پی ٹی ایم کے جلسے کی کوریج پر دو قبائلی صحافیوں کے خلاف مقدمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی طرف سے دو قبائلی صحافیوں کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک احتجاجی جلسے میں ’شرکت‘ کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ڈیرہ اسمعیل خان کے تھانہ سٹی میں درج ایف آئی آر میں سیلاب محسود اور ظفر وزیر کو بحثیت ملزمان نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ دونوں صحافیوں نے پی ٹی ایم کے احتجاج میں شرکت کی، جہاں پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے تھے۔
پی ٹی ایم کی جانب سے اپنے کارکنوں کے رہائی کے لیے چند دن قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔
ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ترجمان وحید نے دعویٰ کیا کہ سیلاب محسود اور ظفر وزیر بھی پی ٹی ایم کے ساتھ ان کے احتجاج میں شامل تھے اور انھوں نے سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرہ بازی کی، جس کی وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSailaab Mehsud
تاہم ایف آئی آر میں نامزد سینیئر صحافی اور ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے بانی رہنما سیلاب محسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی ایم کے احتجاج میں شریک نہیں تھے، بلکہ اس احتجاج کی کوریج کے لیے گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ 'ہم دونوں اس مقدمے کو نہیں مانتے اور نہ کبھی اس میں ضمانت کرائیں گے۔ ہم نے کبھی پاکستان یا فوج کے خلاف نعرے لگائے اور نہ کبھی ایسا سوچا ہے۔'
ایف آئی آر میں صحافیوں سمیت تقریباً 20 قریب افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی علی وزیر اور پی ٹی ایم کے دیگر رہنما بھی شامل ہیں۔
کچھ عرصے سے یہ تاثر ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے کوریج رکی ہوئی ہے۔ پی ٹی ایم کے بیشتر جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کی کوریج کے لیے پارٹی ارکان سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ صحافیوں کے خلاف پی ٹی ایم کے جلسوں کی کوریج کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا ہو۔
پی ٹی ایم پر شروع سے ہی ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہZafar Wazir
اس بارے میں مزید پڑھیے
سوال یہ ہے کہ پشتون تحفط موومنٹ کی میڈیا کوریج پر پابندی کیوں ہے؟ پی ٹی ایم کالعدم تنظیم تو نہیں، پھر مقامی میڈیا کی جانب سے اتنی خاموشی کیوں ہے؟
سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ پی ٹی ایم کے حوالے سے ریاستی پالیسیوں میں کافی ابہام اور تضاد پایا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا: 'پی ٹی ایم تو اب اسمبلی میں بھی پہنچ چکی ہے، ان کے دو رہنما قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ پی ٹی ایم سے سیاسی اختلاف کیا جاسکتا ہے، ان کے رائے پر اعتراض کیا جاسکتا ہے، لیکن انھیں آئین پاکستان کے مطابق جلسہ یا جلوس کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا جب تک پی ٹی ایم کالعدم نہیں قرار دی جاتی، اس وقت تک انھیں قانون کے مطابق جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور ایسے احتجاج کی کوریج کرنا ہر صحافی کا قانونی حق بنتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں حامد میر نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر غیر اعلانیہ طور پر سنسرشپ ہو رہی ہے، جس کے تحت پی ٹی ایم کی کوریج کو بھی روکا جارہا ہے۔











