پشاور: تاریخی ہندو مندر ’پنج تیرتھ‘ کو دوبارہ کھولنے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟

سوشل میڈیا

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشنتقسیمِ ہند سے پہلے اس مندر میں باقاعدہ طور پر عبادت کی جاتی تھی لیکن اب اس کے احاطے میں 'چاچا یونس پارک' کے نام سے ایک فیملی پارک قائم ہے
    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پشاور میں واقع قدیم ہندو مندر پنج تیرتھ کو قومی ورثہ قرار دینے کے بعد اس کو عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے کا گذشتہ برس کیا جانے والا اعلان بظاہر کھٹائی میں پڑ گیا ہے اور فریقین کے متضاد دعوؤں اور مقامی افراد کے تحفظات کے باعث یہ تقریب ملتوی کر دی گئی ہے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے 14 جنوری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ مندر کے سامنے سے تجاوزات ہٹائیں اور 21 جنوری کے دن وہاں افتتاحی تقریب کے انعقاد کی تیاری کریں، تاہم ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

پشاور میں متروکہ وقف املاک کے ایڈمنسٹریٹر آصف جان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ مندر کی زمین پر کوئی تنازعہ چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’مندر کے ساتھ ایک مدرسہ ہے اور ان لوگوں کے کچھ خدشات کے باعث ہم نے خود مندر کو کھولنے کا فیصلہ ملتوی کیا ہے۔‘

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر روی کمار کے مطابق مندر کی افتتاحی تقریب اس لیے نہیں ہو سکی کیونکہ کچھ انتظامات کی کمی تھی اور کچھ مقامی لوگوں کو تحفظات تھے جنھیں کچھ دنوں میں دور کرکے کوئی اور تاریخ دے کر مندر کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ کھول دیا جائے گا۔

تنازع کیا ہے؟

پنچ تیرتھ کا مندر پشاورکے علاقے ہشتنگری میں واقع ہے۔ گذشتہ برس اس مندر کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کی زمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

تقسیمِ ہند سے پہلے اس مندر میں باقاعدہ طور پر عبادت کی جاتی تھی لیکن اب اس کے احاطے میں ’چاچا یونس پارک‘ کے نام سے ایک فیملی پارک قائم ہے۔ تاہم اس جگہ کی اہمیت ہندو مت کے پجاری سے بہتر شاید کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

پشاور ہندو پنچایت کی قائم کردہ راجپوت ویلفیئر سوسائٹی کے صدر انیل کمار کا دعویٰ ہے کہ ’یہ سارا پارک مندر کی زمین پر بنایا گیا ہے اور اس کے آدھے احاطے پر مسلم کمیونٹی قابض ہے جنھوں نے وہاں رہائش بھی اختیار کر رکھی ہے۔‘

نوٹیفکیشن

انیل کا دعویٰ ہے کہ کچھ لوگوں کی نظریں مندر کی زمین پر اس لیے بھی ہیں کیونکہ یہ عین جی ٹی روڈ پر واقع ہے اور اس کی مالیت کروڑوں میں ہے۔

انیل مندر کی حالت کا ذمہ دار املاک بورڈ کو ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ماضی میں ہمارے ایسے کوئی نمائندے نہیں تھے جو انھیں یہ سب کرنے سے روکتے۔ ابھی ہمارے لوگ اس پر کام تو کر رہے ہیں لیکن بورڈ والوں نے چیزیں بہت خراب کر دی ہیں۔‘

انیل کمار کے مطابق ہندو برادری کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ پارک کو یہاں سے کہیں اور منتقل کیا جائے اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے اس عبادت گاہ کو بحال کیا جائے۔ ’سالہا سال کی محنت کے بعد یہ ایک موقع آیا تھا، اسے بھی دبا دیا گیا لیکن ہم غیر مسلم اقلیت ہیں۔۔۔ اتنے طاقتور نہیں بس کمزور سے لوگ ہیں۔ اگر ہم آواز اٹھائیں بھی تو ہماری آواز دبا دی جاتی ہے۔‘

مندر
،تصویر کا کیپشنمندر کی موجودہ حالت

مندر کے احاطے کی زمین جس پارک کو لیز پر دی گئی ہے اس کے مالک اسماعیل خان ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے یوتھ لیڈر شیورام کے مطابق ’اسماعیل خان اس پورے رقبے کو اپنے پارک کی زمین مانتے ہیں اور انھوں نے اپنے پارک کو مزید رقبے پر پھیلا دیا ہے تاکہ یہ زمین ہندو برادری کو نہ ملے اور وہ ہندو کمیونٹی سے کہہ رہے ہیں کہ آپ اپنا مندر تھوڑا پیچھے کی طرف رہائشی علاقے میں بنا لیں۔‘

