بچوں کے جلنے کے واقعات: 'وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اپنی تکلیف بھی نہیں بتا سکتا تھا'

- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
'میرا بیٹا گرم پانی سے جلا تھا۔ وہ بری طرح تڑپ رہا تھا۔ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اپنی تکلیف بھی نہیں بتا سکتا تھا۔ اس کی جلد میرے ہاتھ میں آ گئی تھی اور میں اس کی جلد کو دیکھ کر بےہوش ہو گئی۔'
لاہور سے تعلق رکھنے والی زارا کاشف واحد ماں نہیں جن کا بچہ چار ماہ کی عمر میں گرم مائع سے جلا۔
ماہرین کے مطابق بچوں کے جلنے کے واقعات میں 59 فیصد حادثات ایسے ہیں جو ہر سال کسی کی غلطی اور بے احتیاطی کے باعث پیش آتے ہیں۔
لاہور کے شالامار ہسپتال میں چھوٹی عمر کے بچوں کے لیے خاص برن سنٹر قائم ہے جہاں ہر سال جلنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد علاج کے لیے لائی جاتی ہے۔
ڈاکٹر جبران ربانی (پلاسٹک سرجن) شالامار ہسپتال میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھاتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ڈاکٹروں کی تحقیق سے پتا چلا کہ کس عمر کے بچے جل کر ہمارے پاس آتے ہیں اور اس کی وجوہات کیا ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ صرف ان کے ہسپتال میں ہی پچھلے ایک سال میں 13سال سے کم عمر کے تقریباً 654 بچے جلنے کے بعد لائے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کی گئی ان کی تحقیق سے پتا چلا کہ 59 فیصد کیس ایسے ہیں جو بچائے جا سکتے تھے۔ اسی طرح ایک غیرملکی تحقیق سامنے آئی جس کے مطابق 75 فیصد کیس ایسے ہیں جن میں احتیاط نا کرنے کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات روکے جا سکتے تھے۔
اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر طارق اقبال کے مطابق پاکستان میں روزانہ ہر پانچ منٹ میں ایک شخص جلتا ہے۔ تاہم ایک ماہ سے پانچ سال کے بچوں میں جل جانا اموات کی دوسری بڑی وجہ بنتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
بچوں کے جلنے کی عام وجوہات کیا ہیں؟
ڈاکٹر جبران ربانی نے بتایا کہ بچے زیادہ تر گرم پانی، دودھ یا چائے کی وجہ سے جلتے ہیں۔ ان وجوہات کے علاوہ دیگر اور بھی وجوہات ہیں جیسا کہ بجلی کا شاٹ سرکٹ یا گھر میں آگ لگنا وغیرہ۔
وہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر جلنے والے بچوں کی عمر تین سے سات سال کے درمیان ہوتی ہے۔ اس عمر کے بچوں کو ہر چیز جاننے کا تجسس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ چیزوں کو چھیڑتے ہیں اور ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ چھوٹے بچوں کے جلنے کی عام وجہ والدین یا گھر کے بڑوں کا اس بات کا خیال نہ رکھنا ہے کہ گرم چیزوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔
جلنے کے حادثات بچوں اور والدین، دونوں کے لیے تکلیف دہ
ماہرین کے مطابق جب بچہ جلتا ہے تو زخم کے نشان بچے کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن پر بھی گہرے اثرات چھوڑتے ہیں جس سے بچے کی شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ تاہم چھوٹی عمر کے بچوں کے جلنے کے واقعات بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی انتہائی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے زارا کاشف بتاتی ہیں کہ ان کے بیٹے کی عمر چار ماہ تھی جب وہ گرم پانی سے جلا تھا۔
