کورونا وائرس: خیبر پختونخوا میں آبادی کے لحاظ سے متاثرین کی زیادہ تعداد، معاملہ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
دن کے وقت بازاروں اور دکانوں میں رش، اکثر تاجروں کا دکانوں کے باہر بیٹھ کر کاروبار کرنا اور کچھ کا دکان کے شٹر گرا کر اندر دکانداری جاری رکھنا، یہ اس شہر کے مناظر ہیں جو اس وقت ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ شہروں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔
یہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مناظر ہیں۔ اموات کے اعتبار سے یہ صوبہ ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ ہے اور اب تک یہاں کورونا وائرس سے 122 اموات ہو چکی ہیں۔
شام کے وقت جب پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار دکانیں زبردستی بند کراتے ہیں تو اکثر حالات کشیدہ ہو جاتے ہیں اور بھگدڑ سے رش بڑھ جاتا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے شہر میں جگہ جگہ ناکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔
صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں اب تک 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جہاں اموات کی شرح پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کی نسبت زیادہ ہے اور یہ تعداد صوبہ بلوچستان کی کل اموات سے بھی زیادہ ہے۔
صوبائی حکومت اور قومی ادارہ صحت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں پشاور، سوات اور مردان سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا میں دیگر صوبوں کی نسبت اموات زیادہ
خیبر پختونخوا میں بدھ کی شام جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 329 نئے مریض آئے ہیں جس سے صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2313 ہو گئی ہے۔
ان میں پاک افغان سرحد کے قریب طورخم کے مقام پرقائم قرنطینہ مرکز سے 27 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ طورخم میں افغانستان سے آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ فراہم کیا گیا ہے۔
منگل کو صوبے میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے سات کا تعلق پشاور، دو افراد کا تعلق مردان اور ایک کا ایبٹ آباد سے بتایا گیا ہے۔ جبکہ بدھ کو آٹھ افراد کی موت ہوئی ہے جن میں سے سات پشاور اور ایک کا تعلق مالاکنڈ سے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی


صوبے میں کل اموات کی تعداد 122 تک پہنچ چکی ہے۔ اس حساب سے صوبے میں اموات کی شرح پانچ اعشاریہ تین ہوگئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں 29 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں جس سے صحت پانے والے کل افراد کی تعداد 614 ہو گئی ہے۔
پاکستان کے چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور کشمیر میں اب تک جتنے مریض سامنے آئے ہیں بظاہر یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ ان علاقوں کی آبادی کی مناسبت سے سامنے آ رہے ہیں۔
اگر چاروں صوبوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو صوبہ سندھ میں کل مریضوں کی تعداد 5000 کے لگ بھگ ہے اور صوبے میں اموات 90 ہیں اس حساب سے اموات کی شرح ایک اعشاریہ آٹھ بنتی ہے۔
اسی طرح صوبہ پنجاب میں کل مریضوں کی تعداد 5695 اور اموات 103 ہیں اور اموات کی شرح ایک اعشاریہ چھ بنتی ہے۔
اسی طرح اگر بلوچستان کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کل مریضوں کی تعداد 978 ہے اور اموات صرف 14 ہیں اس طرح یہ شرح ایک اعشاریہ چھ ہی بنتی ہے۔

کیا پشاور میں ریڈ الرٹ ہے؟
خیبر پختونخوا کے بیشتر شہروں میں کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں لیکن چند شہروں میں اس تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور کے مختلف علاقوں میں کوروناوائرس کے مریض سامنے آنے کے بعد ان علاقوں کو سیل کر دیا گیا اور وہاں ایسے علاقے ہیں جنھیں قرنطینہ قرار دیا گیا ہے۔
شہر میں 250 سے 300 ایسے مکانات، گلیاں، محلے اور کالونیاں ہیں جنھیں وائرس کے شبہ میں قرنطینہ مرکز بنایا گیا ہے۔
پشاورکے حالات انتہائی خطرناک نظر آ رہے ہیں اور اس شہر میں اب تک کل 734 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں 149 مریض سامنے آئے ہیں اور سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پشاور میں 71 مریض سامنے آئے تھے اور سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حالیہ اضافہ تشویشناک ہے اور اس بارے میں سرکاری سطح پر دعوے تو کیے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بڑے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