’وہاں 25-30 گھر ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ یہاں مندر بننے سے ان کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔۔۔ اصل مسئلہ اسماعیل خان نے بنایا ہوا ہے اور محکمہ اوقاف والے ان کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب اسماعیل خان کا کہنا ہے انھوں نے اہلِ علاقہ کے لیے بہت خوبصورت پارک بنا رکھا ہے جو 20 سال سے چل رہا ہے۔ ’اس پارک کے کسی کونے میں ایک مرلے سے بھی کم جگہ میں کوئی مندر کبھی رہا ہو گا۔

’اب جب مندر بنانے کی بات کی گئی تو ہم (پارک والے) تو اس میں فریق نہیں بننا چاہتے لیکن یہ بات سن کر مسلمان نکل آئے کہ یہاں تو مسلمان رہتے ہیں اور درسگاہ (مدرسہ) بھی ہے۔‘

اسماعیل خان کا کہنا تھا کہ پشاور میں عوام کے لیے پارک پہلے ہی کم ہیں، ’بہتر ہے حکومت پارک ہی رہنے دے اور زمین ہندوؤں کو نہ دے۔‘

حکومت کیا کہتی ہے؟

پشاور میں متروکہ وقف املاک کے ایڈمنسٹریٹر آصف جان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ مندر کی زمین پر کوئی تنازعہ چل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’دو تین سال سے ایک راجپوت خاندان اس مندر کو کھولنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

’ساتھ ایک مدرسہ ہے وہ لوگ آئے تھے کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اس وجہ سے ہم نے مندر کو کھولنے کا فیصلہ ملتوی کیا ہے کہ ان کے جو مسائل ہیں وہ بیٹھ کر حل کر لیتے ہیں اور پھر کوئی تاریخ رکھ کر مندر کھول لیں گے۔‘

پارک کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’اسماعیل ہمارا لیز ہولڈر ہے اس سے بات ہو گئی ہے۔ ہندو برادری کو زیادہ جگہ چاہیے بھی نہیں، عبادت کے لیے انھیں 10-15 مرلے جگہ دے دیں گے۔‘

دوسری جانب متروکہ وقف املاک میں ہندو امور کے ڈپٹی سیکریٹری فراز عباس نے 21 جنوری کو مندر کھولے جانے کی سرے سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا ’اس بارے میں کچھ الجھن چل رہی ہے۔ (21 جنوری کو) مندر نہیں کھلنا تھا صرف پوجا پاٹ کرنے کا پروگرام تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آج کل اس مندر کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے ان کی کو شش ہے کہ مندر اور پارک میں حد بندی کر دی جائے تاکہ کوئی فریق تنگ نہ ہو۔

متروکہ
،تصویر کا کیپشنانیکل کمار کہتے ہیں ’محکمہ آثارِ قدیمہ نے بھی اس جگہ کو بحال کروانے کی کوشش کی لیکن محکمہ اوقاف والوں کی عدم دلچسپی کے باعث اس کی تاریخ تقریباً مٹ ہی چکی ہے‘

پنج تیرتھ کی تاریخی اہمیت

پنج تیرتھ کا مطلب ہے پانچ تالاب۔ ڈاکٹر عبد الصمد خیبر پختونخوا میں ڈائریکٹر آرکیالوجی میوزیمز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مندر کی تاریخی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

’پنج تیرھ کا ذکر مہا بھارت (2000 سال پرانی کتاب) سمیت ہندوؤں کی دیگر مقدس کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ یہاں پر تالاب اور مندر موجود تھے اور لوگ مقدس زیارت ’ہولی تیرتا‘ کے لیے یہاں آتے تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ موجودہ عمارتیں تو اتنی پرانی نہیں ہیں (مندر 200 سال پرانا ہیں) لیکن آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کو امید ہے کہ اگر پارک کے نیچے کھدائی کی جائے تو تالاب وغیرہ کے آثار مل جائیں گے۔

مندر کمپلیکس کی مکمل زمین کا اندازہ لگانا تو مشکل ہے لیکن ڈاکٹر عبد الصمد کا کہنا ہے ’اس کے دائیں بائیں جتنی بھی عمارتیں بنی ہوئی ہیں، ابھی جو چیمبر آف کامرس کا دفتر بنا ہے اور اس کے پیچھے جو علاقہ ہے جی ٹی روڈ تک، سب اس میں شامل تھا۔‘

