پی ٹی ایم کا بنوں میں جلسہ، کوریج صرف سوشل میڈیا پر

پشتون تحفظ موومنٹ کے بنوں میں ہونے والے جلسے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور جبری گمشدگیوں اور بارودی سرنگوں کے خاتمے جیسے مطالبات کو دہرایا۔ لیکن جہاں سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کا جلسہ زیر بحث رہا وہیں مقامی میڈیا پر اس کا ذکر غائب رہا۔
پی ٹی ایم کے حامیوں نے ٹوئٹر پر جلسہ گاہ کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں اور ہیش ٹیگ PashtunLongMarch2Bannu کے ذریعے اپنی سپورٹ کا اظہار کیا۔
جبکہ اس جلسے کی مخالفت میں بھی کئی ٹرینڈ دیکھنے میں آئے جن میں #DeceitOfPTM اور #EthnicExtremistPTM شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
میڈیا کی جانب سے پی ٹی ایم جلسے کو کوریج نہ دینے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شفیع داوڑ کا کہنا تھا:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

تابندہ خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کو میڈیا کووریج سے محروم کرنے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے بجائے، پاکستان کی طاقت کے مرکز کو اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ چھوٹے صوبوں کے لوگوں کو جنگ اور معاشی استحصال کے علاوہ اس وفاق سے کیا حاصل ہوا؟

جبکہ عمران خان نے شرکاء سے کھچا کھچ بھری جلسہ گاہ کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی جانب سے بائیکاٹ اور (پی ٹی ایم ) کے کارکنان کی گرفتاریوں کے باوجود یہ (لوگوں کی تعداد) بہت متاثرکن ہے۔ یہ ہوتی ہے اصل مسائل اجاگر کرنے کی طاقت۔

عمر علی نے بھی جلسے میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد کو سرہاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم یہاں رہنے کے لیے ہے۔

جبکہ پی ٹی ایم کے جلسے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کافی عرصے سے خاموش تھی خاص طور پر محسن داوڑ اور علی وزیر کی ریاست کے خلاف اکسانے پر گرفتاری اور خیبر پختونخوا میں انتخابات میں شکست کے بعد اس کا دوبارہ سے حرکت میں آنا ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

جبکہ صارف کاشف کا کہنا تھا پی ٹی ایم کا بیانیہ جس کا اظہار منظور پشتین کی جانب سے پشاور لاہور اور سوات میں کیا گیا ایک محب الوطن پاکستانی کا نہیں ہو سکتا۔












