آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عاصم باجوہ کی بطور معاون خصوصی تقرری پر سوشل میڈیا پر ردِعمل: ’سمارٹ لاک ڈاؤن لگاتے لگاتے سمارٹ مارشل لا لگا دیا‘
وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومتی ٹیم میں ایک بار پھر تبدیلی لاتے ہوئے اپنی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی جگہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کو تعینات کر دیا ہے، جبکہ مشہور ادیب احمد فراز کے فرزند سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
وزیراعظم کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا اور جہاں کچھ لوگوں کو ان کی تعیناتی ایک اچھا اقدام لگی تو وہیں کچھ اسے مارشل لا کی دوسری شکل قرار دیتے نظر آئے۔
صحافی محمد مالک کا کہنا تھا کہ شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی مواصلات کے موجودہ نظام میں عقل و فہم اور عزت کا باعث بنی گی۔
صحافی عمر چیمہ بھی محمد مالک کی رائے سے متفق نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ 'شبلی فراز اور عاصم باجوہ۔۔۔ پی ٹی آئی حکومت نے پہلی مرتبہ دو سلجھے ہوئے افراد کو ترجمان مقرر کیا ہے۔ اللہ کرے وہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے ذاتی تشخص اور وقار برقرار رکھ سکیں اگرچہ یہ اتنا آسان کام نہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ صارفین سابق فوجی جنرل کی سیاسی نظام میں شمولیت کے پیچھے عزائم پر بھی دلچسپ تبصرے کرتے نظر آئے۔ بختاور گل کا کہنا ہے کہ 'باجوہ صاحب کو لانے کا مقصد میڈیا کو لگام ڈالنا ہے اب آگے دیکھو ہوتا ہے کیا کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اب میڈیا والے بھاگتے نظر آئیں گے لیکن اب انہیں بھاگنے نہیں دینا۔'
صارف ڈاکٹر اریبہ کے خیال میں عاصم باجوہ کو اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کے لیے لایا گیا ہے۔
بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ سویلین عہدے کے لیے ریٹائرڈ فوجی جنرل کا انتخاب دراصل 'سافٹ یا سمارٹ مارشل لا ہے۔'
ایک صارف سبرینہ ملک کہنا تھا کہ ملک میں سمارٹ لاک ڈاون لگاتے لگاتے سمارٹ مارشل لا لگا دیا گیا۔
جبکہ عادل گیلانی کے خیال میں خفیہ مارشل لا سے اچھا ہے کہ آپ پاکستان ٹیلی ویژن پر آئیں اور اعلان کریں ملک میں مارشل لا لگا دیا گیا ہے۔
لیکن صحافی اور تجزیہ کار عباس ناصر نے ٹویٹ کیا ’عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی نے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کے عمل کو مکمل کر دیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنوکریٹس کو بطور پالیسی ساز معتین کرنے کی خواہش آج پوری ہو گئی۔ پہلے حفیظ شیخ، رزاق داؤد، رضا باقر، ثانیہ نشتر، ظفر مرزا اور اب عاصم باجوہ۔'
اس سب کے درمیان ریحام خان نے بھی ایک سوال اٹھایا 'جنرل باجوہ جب حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے جواب دے رہے ہوں گے پھر اپوزیشن اُن پر تنقید کرے گی اسے ریاست مخالف تو نہیں کہا جائے گا؟'