#CoronaVirus: پاکستان واپسی کے لیے بےچین زائرین ایران میں مشکلات کا شکار

قم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہر برس پاکستانیوں کی بڑی تعداد ایران میں واقع مقامِ مقدسہ کی زیارات کے لیے سفر کرتی ہے
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر پاکستان اور ایران کی سرحد کی بندش کے نتیجے میں سرحد پر پھنسے 300 سے زیادہ زائرین اور تاجروں کو جمعے کو پاکستان میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے تاہم اب بھی پاکستانی زائرین کی بڑی تعداد ایران کے مقدس شہروں قم اور مشہد میں پھنسی ہوئی ہے۔

جمعے کو جو افراد پاکستان میں داخل ہوئے ان میں بھی اکثریت زائرین کی تھی جو گذشتہ چند روز سے پاکستان کے سرحد کے قریب ایرانی علاقے میں موجود تھے۔

تفتان کے اسسٹنٹ کمشنر نجیب قمبرانی نے فون پر بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ چونکہ زائرین ایران کے ان علاقوں سے آئے ہیں جو کہ کورونا وائرس سے متاثر ہیں اس لیے انھیں نگہداشت کے لیے قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے گا۔

تاہم اسسٹنٹ کمشنر کا یہ بھی کہنا تھا پاکستان آنے والے تاجر ان علاقوں میں نہیں گئے تھے جو کہ کورونا سے متاثر ہیں اور انھیں سکریننگ کے بعد جانے دیا جائے گا۔

تفتان میں قائم قرنطینہ کے مرکز میں پہلے سے 250 کے لگ بھگ زائرین موجود ہیں اور اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق انھیں کلیئرنس کے بعد سنیچر کو ان کے علاقوں کے لیے روانہ کر دیا جائے گا ۔

پاکستان سے ہر برس ہزاروں شیعہ زائرین ایران میں مقامِ مقدسہ کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں اور ان میں سے تقریباً تمام ہی مشہد اور قم کا رخ ضرور کرتے ہیں۔

مشہد میں شیعوں کے آٹھوں امام کے حرم سے چند منٹ کی دوری پر فلکِ آب کے علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں پاکستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سید مجتبٰی حسن اور ان کے خاندان کے دیگر چار افراد مقیم ہیں۔

ایران پاکستان سرحد
،تصویر کا کیپشنجمعے کو جو افراد پاکستان میں داخل ہوئے ان میں بھی اکثریت زائرین کی تھی جو گذشتہ چند روز سے پاکستان کے سرحد کے قریب ایرانی علاقے میں موجود تھے

یہ لوگ تقریباً 17 روز قبل ایران پہنچے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مجتبیٰ حسن کا کہنا تھا کہ وہ خود کو ہوٹل میں محصور محسوس کر رہے ہیں اور ’چند روز پہلے تک ایسا نہیں تھا۔'

حسن کے مطابق ہوٹل کی کھڑکی سے باہر جھانکو تو ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔ ’جمعے کو نماز کی غرض سے ہزاروں افراد امام رضا کے حرم کا رخ کرتے تھے لیکن اس جمعے کو حکام نے اعلان کر دیا تھا کہ باجماعت نماز حرم میں ادا نہیں کی جائے گی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم لوگ جو راشن ساتھ لائے ہوئے تھے وہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، باہر سے کچھ نہیں مل رہا۔ یہاں تک کہ ادویات اور ماسک تک اس وقت میسر نہیں ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل سے باہر نہ صرف فضا بدل چکی ہے، ایرانی شہریوں کا ان کے ساتھ رویہ بھی بدل چکا ہے۔ 'وہ کہتے ہیں کہ تم (پاکستانی) یہ (وائرس) ساتھ لے کر آئے ہو۔ یہاں تک کہ ہمیں کوئی دکان پر سودا سلف تک نہیں دیتا۔'

حسن کے مطابق وہ کہیں آ جا بھی نہیں سکتے۔ ’حکام نے بتایا ہے کہ بھیڑ میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘

