کراچی میں رینجرز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی سندھو دیش ریولیشنری آرمی کون ہے؟

کراچی

،تصویر کا ذریعہHameed

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں احساس پروگرام کے سینٹر کے باہر دستی بم حملے میں ایک شخص ہلاک اور رینجرز کے اہلکار سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعے کے روز سوا گیارہ بجے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں انجمن اسلامیہ سکول کے قریب پیش آیا۔ ہولیس افسر گلشن اعجاز بھٹی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت لوگ احساس کفالت پروگرام کی رقم وصول کرنے کے لیے اندر موجود تھے جبکہ گیٹ کے باہر ان کے ساتھ آنے والے لوگ انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں یہ دستی بم آکر گرا۔

اعجاز بھٹی کا کہنا تھا کہ گیٹ کے باہر پولیس اور رینجرز دونوں کی موبائل موجود تھیں۔

دوسری جانب شمالی سندھ کے شہر گھوٹکی میں صبح ساڑہ نو بجے کے قریب گھوٹا مارکیٹ کے علاقے میں رینجرز کی ایک گاڑی کے نزدیک دھماکہ ہوا۔

ڈی ایس پی عبدالقادر چاچڑ کے مطابق اس دھماکے میں ایک راہ گیر مصطفی سمیت رینجرز کے دو اہلکار ظہور احمد اور فیاض شاہ ہلاک ہوگئے جبکہ سپاہی امتیاز حسین سمیت دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کالعدم تنظیم سندھو دیش ریولیشنری آرمی نے کراچی اور گھوٹکی میں رینجرز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے نیاز لاشاری کو قومی سلام پیش کرتے ہوئے کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کی مرکزی کمیٹی کے رکن نیاز لاشاری کی تشدد شدہ لاش قومی شاہراہ اور سپر ہائی وے لنک روڈ سے ملی تھی، ان کے ورثا کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ڈیڑہ سال سے لاپتہ تھے۔

سندھ کے ایڈشنل آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی ڈاکٹر جمیل احمد نے دعویٰ کیا کہ کراچی اور گھوٹکی حملوں میں مقامی گروپ ملوث ہے، جس کو بلوچستان کے عسکریت پسندوں، پڑوسی ملک اور لندن گروپ کی حمایت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس گروپ کو بلوچستان کے عسکریت پسندوں نے تربیت فراہم کی ہے اور جو باروی مواد استعمال کرتے ہیں وہ مقامی طور پر دستیاب ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی دھماکے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کی شناخت کاشف کے نام سے ہوئی ہے جو ناظم آباد کا رہائشی تھا اور دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو عباسی شہید اور سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

کراچی

،تصویر کا ذریعہHameed

،تصویر کا کیپشنکالعدم سندھودیش ریولیشنری آرمی نے کراچی اور گھوٹکی میں رینجرز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل گلستان جوہر میں رینجرز کی موبائل گاڑی اور چوکی پر دستی بم حملے کیے گئے تھے جن میں ایک اہلکار زخمی ہوگیا تھا، جس کے بعد انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری غیر معروف کالعدم تنظیم سندھو دیش ریولیشنری آرمی نے قبول کی تھی۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر عمران اسماعیل نے کراچی اور گھوٹکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔

گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ احساس پروگرام کے مراکز کو سکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔

سندھو دیش ریولیشنری آرمی کون ہے؟

حکومت پاکستان نے گزشتہ ماہ تخریب کاری اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزام میں سندھو دیش ریولیشنری آرمی نامی گروپ پر پابندی عائد کی تھی۔

سندھ کے قوم پرست عسکریت پسند گروپ کا قیام 2010 میں عمل میں لایا گیا، کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ میں اندرونی اختلافات اس گروپ کے قیام کی وجہ بنی تھی۔ اس سے قبل تحقیقاتی ادارے کالعدم سندھ لبریشن آرمی کا تعلق جیئے سندھ متحدہ محاذ سے جوڑتے آئے ہیں۔

سندھو دیش ریولیشنری آرمی گلشن حدید میں چینی انجنیئروں کی گاڑی، سکھر میں سی پیک اہلکاروں سمیت کراچی میں ایک ایچ او اور رینجرز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے، یہ عسکریت پسند گروپ چین پاکستان اقتصادی راہدری کا مخالف ہے اور سندھ کے معدنی وسائل پر مقامی حقوق کا حامی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

سندھو دیش ریولیشنری آرمی کو اصغر شاہ گروپ بھی کہا جاتا ہے، جس کا سربراہ شاہ عنایت کے نام سے پہچان رکھتا ہے۔ اصغر شاہ 2005 میں گرفتار ہوئے اور پانچ سال کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی جس کے بعد انھوں نے اپنا گروپ بنانے کا فیصلہ کیا۔

کالعدم سندھو دیش ریولیشنری آرمی کا کہنا ہے کہ جئے سندھ متحدہ محاذ کے سربراہ شفیع برفت مسلح جدوجہد سے دستبردار ہوگئے تھے، جبکہ اس عرصے میں ان کے 40 ساتھی ہلاک کیے گئے اور اس بات پر اختلافات سامنے آئے۔ واضح رہے کہ شفیع برفت اور ان کے ساتھی اس وقت جرمنی میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سندھ میں علیحدگی کی تحریک تو انیس سو ستّر سے جاری ہے لیکن اس میں مزاحمتی رنگ 2000 میں آیا جبکہ جئے سندھ متحدہ محاذ کا دوسرا جنم ہوا ہے۔

نومبر 2000 کی سرد شام کو شفیع محمد برفت کی قیادت میں دو درجن افراد نے جیئے سندھ متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی۔

اس تنظیم کے آئین میں وہ تمام نکات شامل ہیں جو جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے رکھے تھے لیکن ایک نکتے کا اضافہ کیا گیا وہ تھا مزاحمت یا عسکریت پسندی۔

