پشاور میں شہری پر تشدد کا معاملہ: ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر عہدے سے ہٹا دیے گئے

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے شہر پشاور میں ایک شہری پر تشدد اور اسے نیم برہنہ کر کے ویڈیو بنانے کے معاملے میں ایس ایس پی آپریشن پشاور ظہور بابر آفریدی کو عہدے سے ہٹا کر سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ان کی جگہ ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی کو ایس ایس پی پشاور تعینات کر دیا گیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے تہکال میں چند روز قبل پیش آنے والے اس واقعے پر بدھ کو ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے تین اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہری پر تشدد کا واقعہ کب پیش آیا
یہ معاملہ چند روز قبل ایک شخص کی ویڈیو سے شروع ہوا تھا جس میں اس نے پولیس اہلکاروں کے بارے میں نازیبا گفتگو کی تھی۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تھانہ تہکال کی پولیس نے اسے حراست میں لے لیا تھا اور پھر اس کی نیم برہنہ ویڈیو سامنے آئی۔
یہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر پشاور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا اور بدھ کو پولیس حکام نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس انسپکٹر اور اہلکاروں کو معطل کر کے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور ظہور بابر آفریدی نے تھانہ تہکال کے ایس ایچ او کے علاوہ مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ایک اے ایس آئی اور دو کانسٹیبلز کو بھی معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اے ایس آئی اور دونوں کانسٹیبلز کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
مذکورہ شخص کے خاندان کے افراد نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کا اصل نام ردیع اللہ عرف عامر ہے اور یہ افغان پناہ گزین ہے۔
ان کے رشتے داروں نے بتایا ہے کہ آج افغان قونصل خانے کے حکام نے عامر اور ان کے اہلخانہ سے رابطہ کیا ہے اور صبح افغان سفیر بھی پشاور پہنچ رہے ہیں۔
حکومت کا ردعمل کیا ہے؟
اس واقعے پر صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر اور سی سی پی او پشاور محمد علی گنڈاپور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے اور اے آئی جی چیئرمین، ڈی آئی جی اور سی سی پی او اس تحقیقاتی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کی رپورٹ آج تک پیش کر دی جائے گی۔
اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ ’تہکال واقعے کا وزیراعلیٰ نے بھی نوٹس لیا ہے اور اس میں ملوث تمام اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے اور انھیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔‘
اجمل وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ تہکال تشدد واقعہ میں ایس ایچ او سمیت چار اہلکار ملوث ہیں جن میں سے تین گرفتار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ درندگی ہے, ملوث افراد کو رعایت نہیں ملے گی، کوئی بھی افسر ہو اس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تین چار افراد کی غلطی پر پورے صوبے کی پولیس کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
سی سی پی او پشاور کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر میں تمام متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ ویڈیو میں ایس ایچ او نظر نہیں آ رہے ہیں اس لیے انھیں حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI-KP
وائرل ویڈیو کا معاملہ کیا ہے؟
چند روز پہلے سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چند لڑکے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور ان میں ایک اپنا تعارف پشتو زبان میں یہ کہہ کر کرواتا ہے کہ ’میں تہکال کا عامر ہوں۔‘
تہکال پشاور کی یونیورسٹی روڈ پر ایک علاقہ ہے جہاں بیشتر آبادی ارباب خاندان کی ہے۔
اس ویڈیو میں مذکورہ لڑکا پولیس افسران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پولیس اس کا کیا کر سکتی ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مقامی پولیس نے ایس ایچ او کی زیر نگرانی کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔
اس کے بعد ان کی ایک تصویر اور مختصر ویڈیو سامنے آئی جس میں عامر کے چہرے پر تشدد کے نشان دیکھے جا سکتے تھے اور ویڈیو میں وہ معافی مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔
یہ ویڈیو اور تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوئی جس میں کچھ لوگ عامر کے رویے پر سخت تنقید کرتے رہے لیکن بیشتر لوگوں کا موقف تھا کہ عامر نے جو حرکت کی اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی اور پولیس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو تھانے لے جا کر اس پر تشدد کرے اور خود ہی اسے سزا دے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر پولیس پر تنقید اور کچھ بحث کے بعد ٹھنڈا پڑا ہی تھا کہ ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں عامر کو نیم برہنہ دیکھا جا سکتا ہے اور اہلکار اس پر آوازیں کستے سنے جا سکتے ہیں۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام متحرک ہوئے اور اس بارے میں پہلے انسپکٹر جنرل پولیس اور اس کے بعد ایس ایس پی کی جانب سے کارروائی کرنے کے بیانات سامنے آئے اور پھر ان متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔
عامر کے بارے میں ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ پشاور میں ایک شادی ہال میں بیرے کے طور پر کام کرتا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے شادی ہالوں کی بندش کے بعد وہ تین ماہ سے بےروزگار تھا۔
اس بارے میں تصدیق کے لیے عامر یا اس کے خاندان کے افراد سے رابطے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@mjdawar
تہکال کے رہائشی عامر کی ویڈیو کے بعد پشاور کے نواحی علاقے رشید گڑھی سے بھی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں ایک نوجوان اپنا موقف دیتے ہوئے عامر کے موقف کی تائید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ عامر کے ساتھ پولیس نے جو کچھ کرنا ہے کر لے۔
پولیس نے بعدازاں اس شہری کو بھی گرفتار کیا اور اس کی بھی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں اسے پولیس اہلکاروں کے سامنے معافی مانگتا ہوا دکھایا گیا ہے اور وہ بھی کہہ رہا ہے کہ اس نے غلطی کی ہے۔
پولیس اہلکاروں کے تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مثالی پولیس کے الفاظ استعمال کر کے خیبر پختونخوا پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات کا ایجنڈا صرف دفاتر کی تزئین و آرائش اور مہنگی گاڑیوں کی خریداری تک محدود تھا اور تھانے اصلاحات کا حصہ نہیں تھے۔










