سپیشل ایجوکیشن کے لیے فنڈز کی کمی: معذور طلبا کی مشکلات حل کرنا پنجاب حکومت کی ترجیح کیوں نہیں؟

سپیشل ایجوکیشن
    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

چکوال سے تعلق رکھنے والے نابینا طالب علم فہیم رضا کی بی اے کی ڈگری مکمل ہونے میں ایک سال باقی ہے۔ وہ پچھلے تین برس سے لاہور کے ایک سپیشل ایجوکیشن ڈگری کالج میں زیر تعلیم ہیں اور اسی کے ہاسٹل میں رہتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے ان کے لیے گزارا کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

’نہ تو ہماری بسیں چل رہی تھیں اور نہ ہی ہاسٹل کا میس۔ اس کی وجہ سے ہمیں اپنے گھر والوں سے پیسے منگوا کر گزارا کرنا پڑتا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ میس بند ہونے کی وجہ سے انھیں تین وقت کا کھانا باہر ہوٹل جا کر کھانا پڑتا۔ چونکہ وہ نابینا ہیں اس لیے وہ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ وہاں جاتے تھے۔ ’کھانے پینے کے اخراجات سمیت ہمارا روزانہ کا خرچہ تقریباً تین سو روپے ہے جو کہ ہمارا بجٹ آؤٹ کر دیتا ہے۔‘

فہیم کو درپیش مسائل کی داستان سپیشل سکول اور یا کالج کے کسی اور طالب علم سے منفرد نہیں۔ دراصل اگست 2018 سے لاہور کے 20 سپیشل ایجوکیشن سکولز اور کالجز بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل میں گِھرے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سپیشل ایجوکیشن ڈگری کالج کی انتظامیہ کے مطابق ان کے ہاں زیر تعلیم طلبا کی تعداد 375 ہے جن میں سے 250 کو ادارہ پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتا ہے۔

بی بی سی نے جب لاہور کے چند سپیشل ایجوکیشن سکولوں اور کالجوں کا دورہ کیا تو وہاں کی انتظامیہ طالب علموں اور ان کی والدین سے معلوم ہوا کہ کافی عرصے سے ادارے کی بسیں نہیں چل رہی تھیں اور نہ ہی میس میں کھانا مہیا کیا جا رہا تھا۔

سپیشل ایجوکیشن

ہمیں کالج کے احاطے میں داخل ہونے سے یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ ’میڈیا کو اندر جانے کی اجازت نہیں۔‘ تاہم جب ہم انتظامیہ کے ایک اہلکار کے دفتر پہنچے تو صورتحال کچھ واضح ہوئی۔

سپیشل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے چند اہلکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے پاس محکمے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بجٹ ہی نہیں ہے۔

’جب سے یہ مسئلہ شروع ہوا تب سے سکول آنے والے طالب علموں کی تعداد میں کافی کمی آ رہی ہے۔‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ سپیشل سکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے زیادہ تر بچوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے جن کے والدین ان کی تعلیم کے علاوہ ان کے رہنے سہنے کا خرچہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

ہماری دفتر میں موجودگی کے دوران ہی اہلکار کو چند پریشان والدین کی کالز موصول ہوئیں۔ سب کو یہی جواب ملا: ’کل (جمعرات) سے کالج کی بسیں چلنی شروع ہو جائیں گی اور بچوں کو اُن کے مخصوص پِک اپ پوائنٹس سے ہی لیا جائے گا۔‘

سپیشل ایجوکیشن

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ جب ان کے ادارے کا بجٹ ختم ہونے والا تھا تو انھوں نے حکام کو اطلاع دے دی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت محکمے کی جانب سے کہا گیا کہ بجٹ کے معاملات چل رہے ہیں جو جلد ہی حل ہو جائیں گے۔

’پیٹرول پمپس نے ہمیں تیل دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ہم ان کے واجبات ادا نہیں کر پا رہے تھے، اسی لیے بسیں بند ہوئیں۔ لیکن اب ہم نے نئے پمپ سے معاہدہ کر لیا ہے۔‘

انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو لاہور کے ٹاؤن ہال میں ان کی ایک میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ ہم ’دو، تین دن کے لیے اپنی جیب سے خرچہ کریں‘ اور یقین دہانی کروائی گئی کہ ’آپ کا بجٹ جاری کر دیا گیا ہے اور کچھ ہی عرصے میں یہ تمام معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔‘

انتظامیہ کے مطابق انھیں ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 81 لاکھ روپے کا نیا بجٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

سپیشل ایجوکیشن

،تصویر کا ذریعہTwitter/PTIofficial

پنجاب حکومت نے اس سال کے بجٹ میں سپیشل ایجوکیشن کو ترجیح دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود پنجاب کے وزیر برائے اسپیشل ایجوکیشن محمد اخلاق سے جب ان مسائل کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ مسائل سرکاری عمل میں تاخیر کے باعث پیدا ہوئے۔

تاہم سیکریٹری سپیشل ایجوکیشن سید جاوید اقبال نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بجٹ کے مسائل کی جڑ ضلعی حکومت کی جانب سے فنڈز کا نہ جاری ہونا ہے۔ ان کے مطابق محکمے کو ہر تین مہینے بعد تقریباً پانچ کروڑ روپے کی فنڈنگ دی جاتی تھی۔

تاہم ضلعی حکومت پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ڈی سی او لاہور دانش افضال نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ سپیشل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے فنڈز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے پاس ہوتے ہیں اور یہ تعلیمی بجٹ کا 20 فیصد حصہ ہے۔

’ہم نے (گذشتہ برس) سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو 3 کروڑ 80 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کیے تھے جو انھوں نے استعمال کر لیے ہیں، اسی وجہ سے بچوں کی بسیں اور میس بند ہوئے۔‘

ان کے مطابق یہ محکمے کی کوتاہی ہے کہ اس نے اپنی ضروریات کا صحیح طرح تعین نہیں کیا جس کی وجہ سے انھیں فنڈز کی کمی کا سامنا ہوا۔

سپیشل ایجوکیشن

لیکن جب فہیم اور دیگر طالب علموں کے والدین اپنے مسائل لے کر ادارے کی انتظامیہ کے پاس گئے تو انھیں بھی یہی جواب ملا: ’بجٹ نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم نے احتجاج کیے اور پھر سیکریٹری سپیشل ایجوکیشن اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس بھی گئے لیکن ہماری سنوائی نہیں ہوئی۔ اگر ہماری جگہ کسی سیاست دان یا بیوروکریٹ کے بچے کا کوئی مسئلہ ہوتا تو حکومت اسے فوری طور پر حل کرتی۔‘

’مگر کیونکہ ہمارا تعلق پسماندہ خاندانوں سے ہے اسی لیے ہماری بات نہیں سنی جاتی۔‘