جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس میں پیشی، فروغ نسیم وزارت قانون سے ایک بار پھر مستعفی

فروغ نسیم (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور وہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس میں دو جون کو ہونے والی سماعت میں وفاق کی نمائندگی کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بیرسٹر فروغ نسیم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے استعفیٰ وزیراعظم کے کہنے پر ہی دیا ہے۔

’میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں وفاق کی نمائندگی کروں گا جبکہ میرے کیس لڑنے کے دوران وزارت قانون کا قلمدان وزیراعظم کے پاس رہے گا۔‘

واضح رہے کہ اس سے پہلے گذشتہ سال وہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لیے وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں اور ان درخواستوں پر عدالت عظمی کے فیصلے کے بعد اُنھوں نے دوبارہ اپنے عہدے کا حلف اُٹھا لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بیرسٹر فروغ نسیم بحیثیت وزیر قانون اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور وہ اس ریفرنس میں وفاق کی نمائندگی کریں گے۔

خالد جاوید نے اس صدارتی ریفرنس میں وفاقی کی نمائندگی کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے ایڈشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی وزیر کسی مقدمے میں وفاق کی نمائندگی کرنا چاہے تو پہلے اسے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑے گا جبکہ اپنے خلاف مقدمے کی پیروی کے لیے وزیر کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونا ضروری نہیں ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کے خلاف جو درخواستیں دائر کی گئی ہیں اس میں فروغ نسیم کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے چند روز قبل سپریم کورٹ میں جو جواب جمع کروایا ہے اس میں مستعفی ہونے والے وزیر قانون فروغ نسیم پر الزام عائد کیا تھا کہ اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران جو توہین عدالت کی گئی تھی تو سابق وزیر قانون اس کا حصہ تھے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے بقول اس کے باقی دو کرداروں میں سابق اٹارنی جنرل انور منصور اور احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر شامل ہیں۔