جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس: سپریم کورٹ کے جج کی اہلیہ اپنی جائیدادوں کے حوالے سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان دے پائیں گی یا نہیں، فیصلہ جمعرات کو ہوگا

جسٹس فائز عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

،تصویر کا کیپشنجسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موقف پیش کرنا چاہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی طرف سے عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوانے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود عدالت میں پیش ہو کر کہا ہے کہ ان کی اہلیہ اپنے اثاثوں سے متعلق ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں اپنا بیان دینا چاہتی ہیں۔

اس حوالے سے طویل بحث کے بعد عدالت نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ تحریری جواب کے ساتھ دستاویزات جمع کروائیں اور آیا ان کو ویڈیو لنک پر بیان دینے کا موقع ملے گا یا نہیں، یہ فیصلہ 18 جون کو اگلی سماعت میں کیا جائے گا۔

البتہ بدھ کی سماعت میں بینچ کے سربراہ نے یہ بھی کہا ہے کہ جوڈیشل کونسل صدر مملکت کے ہاتھوں قید نہیں ہو سکتی اور ان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس ریفرنس کو بے بنیاد کہہ سکتی ہے اور صدر مملکت سے جج کیخلاف کارروائی کیلئے مزید شواہد مانگ سکتی ہے۔

بدھ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جب ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کی جو تجویز دی تھی اس بارے میں وزیراعظم اور صدر مملکت سے مشاورت کی گئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اُنھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر اس ضمن میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کی اہلیہ کو بلائے اور عدالت اُن دونوں کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں اور ایف بی آر دو ماہ کے اندر اس بارے میں فیصلہ کرے۔

وفاق کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار یعنی قاضی فائز عیسیٰ نے منگل کو ایک جواب عدالت میں جمع کروایا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت حکومت کی دیگر شخصیات کی لندن میں جائیدادوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر ان کی ایک جائیداد بھی بیرون ملک ہو تو اسے نیلام کر کے پیسے قومی خزانے میں جمع کروائے جائیں۔

مزید پڑھیے

اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججوں نے ابھی اس جواب کا جائزہ نہیں لیا۔ وفاق کے وکیل اپنے دلائل دے ہی رہے تھے کہ اس دوران خود جسٹس قاضی فائز عیسی کمرۂ عدالت میں آئے اور انھوں نے عدالت سے کچھ کہنے کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے خلاف بھیجے گئے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں میں سے ایک میں درخواست دہندہ ہیں اور اس معاملے کی سماعت کے دوران پہلا موقع ہے کہ وہ کمرہ عدالت میں آئے جبکہ ان کی درخواست کی پیروی وکیل رہنما منیر اے ملک کر رہے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت سے کہا کہ ’یہ قاضی فائز عیسٰی کا مقدمہ نہیں ہم سب کا مقدمہ ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق اٹارنی جنرل کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ جج انھیں بچانا چاہتے ہیں۔

’اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی‘

قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ’اس عرصے کے دوران میرے اور میرے خاندان کے ساتھ کیا ہوا میں اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا‘۔

درخواست گزار کے مطابق ریفرنس سے پہلے ان کے خلاف خبریں چلائی گئیں اور ان کا کہنا تھا کہ اگر اُنھوں نے کچھ غلط کہا ہے تو بےشک عدالت ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکومت نے عدالتی تجویز سے اتفاق کیا ہے یعنی اس معاملے کو ایف بی آر میں بھجوا دیا جائے لیکن اُنھیں اس پر جواب دینا ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موقف پیش کرنا چاہتی ہیں اور ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی۔

جب جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کے بارے میں وفاق کے وکیل کے ریمارکس کی بات کی تو بینچ کے سربراہ نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ہمارے لیے آپ آپ محترم ہیں۔ آپ جج ہونے کے ساتھ ساتھ درخواست گزار بھی ہیں۔‘ اس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’مائی لارڈ، میں اس وقت درخواست گزار کی حیثیت سے ہی پیش ہوا ہوں‘۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کے ہاتھوں جوڈیشل کونسل قیدی نہیں بن سکتی، اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک آئینی باڈی ہے اور وہ کہہ سکتی ہے کہ ریفرنس بے بنیاد ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کونسل صدر مملکت سے جج کیخلاف کاروائی کیلئے مزید شواہد مانگ سکتی ہے

’آپ جذباتی ہو رہے ہیں‘

درخواست گزار نے کہا کہ حکومتی وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کی اہلیہ کو بلا سکتی ہے جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے تو خود انھیں ایک بار بھی بلا کر ان کا موقف نہیں سنا۔ جسٹس عیسیٰ نے یہ گلہ بھی کیا کہ اُنھیں تو ریفرنس کی نقل بھی فراہم نہیں کی گئی تھی۔

بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ وہ جذباتی ہو رہے ہیں تاہم قاضی فائز عیسیٰ نے اس بات سے انکار کیا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کے بیان پر غور کیا ہے اور یہ بیان درخواست گزار نے اپنی اہلیہ کی جانب سے دیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار کی اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا تاہم درخواست گزار سے کہا گیا ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے اپنا موقف دیں۔

اُنھوں نے کہا کہ تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی اہلیہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ ان (اہلیہ) کے والد کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے اور وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا موقف دینا چاہتی ہیں، اس لیے عدالت اُنھیں یہ موقع فراہم کرے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ کا موقف سننے کے بعد بینچ میں شامل معزز جج صاحبان جتنے مرضی سوال کریں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے اور اُنھیں خطرہ ہے کہ ’ایف بی آر کو اکاؤنٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر کوئی نیا ریفرنس نہ بنا دے۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اس ریفرنس کی وجہ سے ان کی اہلیہ کو بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے اور وہ اپنی اہلیہ کے موقف کے باوجود میں اپنی درخواست پر مقدمہ لڑیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ایف بی آر والے جج صاحب سے ڈرتے ہیں اور اگر ایف بی آر نے فیصلہ ان کے حق میں دیا تو پھر بھی یہی کہا جائے گا۔

’اگر آپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے تو بہتر ہوتا‘

سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ اُنھوں نے ‏منھ بند کر کے اس ریفرنس کو برداشت کیا لیکن ہر روز اس معاملے پر ٹی وی چینلز پر بحث کی گئی یہاں تک کہ صدر نے ایوان صدر میں بیٹھ کر اس معاملے پر تین انٹریوز دیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شہزاد اکبر، فروغ نسیم اور سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنسز بھی کیں۔

اس پر بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ اگر وہ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے تو بہتر ہوتا۔

بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عوام میں سے کوئی بھی شخص جوڈیشل کونسل میں رائے قائم کیے بغیر درخواست بھیج سکتا ہے تاہم اس کے برعکس صدر مملکت کو ریفرنس کونسل کو بھیجنے سے پہلے اپنی رائے قائم کرنا ہوگی۔

جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ کونسل کو ریفرنس بھیجنے سے قبل صدر مملکت کو اس چیز کا تعین کرنا ہوگا کہ ان کہ نظر میں ’مِس کنڈکٹ‘ ہوا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ رائے قائم کرنے سے قبل صدر کے سامنے کیا مواد موجود تھا۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جج کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا آئین میں تعین نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر صدر مملکت کہہ دے کہ ان کی نظر میں جج کا مِس کنڈکٹ ہے تو یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔

وفاق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم جوڈیش کونسل کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دیے گیے شوکاز میں جن الزامات کا ذکر ہے وہ ہی ریفرنس میں درج ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس غیر ملکی جائیدادوں کی ملکیت اور خریداری کے ذرائع کا ہے اور عدالت سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہر جج قابل احتساب ہے اور ججز اپنی نجی اور پبلک لائف پر جوابدہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدلیہ کی ساکھ کو ایک جج کے باعث متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بنیادی سوال مالی امور کا ہے، اس سوال کا جواب لیا جائے گا۔

کیا صدر مملکت ریفرنس واپس لے سکتے ہیں؟

صدر عارف علوی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PresOfPakistan

،تصویر کا کیپشنصدر مملکت عارف علوی نے ریفرنس کے بعد تین انٹرویوز دیے ہیں: درخواست گزار کا موقف

وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر ایک مرتبہ جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کر دے تو آئین کے آرٹیکل 211 کے تحت اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست گزار نے کونسل کے شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا نہیں کی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت کونسل کے پاس مواد آنے پر ازخود کارروائی کا اختیار بھی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل مواد ملنے پر جج کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز ہے۔

اس دلیل پر بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ اگر کونسل کے پاس ازخود کارروائی کا اختیار ہے تو کیا افتخار چوھدری کیس کا فیصلہ ختم ہو گیا۔ اُنھوں نے وفاق کے وکیل کو محاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس افتخار چوھدری کیس میں شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس وقت کے آرمی چیف اور فوجی صدر پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلا کر بٹھایا اور تذلیل کی۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ‏افتخار چوھدری کے خلاف کیس میں بد نیتی عیاں تھی۔

واضح رہے کہ فروغ نسیم سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف مختلف مقدمات میں ان کی طرف سے پیش ہوتے رہے ہیں۔

وفاق کے وکیل نے پوچھا کہ اس مقدمے میں بد نیتی کہاں ہے اور کہا کہ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ غیر جمہوری شخص ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منتخب نہ ہوتے۔

‏وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے دو ججز کے خلاف ریفرنس غلط تھا یا درست اس پر کونسل ایکشن لے چکی ہے۔

بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر ریفرنس فارغ بھی کر دیا جائے تب بھی شوکاز نوٹس اپنی جگہ رہے گا۔

بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ شوکاز نوٹس کے بعد کیا صدر مملکت ریفرنس واپس لے سکتے ہیں؟