ابتدائی طور پر دادو کے علاقے میں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن، حیدرآباد، کوٹڑی، خیرپور، نوشہرو فیروز اور جامشورو سمیت مختلف علاقوں میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کیے گئے اور ان واقعات کی ذمہ داری سندھ لبریشن آرمی نامی غیر معروف تنظیم قبول کرنے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب بلوچستان میں مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔

2003 سے پاکستان کے ریاستی ادارے سرگرم ہوئے اور سندھ سے گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ٹنڈو محمد خان، میھڑ، خیرپور ناتھن شاھ، حیدرآباد، خیرپور، شہدادکوٹ، رتودیرو سمیت کئی شہروں سے درجنوں قومپرست کارکن لاپتہ ہوگئے، جن میں سے کئی نے رہا ہونے کے بعد قومی دہارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

ماضی میں سندھی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کیے گئے حملے

یاد رہے کہ سنہ 2013 میں کراچی میں چین کے سفارتخانے کے باہر ایک ہلکی نوعیت کے دھماکے، 2016 میں کراچی کے علاقے گلشن حدید میں چینی انجینیئر کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے علاوہ سکھر کے قریب سی پیک منصوبے کے اہلکاروں پر حملے کی بھی ذمہ داری یہ گروپ قبول کرتے رہے ہیں۔

اس سے قبل حیدرآباد میں 1987 میں اس وقت کے میئر آفتاب شیخ پر حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس حملے کا الزام جیے سندھ کے کارکنوں پر ہی عائد کیا گیا اور پولیس نے مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

آفتاب شیخ کا تعلق مہاجر قومی موومنٹ سے تھا۔

اگلے سال ستمبر 1988 میں حیدرآباد میں نامعلوم مسلح افراد نے سڑکوں پر عام لوگوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 150 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے اور اس کا مقدمہ ڈاکٹر قادر مگسی، شفیع برفت اور دیگر کے خلاف دائر کیا گیا۔

بعد میں عدالت نے قادر مگسی کو بری کر دیا اور شفیع بُرفت مفرور رہے۔ قادر مگسی اِس وقت سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ہیں اور شفیع برفت کالعدم جیے سندھ متحدہ محاذ کی سربراہی کر رہے ہیں اور اس وقت جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔

جی ایم سید، سندھ، پاکستان، قوم پرست، عبدالواحد آریسر

،تصویر کا ذریعہAslam Khairpuri

،تصویر کا کیپشنجسقم کا گذشتہ سال کا ایک پوسٹر جس میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی ہے

جیے سندھ تحریک کیا ہے اور ان کے کیا مطالبات ہیں؟

تین مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی میں سندھ کے سینیئر سیاستدان جی ایم سید نے پاکستان کے قیام کے لیے قرارداد پیش کی تھی۔ سندھ یہ قرارداد پیش کرنے والا پہلا صوبہ تھا۔

مگر انھی جی ایم سید نے 1973 میں سندھو دیش یعنی سندھ کے ایک آزاد حیثیت میں قیام کا تصور پیش کیا تھا۔

روا ں برس مئی میں سندھی ادیب اور تاریخ نویس خادم سومرو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وہ ہی وقت ہے جب 1973 کا آئین پیش کیا گیا تھا۔

آئین سازی سے پہلے جی ایم سید نے ذوالفقار علی بھٹو کو صوبائی خود مختاری یقینی بنانے کے لیے اور مذہبی شدت پسندی اور آمریت کا راستہ روکنے کے لیے تجاویز پیش کی تھیں جنھیں نظر انداز کر دیا گیا۔

خادم سومرو کے مطابق آئین منظور ہونے کے بعد جی ایم سید بدظن ہوگئے۔ ان کا خیال تھا کہ اس آئین کے تحت سندھ کو کبھی حقوق نہیں ملیں گے اور آخرکار حیدرآباد میں طلبہ کے ایک پروگرام میں انھوں نے پہلی بار سندھو دیش کا تصور پیش کیا۔

کالعدم جیے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کے چیئرمین اسلم خیرپوری کا کہنا تھا کہ وہ جی ایم سید کے نظریے کے پیروکار ہیں جس کے تحت ان کی منزل سندھو دیش ہے۔

لیکن ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی جماعت پرامن جدوجہد کر رہی ہے کیونکہ جی ایم سید نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا۔ انھوں نے 32 سال جیل اور نظر بندی میں گزار دیے لیکن تشدد کی حمایت نہیں کی۔

جی ایم سید، سندھ، پاکستان، قوم پرست، عبدالواحد آریسر
،تصویر کا کیپشن2015 میں وفات پا جانے والے قوم پرست رہنما عبدالواحد آریسر کی جماعت جسقم (آریسر) سندھ سے لاپتہ سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے بھی سرگرم تھی

ان کا کہنا تھا '2017 سے ہماری تنظیم کے خلاف ایک غیر اعلانیہ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے کئی کارکن جبری لاپتہ ہوئے اور اس وقت بھی ان کی تعداد 17 کے قریب ہے۔ اس طرح ہماری جدوجہد میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تھیں۔'

جسقم آریسر گروپ کے موجودہ چیئرمین اسلم خیرپوری کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ پرامن سیاسی جدوجہد کر رہے تھے لیکن یہ بھی ریاستی اداروں کو ناگوار گزرا اور انھیں کالعدم قرار دے دیا گیا۔

انھوں نے الزام لگایا تھا کہ اس فیصلے کے ذریعے انھیں اپنے حقیقی مطالبات اور شکایات عالمی ضمیر تک پہنچانے سے روکا جا رہا تھا، اور انھوں نے اسے 'بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی' قرار دیا تھا۔