عاصم باجوہ کی بطور معاون خصوصی تقرری پر سوشل میڈیا پر ردِعمل: ’سمارٹ لاک ڈاؤن لگاتے لگاتے سمارٹ مارشل لا لگا دیا‘

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES/BBC
وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومتی ٹیم میں ایک بار پھر تبدیلی لاتے ہوئے اپنی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی جگہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کو تعینات کر دیا ہے، جبکہ مشہور ادیب احمد فراز کے فرزند سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
وزیراعظم کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا اور جہاں کچھ لوگوں کو ان کی تعیناتی ایک اچھا اقدام لگی تو وہیں کچھ اسے مارشل لا کی دوسری شکل قرار دیتے نظر آئے۔
صحافی محمد مالک کا کہنا تھا کہ شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی مواصلات کے موجودہ نظام میں عقل و فہم اور عزت کا باعث بنی گی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MalickViews
صحافی عمر چیمہ بھی محمد مالک کی رائے سے متفق نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ 'شبلی فراز اور عاصم باجوہ۔۔۔ پی ٹی آئی حکومت نے پہلی مرتبہ دو سلجھے ہوئے افراد کو ترجمان مقرر کیا ہے۔ اللہ کرے وہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے ذاتی تشخص اور وقار برقرار رکھ سکیں اگرچہ یہ اتنا آسان کام نہیں۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/UmarCheema1
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ صارفین سابق فوجی جنرل کی سیاسی نظام میں شمولیت کے پیچھے عزائم پر بھی دلچسپ تبصرے کرتے نظر آئے۔ بختاور گل کا کہنا ہے کہ 'باجوہ صاحب کو لانے کا مقصد میڈیا کو لگام ڈالنا ہے اب آگے دیکھو ہوتا ہے کیا کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اب میڈیا والے بھاگتے نظر آئیں گے لیکن اب انہیں بھاگنے نہیں دینا۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/Bakhtawar_Ik
صارف ڈاکٹر اریبہ کے خیال میں عاصم باجوہ کو اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کے لیے لایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/ahtweeted
بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ سویلین عہدے کے لیے ریٹائرڈ فوجی جنرل کا انتخاب دراصل 'سافٹ یا سمارٹ مارشل لا ہے۔'
ایک صارف سبرینہ ملک کہنا تھا کہ ملک میں سمارٹ لاک ڈاون لگاتے لگاتے سمارٹ مارشل لا لگا دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/sabrinamalik786
جبکہ عادل گیلانی کے خیال میں خفیہ مارشل لا سے اچھا ہے کہ آپ پاکستان ٹیلی ویژن پر آئیں اور اعلان کریں ملک میں مارشل لا لگا دیا گیا ہے۔
لیکن صحافی اور تجزیہ کار عباس ناصر نے ٹویٹ کیا ’عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی نے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کے عمل کو مکمل کر دیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/abbasnasir59
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنوکریٹس کو بطور پالیسی ساز معتین کرنے کی خواہش آج پوری ہو گئی۔ پہلے حفیظ شیخ، رزاق داؤد، رضا باقر، ثانیہ نشتر، ظفر مرزا اور اب عاصم باجوہ۔'
اس سب کے درمیان ریحام خان نے بھی ایک سوال اٹھایا 'جنرل باجوہ جب حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے جواب دے رہے ہوں گے پھر اپوزیشن اُن پر تنقید کرے گی اسے ریاست مخالف تو نہیں کہا جائے گا؟'