آپ بیتی بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پانی ابال کر میز پر رکھا۔ میں اور میرے شوہر بیٹے کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے لگا میرا بیٹا بہت چھوٹا ہے اور خود سے ہل نہیں سکتا۔ اچانک اس کا کمبل گرم پانی میں گر گیا اور وہ پانی کافی زیادہ گرم تھا۔‘
’ایک دم سے اس کے کمبل میں سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا۔ بچے کو پکڑتے ہوئے میرے شوہر کا ہاتھ بھی جل گیا۔ میں حیران تھی کہ کپڑوں کی اتنی موٹی تہہ ہونے کے باوجود بچہ کیسے جل سکتا ہے۔ یہ سب چند سیکنڈوں میں ہوا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے فوراً اسے دوا لگا دی اور ہم وقت ضائع کیے بغیر اسے ایک نجی ہسپتال لے گئے۔ ہسپتال والوں نے کہا کہ اتنے چھوٹے بچے کے لیے برن یونٹ نہیں ہے آپ اسے میو ہسپتال لے جائیں۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ صرف شالامار ہسپتال میں بچوں کے لیے ایک برن یونٹ ہے۔ ہم اسے یہاں لے آئے اور اس وقت سے اس کا علاج چل رہا ہے۔‘
زارا کا مزید کہنا تھا کہ جلنے کے بعد اتنے چھوٹے بچے کو سنبھالنا بہت مشکل کام ہے۔ میرا بیٹا ایک طرف سے جلا ہوا تھا اور میں اسے دن رات ہاتھ میں لے کر بیٹھی رہتی تھی۔ میں اسے لٹا سکتی تھی نا ہی کسی کو پکڑا سکتی تھی۔ وہ بہت مشکل وقت تھا۔ میرے بچے نے دودھ تک پینا چھوڑ دیا۔
’اس کی پہلی پٹی کھلنا بہت تکلیف دہ تھا، اس کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی۔ اتنا چھوٹا بچہ تو یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ اسے کہاں تکلیف ہو رہی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ میں اس واقعے سے یہ سیکھا ہے کہ اپنے بچے کو ہر اس چیز سے دور رکھیں جس سے اسے جلنے کا خطرہ ہو۔
جلنے سے کس قسم کے زخم ہو سکتے ہیں؟
برطانوی ادارہ برائے صحت کے مطابق جلنے سے ہونے والے زخموں کی چار اقسام ہیں۔
- پہلی ڈگری کے زخم میں ایپی ڈرمس یعنی جلد کا باہری حصہ جلتا ہے۔ جلد لال ہو جاتی ہے، سوجن بھی ہو سکتی ہے لیکن چھالے نہیں بنتے۔
- دوسری ڈگری کے زخم میں ایپی ڈرمس اور ڈرمس یعنی جلد کے نیچے موجود ٹیشو کا کچھ حصہ جل جاتا ہے۔ جلی ہوئی جلد کا رنگ گلابی ہو جاتا ہے اور چھوٹے چھالے بھی بن سکتے ہیں۔
- تیسری ڈگری کے زخم میں ایپی ڈرمس اور ڈرمس دونوں جل جاتے ہیں۔ جلد لال ہو جاتی ہے، گیلی یا بالکل سوکھ سکتی ہے اس پر چھالے بن سکتے ہیں اور سوجن ہو جاتی ہے۔
- چوتھی ڈگری کے زخم میں ایپی ڈرمس، ڈرمس اور سب کیوٹس یعنی ٹیشو اور چربی کی تہہ مکمل طور پر جل جاتی ہے۔ جلد جل کر موم کی مانند ہو جاتی ہے، ٹیشو کی تہہ کا رنگ سفید یا سیاہ ہو جاتا ہے۔ باقی جلد سفید، سیاہ یا بھورے رنگ کی ہو جاتی ہے۔
جلد جل جائے تو کیا کیا جائے؟
ڈاکٹروں کے مطابق لوگوں کو علم نہیں ہوتا کہ ہسپتال لانے سے پہلے جلنے کے شکار مریض کے جسم پر چھالے بننے سے روکنے کے لیے کیا فوری اقدامات کرنے چاہییں۔
ڈاکٹر جبران کہتے ہیں کہ کچھ والدین بچوں کے زخم پر دیسی ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں جس سے زخم مزید خراب ہو جاتا ہے۔
’اگر جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اسے فوری طور پر نل کے پانی کے نیچے کم از کم 20 منٹ کے لیے رکھا جائے تاکہ جلنے کی ڈگری میں کمی آئے۔‘

