جمع کروائی تھیں وہ اپنے اپنے پیسے واپس لے سکتے ہیں۔‘

یاد رہے حکومت نے گذشتہ سال اضافی لیے گئے ساڑھے پانچ ارب واپس کر دیے تھے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر کوئی پیسے واپس نہیں لینا چاہتا تو آئندہ برس انھیں بغیر قرعہ اندازی کے حج کے لیے ترجیح دی جائے گی۔‘

نورالحق قادری کے مطابق حکومت آج وفاقی کابینہ کےاجلاس کے بعد اس سلسلے میں اپنی پالیسی واضح کر دے گی۔ترجمان وزارت مذہبی امور عمران صدیقی کے مطابق کابینہ اجلاس کے بعد وزارت مذہبی امور میں ایک اجلاس ہو گا، جس کے بعد وزارت اپنے فیصلوں سے آگاہ کرے گی۔ ان کے مطابق جو پاکستانی سعودی عرب میں ہیں وہ اس بار حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے، تاہم ابھی یہ تفصیلات آنا باقی ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت حج سے متعلق کیا ضابطہ اخلاق جاری کرتی ہے۔

گیٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمذہبی امور پر نظر رکھنے والے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں کے مختلف پیکجز ہوتے ہیں، اور سہولیات کے اعتبار سے ہر پیکج کی رقم مختلف ہوتی ہے

نجی کمپنیاں یا ٹور آپریٹرز اگر رقم کی واپسی میں حیل و حجت سے کام لیں تو اس سلسے میں کیا کوئی حکومتی پالیسی موجود ہے؟

ترجمان مذہبی امور کے مطابق حکومت نے پہلے ہی نجی کمپنیوں کو درخواست گزاروں سے پیسے جمع کرنے سے منع کر دیا تھا۔ تاہم اگر کچھ لوگوں نے پیسے جمع کرا دیے تھے تو پھر اس صورت میں یہ کمپنیاں حکومت کی پالیسی کے مطابق درخواست گزاروں کو پیسے واپس کرنے کی پابند ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا ’کوئی بھی کمپنی اگر حکومتی پالیسی کی خلاف ورزی کرتی ہے تو پھر ایسی صورت میں حکومت ایسی کمپنی کے خلاف براہ راست کارروائی عمل میں لا سکتی ہے۔‘

ایک نجی آپریٹر کے مطابق یہ پیسے بھی بینک میں ہی جمع کرائے جاتے ہیں اور پھر حکومت جو بھی طریقہ کار وضع کرتی ہے، اس کے مطابق درخواست گزاروں کو یہ واپس مل جاتے ہیں۔