اگرچہ ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کی عمر 50 برس سے زیادہ بتائی گئی ہے لیکن اس وائرس سے پچاس سال سے کم عمر کے لوگ بھی متاثر ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ
صوبے میں جہاں عام لوگ اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں وہیں ڈاکٹروں اور نرسوں کے علاوہ نیم طبی عملہ بھی متاثر ہوا ہے۔
لیڈی ریڈینگ ہسپتال میں چند روز قبل چار نرس اور چار لیڈی ڈاکٹر اس وائرس سے متاثرہوئے ہیں اور یہ تمام افراد براہ راست کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے وارڈ میں تعینات نہیں تھے بلکہ زچگی اور دیگر وارڈز میں ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے تھے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں سینیئر ڈاکٹر ڈاکٹر جاوید اس وائرس سے متاثر ہوئے اور دو روز پہلے انتقال کر گئے ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹروں کی تنظیموں کے مطابق صوبے میں اب تک چالیس سے زیادہ ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ اس وائرس کا شکار ہو چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پشاور ایک گزرگاہ
صوبائی حکومت کا کہنا ہے اگرچہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات جنوری کے مہینے میں شروع کر دیے گئے تھے لیکن چونکہ صوبے کو جانے والے بیشتر راستے پشاور سے گزرتے ہیں اس لیے یہاں پھیلاؤ میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا۔
صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے تین ماہ میں بیرونِ ملک سے سب سے زیادہ لوگ خیبر پختونخوا میں آئے ہیں جبکہ صوبہ سندھ اور پنجاب میں یہ تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پشاور میں باچا خان ایئر پورٹ سے لوگ آئے اور وہ صوبے کے مختلف شہروں میں گئے ہیں جبکہ اسلام آْباد اور کراچی ایئر پورٹ سے بھی لوگ سڑک کے راستے خیبر پختونخوا پہنچے ہیں۔
انھو ں نے بتایا کہ 'اسی طرح سوات، مردان، باجوڑ، مہمند اور چترال کی جانب جانے والے لوگ بھی پشاور کا راستہ استعمال کرتے ہیں۔ پشاور میں بڑے ہسپتالوں کی وجہ سے بھی صوبے اور دیگر صوبوں سے بھی لوگ یہاں علاج کے لیے آتے ہیں جس وجہ سے وائرس زیادہ پھیلا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوات مردان اور بونیر
خیبر پختونخوا میں پشاور کے بعد سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض سوات سے ہیں جن کی تعداد 163 ہے جبکہ اس شہر میں اموات 12 ہوئی ہیں۔
اسی طرح مردان وہ شہر ہے جہاں کورونا وائرس کی پہلی موت یونین کونسل منگاہ میں ہوئی تھی۔
ہلاک ہونے والے سعادت عمرہ کی ادائیگی کے بعد ساتھیوں سمیت مردان پہنچے تو ان میں وائرس کی تصدیق ہو گئی تھی جس کے بعد یونین کونسل منگاہ کو قرنطینہ قرار دے دیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں 109 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
مردان میں اب تک 136 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ آٹھ افراد انتقال کر چکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
ضلع بونیر میں حالات تشویشناک ہوتے جارہے ہیں جہاں اب تک 100 سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ سوالات جن کے تسلی بخش جواب حکومت نہیں دے سکی
صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ یہاں بیرونِ ملک سے لوگ زیادہ آئے ہیں اس لیے یہاں اموات زیادہ ہوئی ہیں لیکن حکومت اس بارے میں وضاحت نہیں کر پائی کہ صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تو دیگر صوبوں سے کم ہے تو پھر اموات کیوں زیادہ ہیں۔
صوبائی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تفتان کے زائرین، طور خم سے پاکستانی، تبلیغی جماعت کے افراد اور خلیجی ممالک سے لوگ زیادہ آئے ہیں۔
تاہم اگر دیکھا جائے تو بلوچستان میں افغانستان اور تفتان کے راستے ایران سے بڑی تعداد میں لوگ آئے ہیں، اسی طرح تفتان سے زائرین کراچی اور پنجاب بھی گئے ہیں لیکن وہاں اموات خیبر پختونخوا سے کم ہیں ۔
یہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں طبی عملے کے پاس ذاتی حفاظت کا مکمل سامان دستیاب نہیں ہے، کہیں ماسک کم ہیں تو کہیں آنکھوں کی حفاظت کے لیے سامان نہیں ہے اور کہیں چہرہ ڈھاپنے کے لیے حفاظتی شیلڈ نہیں ہے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ حفاظتی سامان کی کمی کی وجہ سے طبی عملے کے کچھ ارکان کورونا مریضوں کے قریب جانے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔
حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ صوبے میں سامان کی کمی نہیں ہے اور نا ہی صوبے میں صحت کا نظام بیٹھا ہے بلکہ اب تک جتنے مریض آرہے ہیں انھیں ہسپتالوں میں داخل کیا جا رہا ہے ۔












