بابری مسجد، رام مندر تنازعہ: ’انڈین سپریم کورٹ ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے سے قاصر ہے‘

- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تاریخی بابری مسجد کے حوالے سے انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے پر پاکستان کو 'شدید تشویش' ہے کیونکہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ نے توجہ دلائی تھی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے تناظر میں انسانی حقوق کے حوالے سے دائر کی گئی درخواستوں پر انڈین سپریم کورٹ کا ردِ عمل سست ہے۔ 'یہ فیصلہ (بابری مسجد) نشاندہی کرتا ہے اگر انڈین سپریم کورٹ فیصلے لے بھی لے تو ان کے ذریعے وہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے سے قاصر ہے۔'
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے انڈیا کے نام نہاد سیکولرازم کے دعوے کا پردہ چاک کر دیا ہے اور اس بات پر مہر ثبت کی ہے کہ انڈیا میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں اور اب اقلیتوں کو اب اپنے عقائد اور اپنی عبادت گاہوں کے تحفظ کے بارے میں خبردار رہنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے
'انڈیا میں ہندوتوا کے نظریے کی پیروی میں تاریخ دوبارہ لکھے جانے کا عمل جاری ہے۔ یہ عمل انڈیا کے بڑے اداروں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دفتر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ انڈیا میں ہندو بالادستی کے عقیدے پر مبنی انتہا پسندانہ نظریے کی لہر بڑھ رہی ہے جو کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
'انڈین حکومت کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں، ان کے جان و مال، حقوق اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ایک بار پھر مسلمانوں کو ہندو انتہاپسندی کا نشانہ بنتے دیکھ کر خاموش تماشائی بننے سے گریز کرے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ انڈیا کو انتہا پسند نظریے کے حصول سے روکنے اور انڈیا میں اقلیتوں کے مساوی حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اس سے قبل انڈین سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر پاکستان کی حکومت نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس فیصلے کی ٹائمنگ کافی معنی خیز ہے۔ ’اس فیصلے کی تاریخ بعد کی تھی اور اس کو آج کرنے کا مقصد یہی ہے کہ کسی طرح جو آج پاکستان ایک اہم کام کرنے جا رہا ہے اس پر سے دھیان ہٹ جائے۔‘
پاکستان کی ہندو برادری کی طرف سے اس بارے میں کوئی ٹھوس ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اسلام آباد کی ہندو پنچایت کے سربراہ ڈاکٹر پریتم داس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رام کسی ایک جگہ رہنے کے محتاج نہیں ہیں۔ ’جب ہم یہ مانتے ہیں کہ وہ بھگوان ہیں تو بھگوان تو کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے لیے کسی خاص جگہ کا ہونا ضروری نہیں۔ ایودھیا کی زمین کو قومی ورثہ قرار دینا چاہیے تھا اور دونوں مذاہب کے لیے کھول دینا چاہیے تھا۔ ہماری برادری اس فیصلے سے اس لیے ناخوش ہے کیونکہ یہ جگہ ایک عبادت گاہ کو منہدم کر کے بنائی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے پر پاکستان کے وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ’یہ ایک نہایت ہی بد نما فیصلہ ہے۔‘
بابری مسجد اور کرتارپور راہداری کے ٹرینڈز میں مقابلہ
جہاں ایک طرف پاکستانی اس فیصلے پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں وہیں ان کی کوشش یہ بھی ہے کہ اس معاملے کو مزید بڑھنے نہ دیا جائے۔
نامہ نگار طاہر عمران کے مطابق اگر اس سارے معاملے کو ایک سوشل میڈیا پبلک ریلیشنز کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ معاملہ کیا ہو گیا ہے۔
منصوبہ جو بھی ہو لیکن راتوں رات بابری مسجد اور رام مندر کا معاملہ بیچ میں آ گیا۔ اب بھلا آرگینک ٹرینڈ اور پبلک ریلیشن ٹرینڈ میں کیا مقابلہ قدرتی چیز بحرحال قدرتی ہوتی ہے۔
تو یوں پاکستان میں اس وقت بابری مسجد اور کرتارپور کوریڈور کے ٹرینڈز میں مقابلہ چل رہا ہے۔ صبح سے بابری مسجد ٹاپ ٹرینڈ تھا اب کرتارپور ہے۔ بابری مسجد پر اب تک 94000 ہزار سے زیادہ ٹویٹس کی جا چکی ہیں۔ وقت کم مقابلہ سخت ہے۔
پاکستان میں جہاں بڑی تعداد میں صارفین عمران خان حکومت کی ثابت قدمی اور مثبت سوچ کی تعریفیں کر رہے ہیں وہیں کرتارپور کی سفید عمارت اور بابری مسجد کی ٹوٹی عمارت ساتھ ساتھ لگا کر شیئر کی جا رہی ہیں۔
جیسا کہ اداکارہ ارمینہ خان نے لکھا ُدو مختلف قومیں دو مختلف کہانیاں۔ فیصلہ آپ خود کر لیں۔ کرتارپور کوریڈور پر پاکستان کو مبارک ہو کہ اس نے عزت اور برداشت کا راستہ اپنایا۔ میں آج بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
دوسری جانب صحافی طلعت حسین نے لکھا 'مودی حکومت بابری مسجد پر مندر بنا سکتی ہے۔ حتمی عدالتی فیصلہ اور ہمارا فیصلہ؟ ہم نے ہر حال میں کرتارپور راہداری چلانی ہے چاہے مودی حکومت جتنا بھی دھتکارے۔ یہ ہوتے ہیں لیڈر۔ ایسے بنتی ہے عزت۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
جبران ناصر نے ٹویٹ کی 'انڈیا میں سیکولرازم سنہ 1992 میں اس وقت مر گیا تھا جب نہ صرف بابری مسجد کو منہدم کیا گیا بلکہ یہ جرم کرنے والوں کو سزا دیے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ آج نومبر سنہ 2019 میں انڈین سپریم کورٹ نے سیکولرازم کی 27 ویں برسی منائی۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
کامران یوسف نے لکھا 'انڈیا کی سپریم کورٹ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بابری مسجد کا انہدام جرم تھا مگر جنھوں نے یہ جرم کیا ان کو سزا ملے گی؟ کبھی بھی نہیں۔'












