انسداد دہشت گردی ایکٹ: فورتھ شیڈول سے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے نام خارج

کالعدم تنظیمیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے نیکٹا کی ویب سائٹ پر ان افراد کی تعداد 3608 ہے جنھیں ابھی تک فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان نے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ایسے افراد کو انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول سے نکال دیا ہے جنھیں ریاستی یا معاشرے کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بنا پر اس شیڈول میں شامل کیا گیا۔

سنہ 2018 میں فناشل ایکشن ٹاسک فورس کو پاکستانی حکومت کی طرف سے جو فہرست پیش کی گئی تھی اس میں ایسے افراد کی تعداد 7 ہزار سے زیادہ تھی لیکن گزشتہ تقریباً دو برسوں کے دوران اس فہرست میں سے ساڑھے 3 ہزار سے زیادہ افراد کو نکال دیا گیا۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے نیکٹا کی ویب سائٹ پر ان افراد کی تعداد 3608 ہے جنھیں ابھی تک فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ فورتھ شیڈول سے نکالے جانے والے سب سے زیادہ افراد کا تعلق اسی صوبے سے ہے اور یہ تعداد 1700سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اُنھوں نے کہا کہ جن افراد کے نام انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول سے نکالے گئے ہیں ان میں سے زیادہ کا تعلق کالعدم تنظیموں سے رہا ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران ان کی سرگرمیوں کے بارے میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دی جانے والی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے نام اس لسٹ سے نکالے جاتے ہیں۔

کالعدم تنظیمیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ایسے افراد کو انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول سے نکال دیا ہے جنھیں ریاستی یا معاشرے کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بنا پر اس شیڈول میں شامل کیا گیا

اہلکار کے مطابق جن افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے ہیں ان میں ایسے افراد کی قابل ذکر تعداد بھی شامل ہے جن کے نام گزشتہ دس برسوں سے اس فہرست میں شامل تھے اور ان کے نام نکالنے کے حوالے سے ماضی میں کوئی فیصلے نہیں لیے گیے تھے۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے اہلکار کے مطابق جن افراد کے نام اس فہرست سے نکالے گئے ہیں ان کے بارے میں متعقلہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بنائی گئی کمیٹیوں کی طرف سے دی گئی سفارشات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے حکم پر بھی متعدد افراد کے نام فورتھ شیڈول لسٹ سے نکالے گئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ چونکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کی وجہ سے ان تنظیموں سے وابسطہ افراد کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور گزشتہ دو برسوں کے دوران ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے اس لیے ضلعی کمیٹیوں نے ان افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالنے پر غور کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق جن افراد کے نام اس فہرست سے نکالے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق جنوبی پنجاب کے اضلاع سے ہے اور ان اضلاع میں بہاولپور اور بہاولنگر کے علاوہ بھکر اور میلسی بھی شامل ہیں۔ اہلکار کے مطابق یہ تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔

فورتھ شیڈول میں کیسے نام ڈالے جاتے ہیں؟

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق کسی بھی شخص کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے سے متعلق مختلف مراحل طے کیے جاتے ہیں۔

کالعدم تنظیمیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیکٹا میں تعینات ایک سینئیر افسر اختر لالیکا نے بتایا کہ ان کے ادارے کے پاس فورتھ شیڈول میں کسی شخص کا نام رکھنے یا نکالنے کا کوئی اختیار نہیں

ان میں پہلے مرحلے میں کوئی بھی ایسا شخص جس پر شک ہو کہ وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کی وفعہ ای ون میں شامل کیا جاتا ہے۔ جس کے تحت اس شخص کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاتی ہے جو کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ منسلک ہو یا اس کی ہمدردیاں کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ ہوں۔

اہلکار کے مطابق پہلے مرحلے میں ایسے شخص کی نگرانی پولیس کے ادارے سپیشل برانچ اور سویلین خفیہ ادارے یعنی انٹیلیجنس بیورو کے اہلکار کرتے ہیں۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق دوسرے مرحلے میں مذکورہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں ایسے شخص کا نام (ای ٹو) میں شامل کیا جاتا ہے جس کے تحت اس کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ایسی کسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا جو کہ ریاست مخالف ہوں یا کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے بارے میں ہوں۔