ڈاکٹر عبد الصمد نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس تاریخی مقام پر تحقیق کرنا چاہتے تھے، اسی لیے ان کے محکمے نے ایک سال قبل حکومت سے درخواست کی تھی کہ اسے خالی کیا جائے کیونکہ وہاں پر پارک بنا ہوا ہے۔

سوشل میڈیا

،تصویر کا ذریعہSM Post

،تصویر کا کیپشن38 سالہ انیل کمار کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے یہ تالاب اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں'میں 8-9 سال کا تھا تب اپنی دادی کے ساتھ جاتا تھا اور بس ہمیں جہاں اتارتی تھی وہاں باہر سے ہی تالاب نظر آتے تھے‘

ہندو برادری کے لیے پنج تیرتھ کی مذہبی اہمیت و حیثیت

یہ مندر کتنا پرانا ہے؟ یہ تو شاید کسی کو معلوم نہیں۔ انیل کمار کے مطابق یہ جگہ 3000-4000 سال پرانی ہے۔ ’یہاں پر پانچ مندر اور پانچ تالاب ہوا کرتے تھے جن کا ذکر ہماری مقدس کتابوں (رامائن اور مہا بھارت) میں ملتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ’پانڈؤ پانچ بھائی تھے اور یہ پانچ تالاب انھی کے بنائے ہوئے تھے، ہر ایک بھائی کا ایک ایک تالاب اور ایک ایک مندر ہوتا تھا۔ ان تالابوں کا پانی شفایاب تھا، لوگ یہاں اشنان کرنے آتے اور جاتے ہوئے پانی ساتھ لے کر جاتے تھے۔‘

38 برس کے انیل کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے یہ تالاب اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں’میں 8-9 سال کا تھا تب اپنی دادی کے ساتھ جاتا تھا اور بس ہمیں وہ جہاں اتارتی تھیں وہاں باہر سے ہی تالاب نظر آتے تھے۔‘

ان کے مطابق ’پاکستان آزاد ہونے کے بعد یہ جگہ ویران ہو گئی اور حکومت نے بھی ان مندروں پر کوئی توجہ نہیں دی اس لیے تالاب سوکھ کر ختم ہو گئے اور بعد میں قبضہ مافیا نے اس زمین پر پارک اور اس کے ارد گرد مختلف عمارات بنا دیں۔‘

کٹاس

،تصویر کا ذریعہUmayr Masud

،تصویر کا کیپشنماضی میں نیلگوں پانی سے بھرا رہنے والا کٹاس راج کا تالاب سوکھ کر کچھ ایسا منظر پیش کرتا رہا ہے

شیورام کہتے ہیں کہ اگرچہ پشاور میں دو، تین مندر موجود ہیں لیکن ہر کمیونٹی کا اپنا مندر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی مسلک والا نظام ہے اور ریت روایات تھوڑی مختلف ہوتی ہیں۔

سٹی مندر کمیونٹی کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں یہ جس کمیونٹی کے زیرِ استعمال ہے وہ پشتو بولنے والے ہندو ہیں۔ جو کمیونٹی پنج تیرتھ مندر کا مطالبہ کر رہی ہے وہ 50-60 اردو بولنے والے راجپوت خاندان ہیں جن کے پاس عبادت کے لیے پشاور میں کوئی مندر نہیں ہے۔

یاد رہے کہ پشاور کے اس مندر سے قبل سیالکوٹ میں 1000 سال پرانا شیوالا تیجا سنگھ مندر بھی دوبار کھولا گیا تھا۔ اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر روی کمار کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں 400 مندر کھولنے ہیں اس میں سیالکوٹ میں ہم ایک مندر کھول چکے ہیں اور اب پنج تیرتھ اسی کی کڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارے پاس فنڈز کی کمی نہیں ہے۔ جیسے ہی یہ کھلتا ہے صوبائی حکومت ساری فنڈنگ دے گی تاکہ اسے صحیح حالت میں بحال کیا جاسکے۔‘

اس سب کے باوجود ہندو برادری کے خدشات برقرار ہیں اور ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندو مذہب کے دیگر مقدس مقامات پر قبضہ جاری ہے اور انھیں واگزار کرانے کے لیے حکومت خاطرخواہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