بچوں کا جنسی استحصال: پاکستان میں ’سیکس اوفینڈر رجسٹر‘ کیوں موجود نہیں؟

،تصویر کا ذریعہThinkstock
- مصنف, بلال کریم مغل اور دانش حسین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کوئی نئی چیز نہیں تاہم چار برس قبل قصور میں ایسے منظم واقعات کی ویڈیوز اور پھر گذشتہ برس اسی ضلعے میں پیش آنے والے زینب کیس کے سامنے بعد اس سلسلے میں عوامی تشویش بڑھی ہے۔
حکومت کی جانب سے ایسے واقعات کی روک تھام اور ان میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیوں کے لیے قانون سازی بھی کی گئی ہے تاہم ان اقدامات کے باوجود پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات سامنے آنے کا سلسلہ رک نہیں رہا۔
منگل کو صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں پولیس نے ایک ایسے ہی شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس نے پولیس کے بقول 30 بچوں سے جنسی زیادتی اور ان کی ویڈیوز فروخت کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پولیس کے مطابق یہ شخص ماضی میں برطانیہ اور اٹلی جیسے یورپی ممالک میں ایسے جرائم میں ملوث رہ چکا ہے اور برطانیہ میں ایک بچے سے جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار سال قید کی سزا بھی بھگت چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی حکام نے سہیل ایاز نامی اس شخص کو اس جرم کی بنا کر ملک بدر کر کے واپس پاکستان بھیجا تھا اور واپسی کے بعد وہ خیبر پختونِخوا کی صوبائی حکومت کے ایک منصوبے میں بطور مشیر کام بھی کرتے رہے۔
پاکستان میں اب اسی قسم کے جرائم کے الزام میں ان کی دوبارہ گرفتاری کے بعد یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ آیا ملک میں بچوں سے جنسی بدسلوکی یا استحصال میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے کوئی نظام موجود کیوں نہیں۔
سیکس اوفینڈرز رجسٹر کیا ہے؟
پاکستان کے ہمسایہ ملک انڈیا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اس مسئلے کے تدارک کے لیے سیکس اوفینڈر رجسٹر نامی ایک فہرست مرتب کی جاتی ہے جس میں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے نام شامل کیے جاتے ہیں۔
لندن میں مقیم وکیل مزمل مختار کے مطابق برطانیہ میں سنہ 2003 میں پاس ہونے والے قانون کے تحت 'وائلنٹ اینڈ سیکس اوفینڈرز رجسٹر' رکھا جاتا ہے جس میں ہر اس شخص کا نام درج کیا جاتا ہے جو سیکس سے متعلقہ کسی بھی نوعیت کے جرم میں سزا یافتہ ہو۔
’اگر کسی شخص کو سیکس سے متعلقہ جرم میں چھ ماہ یا اس سے زائد عرصے کی سزا ہوتی ہے تو اس کا نام رجسٹر میں اگلے دس برس تک کے لیے درج کر لیا جاتا ہے اور اگر سزا 30 ماہ سے زائد ہے تو ایسے مجرم کا نام غیر معینہ مدت تک کے لیے رجسٹر میں درج رہتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہThinkstock
مزمل مختار کے مطابق ڈیٹا پروٹیکشن کے قوانین کے تحت عوام کو اس رجسٹر تک براہ راست رسائی نہیں ہوتی تاہم معلومات تک رسائی کے قوانین کے تحت کوئی بھی شخص پولیس سے کسی مشتبہ شخص کے حوالے سے معلومات لے سکتا ہے کہ آیا اس کا نام رجسٹر میں موجود ہے یا نہیں۔
اس رجسٹر کا مقصد سیکس سے متعلقہ جرائم میں ملوث مجرمان کو مستقبل میں عوام بالخصوص بچوں سے دور رکھنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں عام طریقہ کار یہ ہے کہ کسی بھی کمپنی یا ادارے میں نوکری دینے سے قبل درخواست گزار سے ایک فارم دستخط کروایا جاتا ہے جس میں اس کی نوکری کو کریمینل ریکارڈ کی چھان بین سے مشروط کیا جاتا ہے۔
’نوکری دینے سے قبل یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی نئے آنے والے ملازم کا ماضی میں کوئی کریمینل ریکارڈ تو نہیں ہے، یا کسی کیس میں وہ زیر تفتیش تو نہیں۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ان کی ذاتی رائے میں سیکس میں متعلقہ جرم میں سزا یافتہ شخص جس کا نام رجسٹر میں موجود ہو اس کے لیے برطانیہ میں نوکری ملنے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
