حج کے اخراجات میں اضافہ پر اپوزیشن کا احتجاج، حکومت کا سبسڈی دینے سے انکار

،تصویر کا ذریعہfazray Iismail
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے حج سبسڈی ختم کرنے اور حج کے اخراجات میں 63 فیصد اضافہ کرنے کے فیصلے پر جہاں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے ایک دن پہلے کابینہ کا اجلاس چھوڑ کر جانا مناسب سمجھا وہیں آج حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی احتجاج کیا ہے۔
جمعے کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں نے سبسڈی کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔
مدینہ کی ریاست کا کیا بنا؟
حج اخراجات میں اضافے کے فیصلے حوالے سے جماعتِ اسلامی کے رکن مشتاق احمد نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے دعوی کیا تھا کہ مدینہ کی ریاست بنائیں گے لیکن اس کوشش میں ان کی طرف سے پیش کردہ حج پالیسی مایوس کن ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق، وزارتِ مذہبی امور کے وزیر نے حکومت کو حج کے لیے 45000 فی کس سبسڈی شامل کرنے کی تجویز دی تھی جس کو حکومت کی طرف سے یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا کہ جو لوگ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کو حج نہیں کرنا چاہیے۔
سبسڈی جائز ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
وفاقی وزارتِ مذہبی امور کے وزیر کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کو خط لکھا گیا تھا کہ آیا سبسڈی جائز بھی ہے یا نہیں؟
اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جنوری 30 کو منعقد کیے گیے ایک اجلاس میں کہا گیا کہ نہ صرف حج کی مراعات دینا جائز ہے بلکہ ریاست کی ذمہ داری بھی ہے، حج جیسی عبادات میں سہولت دینی چاہیے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین قبلہ ایاز نے بتایا کہ سفارشات دینے کے باوجود اس کہ برعکس فیصلہ ہوا۔
’فیصلہ یہ ہوا کہ ملک کی معاشی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی اور سبسڈی دینے سے انکار کردیا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی عرب کی طرف سے ٹیکس میں اضافہ
وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے حکومت پر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کے لیے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’حج اور زکوۃ دو عبادات ہیں جو استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہیں، سبسڈی کا مطلب یہ ہے کہ حکومت غریب لوگوں سے رقم لے کر حج کرائے یہ حج عبادت کی بنیادی فلاسفی سے متصادم ہے۔‘
وفاقی کابینہ کی 2019 کی حج پالیسی میں پچھلے سال سے اب تک ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے جو حج پر جانے والے ہر شخص پر لاگو ہوگا۔ اس کے بعد حج پر جانے والوں کو 4 لاکھ سے زیادہ رقم ادا کرنی ہوگی۔
’حکومت فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرے گی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پچھلی حکومت نے حج کو سبسیڈایز کیا تھا۔ ’حالانکہ حج اور زکوۃ تو دو عبادات ہیں جو صاحبِ استطاعت کے اوپر واجب ہیں۔ سبسڈی کا مطلب تو یہ ہوگیا کہ آپ کسی اور مد سے پیسے نکالیں گے اور کسی اور کو دے دیں گے۔ تو ایک ملک جو پہلے ہی مالی بحران سے گزر رہا ہے اس میں ہم ساڑھے چار ارب روپے نکال کر دے رہے ہیں۔ اور حاجیوں کو اس کا بہت بڑا فائدہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ فی کس جو سبسڈی ہے وہ بہت کم بنے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ حج اخراجات میں اضافے کی اصل وجہ سعودی عرب کی طرف سے لگنے والے اضافی ٹیکس اور ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے آیا ہے۔
’اب یہ کہنا کہ ہم سعودی عرب سے پیسے لیں اور سعودی عرب کو حج کو سبسیڈائز کرنے کے لیے ٹیکس میں واپس دے دیں تو یہ پھر کافی مضحکہ خیز بات ہے۔‘
حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کرنے پر انھوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم سیاست کے لیے مذہب کو استعمال کرنا انتہائی جائز سمجھتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین قبلہ ایاز نے اس بارے میں کہا کہ وزیرِ اطلاعات کی طرف سے کہی گئی بات حکومت کی طرف سے دی گئی ایک دلیل ہے۔ ’لیکن اس بارے میں دیگر دلائل کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ استطاعت کی تعریف کو اس قدر مشکل بھی نہ بنایا جائے کہ وہ لوگوں کی دسترس سے باہر نکل جائے۔ اور حج جیسی اہم عبادت کی تکمیل کے لیے لوگوں کے لیے مشکلات پیش آجائیں۔‘
اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایک سکیورٹی گارڈ علی وزیر نے کہا کہ ان کے خاندان کے بہت سے لوگ حکومت کی طرف سے دی گئی حج مراعات کی وجہ سے حج کر پائے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حج کے لیے معاشی طور پر صاحبِ استطاعت ہونا ضروری ہے لیکن اگر حکومتِ وقت کی طرف سے اس میں مدد ہو تو کئی لوگوں کی دیرینہ خواہش پوری ہوسکتی ہے۔اور یہ ثواب کا کام بھی ہے۔‘