'تمہارے ہی ملک کے نخرے ہیں'

اس وقت حسن اور ان کے ساتھ مشہد میں موجود دیگر پاکستانی شہریوں کی تمام تر توجہ ایران سے نکلنے پر مرکوز ہے مگر یہ اتنا آسان نہیں۔ پاکستان نے جہاں ایران کے ساتھ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے وہیں فضائی سفر بھی معطل ہے۔

پاکستان ایران سرحد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے جمعے کو عارضی طور پر ایران کے ساتھ سرحد کو کھول کر 300 زائرین کو ملک میں آنے کی اجازت دی ہے

حسن اور ان کے خاندان کو وائرس سے بھی خطرہ ہے اور ان کا ویزہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ وہ ویزے کی مدت میں اضافے کے لیے مقامی ایرانی ایجنسی گئے تھے لیکن انھوں نے ملنے ہی سے انکار کر دیا۔

حسن کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے مقامی قونصل خانے سے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ 'ایرانی حکام کہتے ہیں کہ ہمارے دروازے تو کھلے ہیں، آپ واپس جا سکتے ہیں مگر آپ ہی کے ملک کے نخرے زیادہ ہیں۔'

'سڑک پر بے یار و مددگار پڑے ہیں'

حسن کے مطابق جمعے کو چار بسوں میں سوار 200 کے قریب پاکستانی زائرین نے مشہد سے نکل کر سرحدی شہر زاہدان جانے کی کوشش کی مگر انہیں شہر میں داخلے سے قبل ہی روک لیا گیا تھا۔

'اب وہ سڑک پر بے یار و مددگار پڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کی ایک وزارت کا تحریری حکم نامہ میرے پاس موجود ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ غیر ایرانی زائرین کو (سرائے) وغیرہ میں جگہ نہ دی جائے۔'

حسن کے مطابق زاہدان سرحد پر رکے پاکستانی زائرین سے ان کا رابطہ ہوا تو معلوم ہوا کہ انہیں کسی سرائے میں بھی جگہ نہیں ملی۔ 'یہاں تک کہ انہیں شہر میں بھی داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ یہاں سردی بہت ہے اور وہ سڑک پر پڑے ہیں۔'

'جہاں تین وقت کا کھانا کھاتے تھے، اب دو وقت کا کھائیں گے'

جس جگہ حسن اور ان کے خاندان کے افراد ٹھہرے ہیں اس سے کچھ ہی فاصلے پر بازارِ رضا میں واقع چند ہوٹلوں میں پاکستانی زائرین کے تین سے زیادہ قافلوں کے لوگ ٹھہرے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

ایران کے سنسان علاقے
،تصویر کا کیپشنحسن کے مطابق ہوٹل کی کھڑکی سے باہر جھانکو تو ویرانی کا احساس ہوتا ہے

اس قافلے کے سالار رانا توصیف کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کے قافلے میں موجود لوگوں کی واپسی کی پروازیں قطر اور امارات ایئرلائن پر بک تھیں مگر وہ معطل کر دی گئی ہیں۔

'ہم اپنے پروگرام کے مطابق جو راشن لے کر آئے ہوئے تھے وہ ختم ہو چکا ہے۔ لوگ جو پیسے اپنے ساتھ لائے تھے وہ ختم ہو گئے ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ ان کے قافلے میں موجود افراد اب شہر کے ان علاقوں کی طرف نکل رہے ہیں جہاں انھیں سستی رہائش مل سکے۔ 'کوئی سستا ہوٹل تلاش کریں گے یا پھر جو مہمان سرائے ہیں وہاں رکنے کی کوشش کریں گے۔ جہاں تین وقت کا کھانا کھاتے تھے، اب دو وقت کا کھائیں گے۔'

رانا توصیف کا کہنا تھا کہ مشکل کے اس وقت میں وہ اپنے ملک کی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں اور وہی ان کی مدد کر سکتی ہے۔