اس جرم میں ملوث شخص جب جیل سے باہر بھی آ جاتا ہے تو اس پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالت پر منحصر ہوتا ہے کہ جیل سے باہر انھیں اس نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس فہرست میں شامل افراد پر کئی طرح کی پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں مثلاً انٹرنیٹ کا استعمال، سکولوں یا ڈے کیئر سینٹرز کے پاس رہائش، بچوں کے پاس موجودگی وغیرہ وغیرہ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سیکس اوفینڈرز رجسٹر کیوں نہیں؟
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن اور قانون دان رانا آصف حبیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی تک ایسا کوئی مرکزی ڈیٹابیس موجود نہیں ہے جو جنسی جرائم میں ملوث شخص کی نشاندہی کر سکے اور ان پر مسلسل نظر رکھ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ اگر مجرمان کے ڈیٹا کے تبادلے کے دو طرفہ معاہدے ہوں تو اس طرح کے واقعات کو مزید روکا جا سکتا ہے۔
چائلڈ پروٹیکشن بیورو لاہور کے ایک افسر کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں سرکاری یا نجی اداروں میں نوکری سے قبل درخواست گزار سے پولیس سرٹیفیکیٹ نہیں مانگا جاتا۔
'یہ مانگا جاتا ہے مگر یہ صرف کاغذی کارروائی کی حد تک ہوتا ہے جس میں متعلقہ تھانے سے یہ فارم سائن کروانا ہوتا ہے کہ درخواست گزار کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ جب پولیس کا نظام کمپیوٹرائیزڈ ہی نہیں تو یہ کیسے پتا چلے کہ مجرمانہ ریکارڈ ہے یا نہیں؟'
انھوں نے کہا کہ 'سیکس اوفینڈرز رجسٹر' بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے اور ای سی ایل کی طرز پر سیکس اوفینڈرز کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت ہے۔'
سہیل ایاز کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رانا آصف کا کہنا تھا کہ ہر ڈی پورٹ ہونے والے شخص کے ساتھ مکمل دستاویزی ثبوت ہوتے ہیں کہ انھیں کیوں ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے اور سوال یہ ہے کہ ڈی پورٹ ہونے والے اس شخص کا ریکارڈ پاکستان میں اب تک کیوں اعلیٰ سطح تک نہیں پہنچایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کے امیگریشن ڈیٹا کو اگر مرتب کر کے تمام سرکاری اداروں کے لیے قابلِ رسائی رکھا جائے تو دیگر ممالک سے جرائم کر کے پاکستان آنے والے افراد پر نظر رکھنی ممکن ہو سکتی ہے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی پاکستانی تنظیموں پر مشتمل ادارے چائلڈ رائٹس موومنٹ (سی آر ایم) کے نیشنل کوآرڈینیٹر ممتاز گوہر بھی رانا آصف حبیب کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قصور میں زینب کے قتل کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ یہ ’ٹیسٹ کیس‘ ثابت ہوگا اور اس طرح کے جرائم کی روک تھام اور ان کے ارتکاب پر سخت سزاؤں کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی مگر کچھ خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر زینب الرٹ بل متعارف تو کروایا گیا مگر یہ اب تک منظور نہیں ہو سکا ہے۔ یہ اور اس کے علاوہ دیگر قانونی سقم دور کرنے سے ہی اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔
ممتاز گوہر کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں اب فارینسک سائیکاٹری کے ذریعے مجرموں کا نفسیاتی تجزیہ کر کے وہ وجوہات جانی جاتی ہیں جن کی بنا پر وہ ایسے جرائم پر آمادہ ہوتے ہیں، وہیں پاکستان میں اب تک یہ تصور ناپید ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر مجرموں کی نفسیات کا تجزیہ کیا جائے تو کئی باتیں واضح ہوسکتی ہیں جن میں انھیں اس جرم پر مائل کرنے والے عوامل اور ان کے دوبارہ جرم کرنے کے امکانات شامل ہیں، جنھیں پرکھ کر انھیں خصوصی ڈیٹابیس کا حصہ بنانا چاہیے۔
اس سے ان کے مطابق اس طرح کے لوگوں پر نظر رکھنے میں مدد ملے گی جس سے جنسی جرائم کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔











