کورونا وائرس لاک ڈاؤن: پاکستان میں پھنسے انڈین شہری واپسی کے منتظر

نارائن

،تصویر کا ذریعہNARAYAN

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور سے تعلق رکھنے والے نارائن اور ان کی اہلیہ شریمتی وسی تین مارچ کو سندھ کے شہر عمر کوٹ آئے تھے، جہاں وسی کے والدین رہتے ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’میرے بچے اور بوڑھی والدہ دربدر ہیں اور ہم سرحد بند ہونے کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

انڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور سے تعلق رکھنے والے نارائن اور ان کی اہلیہ شریمتی وسی تین مارچ کو سندھ کے شہر عمر کوٹ آئے تھے، جہاں وسی کے والدین رہتے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان نے انڈیا، ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنی تمام سرحدیں بند کر دی تھیں، جس وجہ سے انڈیا کے کئی خاندان گذشتہ تین ماہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

نارائن جودھپور میں محنت مزدوری کرتے ہیں ان کے چار بچے اور 90 سالہ والدہ انڈیا میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پڑوسی اور بہن اس وقت ان کے بچوں کا خیال رکھ رہے ہیں۔ ’ہم مجبور ہیں کیا کریں دونوں حکومتیں ہی کوئی راستہ نکالیں تاکہ ہم اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔‘

انڈیا

راجستھان اور سندھ کے سرحدی اضلاع تھرپارکر، عمرکوٹ اور سانگھڑ سمیت کراچی میں کئی خاندان آباد ہیں جن کی سرحد کے دونوں اطراف رشتے داریاں ہیں۔

پاکستان میں 300 بھارتی شہری موجود ہیں جن میں سے سندھ کے مختلف علاقوں میں 200 کے قریب بھارتی شہری اپنے رشتے داروں کے پاس ہیں۔

کورونا بینر
لائن

نارائن کے مطابق انھیں اسلام آباد میں انڈین سفارتخانے سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی، جس میں مطلوبہ معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔ مگر اس کے بعد ابھی تک کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق انڈین شہریوں سے ایک حلف نامہ لیا جائے گا جس کے بعد انھیں واہگہ بارڈر پہنچایا جائے گا جہاں سے وہ اپنے ملک میں داخل ہوسکیں گے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی پاکستانی شہری بھی انڈیا میں پھنس گئے ہیں، جن میں سے 176 کو واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔

یہ پاکستانی راجستھان، گجرات، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا اور دلی سمیت مختلف شہروں میں رشتے داروں اور زیارتوں کے لیے گئے ہوئے تھے۔

سمجھوتا ایکسپریس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہندوستان ٹائمز کے مطابق اس وقت تک 400 کے قریب پاکستانی شہری اپنے وطن کو لوٹ چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور ان افراد کو واپسی پر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔

یاد رہے کہ انڈین حکومت کی جانب سے گذشتہ سال پانچ اگست کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے تھر اور سمجھوتہ ایکسپریس دونوں کو ہی معطل کر دیا تھا۔

کھوکھراپار اور موناباؤ کے درمیان چلنے والی تھر ایکسپریس تاحال معطل ہے۔