'ہم جو بجٹ لائے تھے سارا ختم ہو چکا'

لاہور کے رہنے والے دو دوست سید کاظم عباس اور میاں حسن بادشاہ بھی خیابانِ امام رضا کے علاقے میں ایک ہوٹل میں مقیم ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کاظم عباس نے بتایا کہ انھیں بازار جانے کے لیے بھی مکمل تیاری کرنا پڑتی ہے۔

'کھانا تو ہم خود پکا لیتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بازار بند ہیں۔ ہمارے پاس نمک مرچ بھی ختم ہو چکا ہے۔ پینے کا صاف پانی نہیں ہوتا، وہ باہر سے ہی خریدنا پڑتا ہے۔ جو ہم بجٹ لے کر آئے تھے وہ سارا ختم ہو چکا ہے اس کورونا کی وجہ سے۔'

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کاظم کا کہنا تھا کہ شہر میں بھی سنسنی کی سی کیفیت طاری ہے۔ لوگ اجنبیوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ 'جو ہجوم ہم جب آئے تھے تو نظر آتا تھا اب وہ نہیں ہے۔ کوئی بات نہیں سنتا۔ کسی سے اگر راستہ سمجھنا ہو اور اسے فون پکڑاؤ وہ فون نہیں پکڑے گا۔'

'ڈرتے ہیں اگر ہمیں کورونا ہو گیا'

کاظم عباس کا کہنا تھا کہ انھیں یا ان کے کسی بھی جاننے والے میں تاحال کورونا کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔ ان کے پاس سرٹیفیکیٹ موجود ہیں جن میں لکھا ہے کہ ان کا ٹیسٹ منفی تھا۔ تاہم وہ خوفزدہ ہیں۔

'ابھی تو ہمیں شکر ہے کورونا نہیں ہے، ہم بہت احتیاط کر رہے ہیں لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہمیں وائرس لگ گیا اور اس وقت ہمیں کوئی ریلیف ملے تو کیا فائدہ۔'

وہ جلد از جلد ایران سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ان کی پرواز چار مارچ کو طے تھی مگر انھیں بتایا گیا ہے کہ وہ معطل ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران میں پاکستان کے قونصلیٹ اور حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے ان کا فون نہیں اٹھایا۔

'ہم صرف یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ کیا ہم کسی اور ملک کی طرف پرواز کر کے وہاں سے پاکستان کی طرف جا سکتے ہیں کیونکہ براہِ راست پروازیں تو بند ہیں۔'

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایران میں پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی بہت زیادہ احتیاط برتری جا رہی ہے

'ایرانی بہت ڈر گئے ہیں'

حسن مجتبٰی ڈار ایران کے شہر قُم میں موجود ہیں جو کورونا وائرس سے متاثرہ بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ حسن ڈار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا شہر ہی بند ہے۔'

’ایرانی بہت ڈر گئے ہیں۔ وہ خود کو بہت زیادہ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں یہاں تک کہ کچھ دن پہلے تک تو وہ کسی سے سلام بھی نہیں لے رہے تھے۔'

انھوں نے بتایا کہ وہ جب قُم پہنچے تھے تو اس وقت حالات ایسے تھے کہ 'ایرانی حکام زیارت میں ضریح کو ہاتھ تک نہیں لگانے دے رہے تھے۔ کوئی ہاتھ لگاتا تھا تو فوراً سپرے کر دیتے تھے۔'

حسن مجتبٰی کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت سے پاکستانیوں کو پریشانی کے عالم میں قم میں پھنسے ہوئے دیکھا ہے اور ان کے علم کے مطابق کسی میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ تاہم انھیں تشویش تھی کہ سرحد کب تک کھلے گی۔

'میرے پیسے ختم ہوئے تھے تو میں نے گھر سے منگوا لیے تھے۔ اب میں تو انتظار کر رہا ہوں کہ سرحد کھلے اور میں جاؤں۔'