خوشاب سے تعلق رکنے والے شبیر احمد نے بتایا کہ گھر میں چائے بن رہی تھی اور ان کا پانچ سالہ بیٹا پاس ہی کھیل رہا تھا۔ اسے ٹھوکر لگی اور وہ چائے میں جا گرا اور جل گیا۔
شبیر نے مزید بتایا کہ وہ بیٹے کو علاج کے لیے گاؤں کے ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آٹھ پٹیوں کے بعد بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔ تین پٹیاں کروانے کے بعد بچے نے جلنے والی جگہ پر خارش کرنا شروع کر دی۔
’ہمیں یہ پتا تھا کہ جب زخم پر خارش شروع ہو جائے تو وہ ٹھیک ہونے کی نشانی ہوتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ابھی بچہ ٹھیک نہیں ہوا تھا کہ ہمارے بزرگوں نے مسور کی دال جلا کر اسے پیسا اور بچے کے زخم پر لگا دی۔ بچے کا زخم خراب ہو گیا اور چھالے بن گئے۔ ہم پھر ڈاکٹر کے پاس گئے تو ڈاکٹر نے کہا کہ اگر آپ نے دیسی علاج کرنا ہے تو بچے کو واپس لے جائیں۔ جس کے بعد ہم نے منت کر کے پٹی کروائی۔
شبیر نے بتایا کہ ’کام کے غرض سے میں گاؤں سے باہر رہتا ہوں۔ گاؤں والوں نے کہا کہ ناریل کا خول جلا کر زخم پر لگاؤ تو زخم ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ناریل کے مرہم سے زخم ٹھیک تو ہو گیا لیکن میرے بچے کے بازو کی جلد کھچنا شروع ہو گئی اور اس کے بازو کا اوپر والا حصہ اور نیچے والا حصہ ایک ساتھ جڑ گیا۔‘
وہ کہتے ہیں ’اس کا زخم اتنا بگڑ گیا تھا کہ ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ پھر ہم لاہور آئے اور ہم نے بچے کا آپریشن کروایا۔ اب میرے بچے کی تھراپی چل رہی ہے اور وہ ٹھیک ہے۔‘
ارم تین بچوں کی ماں ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 'میرا بیٹا چار سال کا ہے۔ گھر میں چولہا نیچے پڑا ہوا تھا اور اس پر پانی ابل رہا تھا۔ میرا بیٹا اسی جگہ پر سائیکل چلا رہا تھا۔ اچانک سائیکل کا ٹائر نکل گیا اور وہ گر پڑا۔ اس کا پورا ہاتھ گرم پانی کے پتیلے میں چلا گیا۔'
ارم کہتی ہیں کہ انھیں نہیں پتا تھا کہ جلنے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔ پھر بھی انھوں نے فوراً اپنے بچے کا ہاتھ پانی کے نیچے رکھ دیا اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔
ان حادثات سے کیسے بچا سکتا ہے؟
ڈاکٹر جبران ربانی نے بتایا کہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے بچوں کو گرم چیز سے کم از کم پانچ قدم دور رکھا جائے۔ ہم نے برن مہم کا آغاز کیا ہے جس میں ہم یہ آگاہی لوگوں تک پہنچا رہے ہیں کہ چائے پیتے ہوئے بچوں کو اپنے پاس مت آنے دیں کیونکہ پاکستان میں بچے سب سے زیادہ گرم چائے گرنے سے جلتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ جلنے کے بعد ڈگری کا تعین جلنے کی نویت سے لگایا جاتا ہے۔ زیادہ تر اموات جلد کے مکمل طور پر جلنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
زارا کاشف کہتی ہیں کہ میں چاہتی ہوں کہ والدین یہ بات سمجھیں کہ ہماری تھوڑی سی لاپرواہی بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹروں اور حکومت کو چاہیے کہ لوگوں خصوصاً والدین کے لیے بار بار ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر اشتہار چلائیں اور آگاہی دیں کہ اپنے بچوں کو جلنے سے کیسے بچائیں اور کیا احتیاط کریں۔











