سٹون کرشنگ: ’کرش مشینوں کی آلودگی کا شکار کورونا کا آسان ہدف ہو سکتے ہیں‘

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’میرا علاقہ کرش مشینوں کے درمیان میں واقع ہے۔ ان کرش مشینوں کے چلنے سے پیدا ہونے والے گردوغبار کی وجہ سے میں دمے کا مریض بن چکا ہوں۔ میری جوان اولاد بھی دمے کا شکار ہے۔ جب سے کورونا پھیلا ہے ہمیں ہمارے ڈاکٹر نے دوٹوک بتایا ہے کہ ہم سب لوگ اس وائرس کا باآسانی شکار بن سکتے ہیں۔ ہمبہت زیادہ احتیاط کررہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟‘
یہ کہنا ہے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کے رہائشی ارشاد خان کا۔
ارشاد خان شاہراہ قراقرم پر ایوب پل حویلیاں کے رہائشی ہیں جہاں سے گزرنے والے دریائے ہارو کے ارد گرد محکمہ ماحولیات کے مطابق دس کرش مشینیں آبادی کے بیچوں بیچ کئی برسوں سے کام کر رہی ہیں۔
گذشتہ ماہ کے اختتام پر ملک میں کورونا کے باعث نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کے بعد یہ تمام کرش مشینیں بند کر دی گئی تھیں تاہم منگل کی شام وزیرِ اعظم عمران خان نے ملک بھر میں تعمیراتی صنعت اور اس سے منسلک شعبوں کو کھولنے کا اعلان کیا۔
یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ گذشتہ کئی روز سے رُکی ان کرش مشینیوں نے ایک بار پھر دُھول اڑانا شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارشاد خان کہتے ہیں کہ حکام میرے علاقے میں آ کر دیکھیں، یہاں موجود درخت، باغات اور کھیت تباہ ہو چکے ہیں اور ہمارے گھروں میں ہر وقت گرد و غبار کی دبیز تہہ موجود ہوتی ہے۔
’دمے کی بیماری کے ہاتھوں میرے ماں باپ مرے تھے۔ مگر کسی کے کان پر جوؤں تک نہیں رینگی۔ اب شاید ہم لوگ کورونا کا شکار ہو جائیں گے اور کوئی بھی بات نہیں کرے گا۔‘
خرم خان ایبٹ آباد میں پُرفضا مقام ٹھنڈیانی روڈ سے ملحقہ گاؤں گھماواں کے رہائشی ہیں۔
صوبائی محکمہ ماحولیات کے مطابق اس علاقے میں بھی پہاڑوں کو توڑتی آٹھ کرش مشینیں دن رات چلتی ہیں۔
خرم خان کہتے ہیں کہ ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ہر پیدا ہونے والا بچہ دمے کی بیماری کے ساتھ دنیا میں آتا ہے۔ نہ دن کو چین ہے نہ رات کو سکون ہے۔ یہاں کے رہائشی اپنے مکان اونے پونے داموں فروخت کر کے دوسرے علاقوں میں جانا چاہتے ہیں مگر مجبوری یہ ہے کہ کوئی ہمارے مکانوں کو مفت میں بھی لینے کو بھی تیار نہیں ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں اور کدھر جائیں۔‘

تاہم دوسری جانب کرش مشین ایسوسی ایشن کے عہدیدار مقامی آبادیوں میں رہنے والے افراد کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’ہم لوگ آئین اور قانون کے مطابق کاروبار کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بتائے گئے تمام تر حفاظتی انتظامات اور قواعد کو پورا کیا گیا ہے۔‘
اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں امراضِ سینہ کے ماہر ڈاکٹر اسد کے مطابق پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 75 لاکھ بالغ افراد جبکہ ڈیڑھ کروڑ بچے دمے کے مرض میں مبتلا ہیں۔
ڈاکٹر اسد کے مطابق آلودگی، بالخصوص کرش مشنیوں کا گرد وغبار جو کہ باریک ذرات کی صورت میں ہوتا ہے وہ پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے جس کے باعث انسان کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔
ڈاکٹر اسد کے مطابق ایسے مریض دوسری بیماریوں جیسا کہ کورونا کا باآسانی شکار بن سکتے ہیں۔
ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنید کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے وہ افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جو پہلے ہی کسی بیماری کا شکار ہیں یا اُن کی جسمانی قوت مدافعت کمزور ہے۔
’یہی وجہ ہے کہ ہم نے دمے کے مرض کا شکار اپنے مریضوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بہت احتیاط برتیں اور اپنے گھروں میں رہیں۔ ایبٹ آباد کے علاقوں حویلیاں اور ٹھنڈیانی روڈ پر موجود آبادیوں میں کرش مشینوں کی وجہ سے وہاں رہائش پذیر بہت سے افراد دمے کے مرض میں مبتلا ہیں۔‘
پاکستان میں موجود کرش مشینیں

