سپر ہائی وے سے ملنے والی لاش ہمارے لاپتہ کارکن کی ہے: ایم کیو ایم لندن

آصف پاشا

،تصویر کا ذریعہPASHA

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں سپر ہائی وے سے ایک نوجوان کی ملنے والی لاش کے بارے میں ایم کیو ایم لندن کا دعویٰ ہے کہ مقتول آصف پاشا ان کا کارکن تھا جس کو کچھ عرصہ قبل حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔

کراچی کے علاقے سچل پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او صفدر عباسی کا کہنا ہے کہ سپر ہائی وے انصاری پل کے قریب سے بدھ کی صبح ایک نوجوان کی لاش ملی اور مقتول کی شناخت آصف پاشا کے نام سے ہوئی ہے جس کے سر پر دو گولیاں لگی ہوئی تھیں جبکہ لاش پرانی نہیں تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لاش آصف کے بھائی عاطف کے حوالے کر دی گئی ہے جس نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل کی درخواست دی ہے تاہم اس میں یہ نہیں تحریر کیا کہ ان کا بھائی لاپتہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی پولیس ریکارڈ کے مطابق آصف حسین پاشا کو سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کے دفتر پر حملے میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ اس حملے میں پاک سر زمین پارٹی کے دو کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

جبکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت مقدمے میں آصف حسین کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔

آصف پاشا

،تصویر کا ذریعہPASHA

گذشتہ برس فروری میں سندھ رینجرز کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں آٹھ مبینہ ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور ان کا سربراہ ایم کیو ایم ڈیفنس کے سیکٹر انچارج آصف حسین پاشا کو قرار دیا گیا اور اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ مفرور ہیں۔

دوسری جانب لندن سے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آصف پاشا کو 22 فروری 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا اگلے ہی روز رابطہ کمیٹی نے آصف پاشا اوردیگر کارکنوں کی گرفتاریوں پر مذمتی بیان بھی جاری کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 25 فروری 2019 کو رینجرز نے پریس کانفرنس میں دیگر کارکنوں کی گرفتاری ظاہر کی تاہم آصف پاشا کو مفرور قرار دیا تھا، اسی روز ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی نے اپنے بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ آصف پاشا کو کہیں ماورائے عدالت قتل نہ کر دیا جائے۔

ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ جب سے ایم کیو ایم نے سندھ کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا ہے، ریاستی آپریشن میں تیزی آ گئی ہے، پرامن جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنے اور ماورائے عدالت قتل کرنے کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

الطاف حسین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی حکومت نے ستمبر 2016 میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا

کراچی کے علاقے گلشن حدید سے جئے سندھ کے ایک کارکن نیاز لاشاری کی بھی مسخ شدہ لاش ملی جسے 18 ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ اور ایم کیو ایم لندن تنظیمی طور پر قریب ہیں، عبدالواحد آریسر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی کھل کر حمایت کرتے رہے ہیں۔

مقتول آصف پاشا کی اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر 31 جنوری 2017 کو آخری ٹویٹ موجود ہے جس میں انھوں نے ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کی حمایت کی تھی۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو ایک متنازع تقریر کی تھی، اسی روز بعض ٹی وی چینلز پر حملے بھی کیے گئے تھے اور الطاف حسین کی تقریر کو مقامی میڈیا اور سیاست دانوں نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف قرار دیا تھا۔ جس کے بعد سیاسی جماعت ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان میں تقسیم ہو گئی تھی۔