پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

منظور پشتین
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور احمد پشتین پر عائد چار مقدمات میں سے دو مقدمات پر ضمانت کی درخواست پر جمعہ کو سماعت ہوئی لیکن عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی عدالت میں جمعہ کو منظور احمد پشتین کی جانب سے اسد عزیز ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھی پیش ہوئے۔

پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ دو مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر آج بحث ہوئی جس کے بعد جج نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور توقع ہے کہ ان دو مقدمات پر فیصلہ کل سنا دیا جائے گا جبکہ مزید دو مقدمات پر ضمانت کی درخواست آئندہ ہفتے داخل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

منظور پشتین پر ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس تھانے میں مختلف دفعات کے تحت 21 جنوری کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں 16 ایم پی او، 123اے،124 اے، 120 بی ، 153 اے اور 506 کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

اس ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور احمد پشتین نے اپنی ایک تقریر میں ریاست کے خلاف توہین آمیز اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی اور مختلف قومیتوں کے درمیان نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

منظور پشتین کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور دیگر کارکن اور رہنما بھی ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے تھے۔

محسن داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ منظور پشتین سے سنٹرل جیل میں انھوں نے ساتھیوں سمیت ملاقات کی ہے اور اس میں مختلف قسم کی بات چیت ہوئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ان کے ہمراہ ان کے باقی ساتھی بھی تھے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات کے ذریعے ہی اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور منظور پشتین نے بھی یہی کہا کہ انھیں مذاکرات سے انکار نہیں ہے لیکن ان مذاکرات کے لیے وہ اپنے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ اپنے موقف پر قائم رہیں گے ۔

یاد رہے چند روز پہلے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی ایم کے قائدین کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے ۔

منظور پشتین کو 27 جنوری کو رات گئے پشاور کے علاقے تہکال سے گرفتار کر لیا گیا تھا ۔

تہکال پولیس کے اہلکار نے بتایا تھا کہ منظور پشتین مختلف مقدمات میں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو مطلوب تھا جس کے بنیاد پر انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق رات ایک بجے کے قریب تہکال کے علاقے شاہین کالونی میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے منظور پشتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان کے ہمراہ مزید چار سے پانچ افراد ہیں جنھیں کرایہ داری قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے ۔

منظور پشتین کی ضمانت پر رہائی کے لیے پشاور کی عدالت میں درخواست دی گئی تھی لیکن عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے منظور پشتین کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی تحویل میں دینے کا حکم دیا تھا۔

منظور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں سمیت دیگر ممالک میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے مظاہرے کے دوران پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا تھا ۔گرفتار افراد میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ شامل تھے جنھیں چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا ۔