پاکستان میں ہمالیہ کے دامن میں واقع علاقوں، ٹیکسلا، ہزارہ ڈویژن، مردان ڈویژن، مالاکنڈ ڈویژن اور دیگر علاقوں میں موجود پہاڑی علاقے، کے پتھروں کو شعبہ تعمیرات میں بہتر کوالٹی کا پتھر سمجھا جاتا ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں واقع پہاڑوں پر بڑی تعداد میں کرش مشینیں لگی ہیں جو ان پتھروں کو توڑ توڑ کر بجری میں تبدیل کرتی ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ ماحولیات کے مطابق صوبہ بھر میں تقریبا 1100 کے قریب کرش مشینیں موجود ہیں اور یہ تمام مشینیں ہمالیہ کے دامن اور دریاؤں کے قریب واقع ہیں۔
محکمہ ماحولیات صوبہ پنجاب کے مطابق پنجاب بھر میں تقریبا 800 کے قریب کرش مشینیں موجود ہیں۔
تاہم مقامی ذرائع کے مطابق یہ تعداد سرکاری اعدادوشمار سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی مشینیں غیرقانونی طور پر کام کر رہی ہیں۔
پاکستان میں اِس حوالے سے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں کہ کرش مشینیوں کی مارکیٹ کا حجم کتنا ہے۔ مگر سنہ 2010 میں ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک آف اکنامکس ریسرچ کے ایک سروے کے مطابق کرش مشینیوں کی سالانہ مارکیٹ ایک ارب امریکی ڈالر ہے جبکہ اس صنعت سے پانچ لاکھ لوگ وابستہ ہیں۔
کرش مشنیوں سے صرف دمہ نہیں کینسر بھی پھیل رہا ہے

پاکستان چیسٹ ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر پروفیسر ڈاکٹر محمد نثار خان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے تقریباً تمام اضلاع، کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں دمے اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں انتہائی اضافہ ہو رہا ہے۔
’یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ ہمارے پُرفضا مقام بھی خطرناک آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں۔‘
’میں تقریبا روزانہ 25 مریض دیکھتا ہوں۔ مریضوں کی ہسٹری سے پتا چلتا ہے ان مریضوں کا تعلق زیادہ تر اُن علاقوں سے ہوتا ہے جہاں پر کرش مشینیں کام کر رہی ہوتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ واضح ہے کہ پہاڑی علاقوں کے مکین شہروں کی ترقی کی قیمت جان لیوا بیماروں کی صورت میں دے رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چند سال پہلے تک دمہ سردیوں میں یا الرجی کی وجہ سے ہوتا تھا۔ یہ موسمی ہوتا تھا مگر اب ایسے مریض ہوتے ہیں جن کے سینے میں بچپن ہی سے دمے کا مرض جڑ پکڑ لیتا ہے اور وہ اس کے مستقل مریض بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ عموما غریب طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مرض کے آغاز میں علاج نہیں کروا سکتے اور جب مریض بڑھتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور ایسے مریضوں میں سے کئی تو کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں اور کئی دمے ہی سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد نثار خان کا کہنا تھا کہ چارسدہ کے ایک علاقے میں سفید پتھر تیار کرنے کی کانیں اور کرش مشینیں ہیں۔ یہ بات میرے مشاہدے میں ہے کہ اس علاقے کے قریب بسنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کینسر کا شکار ہے۔‘
انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر کرش مشینیوں اور کان کنی کے حوالے سے حفاظتی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ اس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد لاکھوں میں چلی جائے گئی اور پوری کی پوری نسلیں بیمار ہو جائیں گی۔
کرش مشینوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی حالتِ زار

پنجاب کے ضلع سرگودھا میں کیرانہ کے پہاڑوں کو ایشیا میں کرش مشینیوں کی سب سے بڑی صنعت سمجھا جاتا ہے جہاں پر محکمہ ماحولیات پنجاب کے مطابق تقریبا 500 کے قریب کرش مشنیں کام کر رہی ہیں۔
مختلف یونیورسٹیوں کے ماہرین کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق سرگودھا کی کرش مشینوں میں کام کرنے والے کارکنان انتہائی خطرے کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کارکنوں کو آٹھ سے دس ہزار تنخواہ دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کرش مشینوں میں کام کرنے والے 94 فیصد ملازمین کے پاس لازمی ذاتی حفاظتی لباس موجود نہیں ہیں۔ 82 فیصد ملازمین مشنیوں کے شور کی وجہ سے سننے کے مسائل کا شکار ہیں جبکہ 75 فیصد جلدی امراض کا شکار ہیں۔
ان میں سے 70 فیصد افراد سانس کی بیماریوں کا شکار ہیں۔
ماہر ماحولیات نعمان رشید کے مطابق یہ صورتحال صرف سرگودھا کی کرش مشینوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے ملک میں یہ ہی صورتحال ہے۔
کرش مشینوں کی قانونی حیثیت

صوبہ خیبر پختونخوا میں سنہ 2014 میں انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ خیبر پختونخوا متعارف کروایا گیا تھا۔
اس سے پہلے یہاں بھی پورے ملک کی طرح انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 1998 ہی نافذ العمل تھا۔
اس ایکٹ کے مطابق کرش مشینوں سمیت کان کنی سے منسلک مشینری کسی بھی آبادی سے ایک ہزار میٹر دوری کے فاصلے پر ہونی چاہیے۔ تاہم نئے ایکٹ میں اس فاصلے کو کم کر کے 300 میڑ کر دیا گیا ہے۔
محکمہ ماحولیات صوبہ خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بشیر خان کے مطابق مذکورہ قانون کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اور ہائی کورٹ نے اس قانون کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد اس کاروبار سے وابستہ افراد نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے اس پر ایک کمیشن قائم کیا تھا جو اب اپنی رپورٹ تیار کر رہا ہے۔
گذشتہ سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 600 کرش مشینوں کے خلاف ٹرائبیونل کو کیسز بھیجے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں جرمانے ہوئے ہیں جبکہ چھاپوں وغیرہ کا سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے۔
۔












