بچوں پر جنسی تشدد: پاکستان کی قومی اسمبلی سے سرعام پھانسی کی قرارداد منظور ہونے پر سوشل میڈیا پر بحث

،تصویر کا ذریعہ@Ali_MuhammadPTI
پاکستان کی قومی اسمبلی نے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کی ایک قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کیا ہے۔
جمعے کو پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان کی طرف سے پیش کی جانے والی اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر اعظم یہ چاہتے ہیں کہ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر اُنھیں قتل کرنے کے مقدمات میں ملوث مجرمان کو سرعام پھانسی کی سزا دی جائے۔‘
حکومت کی جانب سے اس قرارداد کا قومی اسمبلی میں پیش کرنا تھا کہ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس قرارداد کے حق اور مخالفت میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ اور پاکستان میں ٹوئٹر پر اس موضوع کے بارے میں ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
حکومت کو سب سے پہلے اس قرارداد پر اپنی ہی جماعت کے ارکان کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے
جہاں ایک طرف انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اس پر اعتراض کیا وہیں وفاقی وزارت قانون و انصاف کی پارلیمانی سیکرٹری ملائکہ بخاری نے بھی ٹوئٹر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اس قرار داد کی مذمت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اپنی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’قومی اسمبلی میں آج سرعام پھانسی کے بارے میں پیش کی جانے والی قرارداد کی سختی سے مذمت کرتی ہوں، سرعام پھانسی مذہبی اور اخلاقی طور پر سزائے موت کی سب سے وحشی اور بری شکل ہے، جس کی کسی بھی جمہوری معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہر سطح پر اس طرح کے اقدام کی مخالفت کریں گے۔‘
جبکہ سابقہ رکن صوبائی اسمبلی سندھ ارم عظیم فاروق نے اس قرارداد کے حق میں بات کرتے ہوئے حکومتی وزرا کی جانب سے اس قرار داد کی مخالفت پر اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
انھوں نے لکھا کہ ’میں شیریں مزاری اور فواد چوہدری کی جانب سے ریپ کرنے والے مجرمان کو سزائے موت دینے کی مخالفت میں کی گئی ٹویٹس پر حیران اور انتہائی افسردہ ہوں۔ انھیں سمجھنا چاہیے کہ قرارداد پاس کرنا ایوان میں اکثریت کی رائے یا کسی قانون ساز ادارے کی مرضی کا اظہار ہے۔‘
اسی طرح عوامی حلقوں میں پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان کی پیش کردہ قرارداد کو بہت سے ٹوئٹر صارفین نے سراہا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ایک صارف نے اس قرارداد کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے پر ان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں اس قرارداد کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور ریپ کرنے والے مجرمان کو پاکستان میں سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ مستقبل میں کوئی ایسا فعل کرنے کی جرت نہیں کرے گا، بہت شاباش علی محمد خان، اور ان لبرلز کو شرم آنی چاہیے جو اس قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘
ایک اور ٹوئٹر صارف نے اس قرارداد کے حق میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ’دنیا میں قتل اور ریپ کے واقعات میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے، یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، برائے مہربانی اسے عالمی سطح پر معمولی مت سمجھیے۔ سخت اقدامات اٹھائیں اور سخت قوانین اور سزائیں دیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
اس قرارداد پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کی اداکار اور فلم پروڈیوسر عاشر عظیم نے ٹویٹ کیا کہ ’سزاؤں کے سخت ہونے سے زیادہ فرق اس بات سے پڑے گا کہ سزا یقینی طور پر ہو گی تو جرم کم ہوگا۔ وحشیانہ قوانین بنانے سے معاشرہ میں مزید بربریت کو فروغ ملے گا۔ یہ غلط سمت میں ایک قدم ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
اداکارہ مہوش حیات لکھتی ہیں کہ ’عجیب بات ہے، جب یہ ریپ اور قتل کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں تو ہم ان مجرمان کو سرے عام پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب حکومت اس سے اتفاق کر لیتی ہے تو ہم ’انسانی حقوق کی پامالیوں‘ کے پیچھے چھپنے لگتے ہیں۔ یہ بدقسمتی ہے لیکن ہمیں معاشرے سے اس گندگی کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی سارہ بلال نے مختلف لوگوں کو ان کی ٹوئٹس پر جواب دیا اور ایک موقع پر کہا کہ بچوں کا ریپ اور قتل ایک بدترین جرم ہے اور مشورہ دیا کہ اس قسم کے اقدامات سے معاشرے سے اس بربریت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور اس کے حل کے لیے بچوں کے حقوق کے ماہرین کو سننا چاہیے۔