اہلکار کے مطابق ایسے شخص سے نہ صرف ضمانتی مچلکے جمع کراونے کے بارے میں کہا جاتا ہے بلکہ اُنھیں اس بات کا بھی پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ متعلقہ تھانے کو اطلاع دیے بغیر علاقہ نہیں چھوڑ سکتے اور عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں اُن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت ایسا کوئی شخص جس کا نام ای ٹو کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہو تو وہ کسی پبلک مقام حتیٰ کہ سنیما دیکھنے بھی نہیں جا سکتے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق کسی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے حوالے سے ضلعی سطح پر کمیٹی کی سفارشات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس کمیٹی میں پولیس اور انٹیلیجنس کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق اس کمیٹی میں پولیس اور آئی بی کے اہلکار کسی بھی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے لیے اپنی تحریری رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرتے ہیں جبکہ فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکار اس بارے میں اپنی رائے دیتے ہیں جن کو اہمیت دی جاتی ہے۔

اہلکار کے مطابق فورتھ شیڈول میں شامل ہونے کے باوجود جس شخص کے بارے میں یہ اطلاعات ہوں کہ وہ ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے تو پھر اس کو پہلے تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور متعقلہ ضلعے کا ایس ایس پی ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیتا ہے کہ اس مدت میں اضافہ کیا جائے۔ اور پھر اس وقت تک اضافہ کیا جاتا ہے جب تک ہائی کورٹ کا نظر ثانی بورڈ ان کی ضمانت منظور کرنے یا رہا کرنے کے بارے میں کوئی واضح ہدایات نہ دے۔

نیکٹا کا مؤقف

نیکٹا میں تعینات ایک سینئیر افسر اختر لالیکا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ادارے کے پاس فورتھ شیڈول میں کسی شخص کا نام رکھنے یا نکالنے کا کوئی اختیار نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ نیکٹا تو صرف صوبوں کی طرف سے جو رپورٹ بھیجی جاتی ہیں ان کو اکھٹا کرتا ہے اور پھر ان رپورٹس کی روشنی میں صوبوں کو ہدایات دی جاتی ہیں۔

اختر لالیکا کا کہنا تھا کہ نیکٹا کی طرف سے شدت پسند تنظیموں اور ان سے وابسطہ افراد کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کے بارے میں صوبوں کو جو تجاویز دی گئیں تھیں ان پر عمل درآمد ہوا جس کا اعتراف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں بھی کیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف

،تصویر کا ذریعہFATA

،تصویر کا کیپشنپاکستان ابھی تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل ہے اور پاکستان کے بارے میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اس سال اکتوبر میں متوقع ہے

واضح رہے کہ پاکستان ابھی تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل ہے اور پاکستان کے بارے میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اس سال اکتوبر میں متوقع ہے۔

نیکٹا کے سابق سربراہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ نیکٹا مختلف ممالک میں شدت پسندی اور اس میں ملوث جماعتوں اور ان سے منسلک افراد کو ریاست کے خلاف کام کرنے سے روکنے سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات کا مطالعہ کرنے کے بعد پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس کے مطابق صوبوں کو تجاویز دی ہیں جس کے مثبت اثرات نکلتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ امن وامان قائم کرنے کا معاملہ صوبوں کے پاس ہوتا ہے اور اسی تناظر میں نیکٹا اور وزارت داخلہ صوبوں کو ہدایات ہی جاری کر سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فورتھ شیڈول میں کسی کو رکھنے یا نکالنے کا اختیار صرف صوبائی حکومتوں کے پاس ہوتا ہے جو ضلعی کمیٹیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹس کی روشنی میں فیصلے کرنے کی پابند ہیں۔

فورتھ شیڈول کے بارے میں نیکٹا کی موجودہ لسٹ

نیکٹا کی ویب سائٹ پر ایسے افراد کی تعداد 3608 ہے جنھیں فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے۔ اس فہرست میں سب سے زیادہ افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے اور یہ تعداد ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ہے جبکہ دوسرے نمبر پر صوبہ خیبر پختونخوا، تیسرے نمبر پر صوبہ سندھ اور چوتھے نمبر پر صوبہ بلوچستان ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 20افراد جبکہ گلگلت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 24افراد کو اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے17 افراد کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق نیکٹا کی موجودہ فہرست میں بھی ایسے لوگوں کی بھی ایک قابل ذکر تعداد ہے جنھوں نے حکومت کے اس فیصلے کو متعقلہ صوبوں کی ہائی کورٹس میں چیلنج کیا ہوا ہے۔