لڑکی سے لڑکا بننے کی اجازت دیں تاکہ آسان زندگی گزار سکوں: پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

عورت (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور ہائی کورٹ میں ایک بائیس سالہ لڑکی نے اپنی جنس تبدیل کرنے کے لیے درخواست دی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی عادات و اطوار لڑکوں کی طرح ہیں اور یہ کہ جسمانی طور پر وہ لڑکیوں کی طرح ہے اور اسے پردہ کرنا پڑتا ہے جس سے اسے مشکل پیش آتی ہے۔

اس درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ انھیں جنس تبدیل کرنے یعنی لڑکی سے لڑکا بننے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ آزادی سے اپنی زندگی اپنی پسند سے گزار سکے۔

یہ درخواست سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ کے وساطت سے عدالت میں پیش کی گئی ہے لیکن اب تک اس بارے میں عدالت نے منظور کرنے یا سماعت کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی ہے ۔

سیف اللہ محب کاکاخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا شاید کم ہی پاکستان میں ہوا ہے کہ جنس کی تبدیلی یا جنس کی ری ایسانمنٹ سرجری کی گئی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں جنس کی تبدیلی ہر شخص کا ذاتی فعل اور حق ہوتا ہے ۔

خاتون جینڈر چپ تبدیل کرنا چاہتی ہے

جنس کی تبدیلی سے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جیسے شناختی کارڈ میں جنس کے خانے میں تبدیلی، نام کی تبدیلی، تعلیمی اسناد میں تبدیلی اور نادرا کے ریکارڈ میں تبدیلیاں شامل ہیں ۔

سیف اللہ محب کاکا خیل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ یہ پاکستان میں ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن ایکٹ منظور کیا گیا ہے جس میں کسی کو بھی یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی جنس تبدیل کر سکتا ہے اور حکومت اس کے لیے میڈیکل کی سہولیات حکومت فراہم کرے گی ۔

انھوں نے مذید تبایا کہ اس قانون کے تحت حکومت ایسے نفسیاتی مریضوں کے لیے بحالی مراکز قائم کرے گی اور جنھیں میڈیکل کی سہولیات درکار ہوں گی تو انھیں وہ سب کچھ حکومت فراہم کرے گی ۔

سیف اللہ محب کاکاخیل نے بتایا کہ جنس کی تبدیلی اس قانون کے تحت نہیں بلکہ یہ پاکستان کے آئین میں ہے کہ وہ جس طرح کی زندگی گزارنا چاہتا ہے یہ اس کی اپنی مرضی ہے۔

نفسیاتی طور پر تو میں لڑکا ہوں؟

یہ درخواست ایک نوجوان لڑکی کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس کی عمر 22 سال بتائی گئی ہے ۔ اس درخواست میں بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے دو بھائی اور چار بہنیں ہیں اور والدین اب بوڑھے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے بہنیں شادی شدہ ہیں اور بھائی والدین کی خدمت نہیں کر سکتے جبکہ وہ جسامت میں لڑکی ہونے کی وجہ سے پردہ کرتی ہے اور ایسے حالات میں وہ کہیں کام نہیں کر سکتی ۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ اس کی تمام عادات لڑکوں کی طرح ہیں میرے شوق لڑکوں والے ہیں اور میرے دوست بھی لڑکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ اس کی شباہت لڑکیوں والی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو لڑکا سمجھتی ہے ۔ اس درخواست میں ترقی یافتہ ممالک کے چند افراد کے بارے میں بتایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے ذاتی مشاہدات میں بتایا گیا ہے کہ لڑکی بن کر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے ۔

آپریشن کرکے مجھے لڑکا بنا دیا جائے

اس درخواست میں یہ کہا گیا ہے کہ چونکہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور یہ کہ وہ نجی ہسپتالوں میں مہنگے آپریشن کرانے کی استطاعت نہیں رکھتی اس لیے سرکاری ہسپتال میں سرکاری خرچ پر اس کا جنس کی تبدیلی کا آپریشن کرایا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پاکستان میں یہ آپریشن کم ہوتے ہیں جبکہ میڈیکل کے طالبعلموں کو اس بارے تعلیم فراہم کرنا ضروری ہے تو اس آپریشن سے میڈیکل کے طلبا اور طالبات کو بھی سیکھنے کا موقع میسر ہو سکے گا ۔

یہ جینڈر ڈائفوریا کیا ہے؟

جب کسی انسان کو اپنی جنس کے بارے میں شکوک پیدا ہوں یا اسے ایسا لگے کہ اس کی جنس وہ نہیں ہے جس میں وہ رہ رہا ہے بلکہ وہ مخالف جنس کا ہے جیسے اگر کسی لڑکی کو لگے کہ وہ لڑکی نہیں بلکہ لڑکا ہے تو میڈیکل سائنس میں اسے جینڈر ڈائفوریا کہا جاتا ہے جس میں بچپن سے ہی اسے ایسا لگتا ہے کہ وہ مخالف جنس سے ہے ۔ مذکورہ لڑکی کو بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ لڑکا ہے اور یہ پردہ کرنا اس کے لیے مناسب نہیں ہے ۔ ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ نفسیاتی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے اور اس کے لیے بحالی مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں لیکن جنس کی تبدیلی ان کا حق ہے ۔

معاشرہ حالات جانے بغیر شرم دلاتا رہتا ہے

اس بارے میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں اور عام طور پر اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ سیف اللہ محب کاکا خیل نے بتایا کہ ایسے افراد کے لیے معاشرتی طور پر سخت دباؤ ہوتا ہے جو اپنی جنس تبدیل کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی نے اسی طرح کی درخواست عدالت میں دی تھی لیکن میڈیا میں خبریں آئیں جس میں اس لڑکی کی شناخت ظاہر کر دی گئی تھی تو اس پر اس لڑکی نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔ سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اس مرتبہ وہ لڑکی کی شناخت ظاہر نہیں کر رہے تاکہ اس مرتبہ کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو سکے ۔