وفاق کے وکیل نے جواب دیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر درخواست گزار کی استدعا کے باوجود مقدمہ واپس نہیں لینے دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ صدر مملکت ریفرنس دائر ہونے کے بعد واپس نہیں لے سکتے۔

کیا کونسل صدارتی ریفرنس پر انکوائری کیے بغیر اس کو ختم کر سکتی ہے؟

فروغ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریفرنس بنانے میں بدنیتی شامل ہے اور کونسل بدنیتی کا جائزہ نہیں لے سکتی۔

وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے موقع گنوا دیا ہے, اُنھیں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری ہونے سے پہلے کارروائی کو چیلنج کرنا چاہیے تھا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ آئین صدارتی ریفرنس اور عمومی ریفرنس میں امتیاز کرتا ہے۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کیا کونسل کہہ سکتی کہ وہ صدر مملکت کی بات نہیں مانتی۔

پھر جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال اٹھایا کہ کیا کونسل صدارتی ریفرنس پر انکوائری کیے بغیر اس کو ختم کر سکتی ہے؟

اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کے ہاتھوں جوڈیشل کونسل قیدی نہیں بن سکتی، اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک آئینی باڈی ہے اور وہ کہہ سکتی ہے کہ ریفرنس بے بنیاد ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کونسل صدر مملکت سے جج کیخلاف کاروائی کیلئے مزید شواہد مانگ سکتی ہے۔

وفاق کے وکیل نے کہا کہ کونسل صدر مملکت کو بھی ریفرنس کے حوالے سے سمن کرسکتی ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بھی کونسل نے نوٹس جاری کر کے طلب کیا تھا۔

اُنھوں نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ کیا ان کا مقدمہ یہی ہے کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نوٹس جاری کر دے تو آرٹیکل 211 کی رکاوٹ آ جاتی ہے جس پر فروع نسیم نے کہا کہ شو کاز نوٹس کے بعد کونسل کی کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔

’اس مقدمے میں بھی کچھ چیزیں سنگین ہیں‘

بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ عدالت ایگزیکٹو کو شتر بےمہار کی طرح نہیں چھوڑ سکتی اور ایگزیکٹو کے اختیارات کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی فیصلوں میں کچھ چیزوں کا تعین کیا گیا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ملک کی تاریخ اچھی نہیں رہی اور انتظامیہ کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت ہوتی رہی ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ وہ کسی شخص یا ادارے کے خلاف نہیں ہیں جس پر وفاق کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر آپ آئین اور قانون کے ساتھ ہیں تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نوٹس جاری کرے تو پھر اس کے بعد ایگزیکیو کے اختیارات ختم ہو جاتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ریفرنس میں کونسل کی بات بھی کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کی تشکیل مکمل نہ تھی اور ججز کو جہازوں پر لایا گیا تھا۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ افتخار چوہدری کے کیس میں کچھ چیزیں سنگین تھیں اور اس مقدمے میں بھی کچھ چیزیں سنگین ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں کچھ طے ہونا ہے اس میں اگر ہماری قربانی ہو جاتی ہے تو کوئی بات نہیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی چیز کی بنیاد غلط ہو تو کوئی ڈھانچہ کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اس پر وفاق کے وکیل نے کہا کہ ڈسپلنری باڈی صدر مملکت نہیں بلکہ جوڈیشل کونسل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک مواد آگیا ہے تو پھر ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ مواد اکھٹا کرنے میں کونسے ذرائع استعمال کیے گئے۔ بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا کونسل کے پاس بدنیتی کا جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

وفاق کے وکیل نے کہا کہ کونسل اپنی بصیرت کے مطابق جائزہ لیکر کارروائی کرتی ہے۔

منیر

،تصویر کا ذریعہHRW.org

’میرٹ پر فیصلہ چاہتے ہیں‘

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے اپنے موکل کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ ایف بی آر میں بھیجنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میرٹ پر مقدمے کا فیصلہ کرے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ اُنھوں نے یہ مقدمہ اس لیے نہیں لیا تھا کہ یہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا مقدمہ ہے بلکہ اُنھوں نے یہ مقدمہ عدلیہ کی آزادی کے لیے لیا۔

منیر اے ملک نے کہا کہ جس قسم کی مہم ان کے موکل کیخلاف چلائی گئی اس کے بعد وہ میرٹ پر فیصلہ چاہتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ تحریری جواب کے ساتھ دستاویزات دے دیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ کو ویڈیو لنک پر بیان دینے کا موقع دینا یا نہیں فیصلہ 18جون کو ہوگا۔

ان درخواستوں کی سماعت 18 جون تک ملتوی کردی گئی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز عدالت عظمیٰ کے 10رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر اس صدارتی ریفرنس میں بدنیتی نظر آئی تو اسے خارج کر دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ کے مطابق اس ریفرنس میں نقائص موجود ہیں اور اگر یہ کوئی عام معاملہ ہوتا تو کیس کب کا خارج کیا جا چکا ہوتا۔