لاہور: شاہی قلعے میں مہندی کی تقریب کے انعقاد پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے شاہی قلعے میں ’بغیر اجازت‘ مہندی کی تقریب منعقد کیے جانے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تھانہ ٹبی سٹی پولیس سٹیشن نے یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 (سرکاری عہدیدار کے حکم کی خلاف ورزی) اور میرج فنکشن ایکٹ 2000 کی خلاف ورزی کے تحت درج کیا ہے۔
نو جنوری کی رات لاہور کے شاہی قلعے کے 400 سال پرانے شاہی کچن اور اس کے احاطے میں ایک مہندی کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔
لاہور کے تاریخی ورثے کی نگرانی و حفاظت کرنے والے محکمے ’والڈ سٹی اتھارٹی‘ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مہندی کی تقریب کے لیے باقاعدہ اجازت نہیں لی گئی تھی۔ محکمے کا کہنا تھا کہ درخواست میں ایک کارپوریٹ عشائیے کے لیے اجازت طلب کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ایف آئی آر اسسٹنٹ ڈائریکٹر والڈ سٹی لاہور اتھارٹی علی اسلام گُل کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شاہی قلعے میں فاطمہ فرٹیلائزرز کی جانب سے منعقد نجی ڈنر کے فنکشن شادی کے فنکشن میں تبدیل کیا گیا اور سرکاری اہلکاروں کے منع کرنے کے باوجود اس تقریب کو رات گئے دیر تک جاری رکھا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مذکورہ افراد کو متعدد بار معاہدے کی خلاف ورزی سے منع کیا گیا لیکن انھوں نے اس پر کان نہ دھرے۔

حکام کے مطابق پاکستان کی نامور کھاد بنانے والی کمپنی فاطمہ فرٹیلائز نے لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کو اپنی کمپنی کے نام سے ایک درخواست دی تھی جس کے مطابق انھوں نے کمپنی کے ایک کارپوریٹ عشائیے کے لیے اجازت طلب کی تھی۔
درخواست کے مطابق اس ڈنر میں سو لوگوں کی شرکت کا بتایا گیا اور لکھا گیا کہ شام سات بجے سے لے کر رات 10 بجے تک اس کھانے کی دعوت کے لیے اجازت دی جائے۔ جس کے بعد لاہور والڈ سٹی کی جانب سے 5 لاکھ روپے فیس اور ایک لاکھ روپے سکیورٹی لے کر کھاد بنانے والی کمپنی کو اجازت دے دی گئی۔
والڈ سٹی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اجازت نامے کے مطابق لاہور شاہی قلعے کے شاہی کچن کے احاطے میں یہ ڈنر کرنے کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی ممنوعہ چیزوں اور سرگرمیوں کی لسٹ بھی دی گئی تھی۔
کمپنی کے نام پر لاہور قلعے میں تقریب کی اجازت ملنے کے بعد فاطمہ فرٹیلائزز نے نو جنوری کی شب ڈنر کے بجائے وہاں مہندی کی تقریب منعقد کرلی۔

کیا شاہی قلعے میں شادی کی تقریب منعقد کی جا سکتی ہے
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری کا کہنا تھا ’یہ ناممکن ہے کہ شاہی قلعے میں شادی کی تقریب کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ ہمارا تاریخی ورثہ ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم صرف کبھی کبھار کارپوریٹ تقریبات کی اجازت دیتے ہیں وہ بھی ایک مخصوص احاطے میں۔‘
'تقریب کا انعقاد شیش محل میں کیا گیا'
سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ جمعرات کی رات منعقد ہونے والی تقریب شیش محل میں ہوئی۔
اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کامران لاشاری کا کہنا تھا کہ شیش محل میں کسی قسم کی تقریب کی اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی نے ہم سے جھوٹ بول کر ہی قلعے میں مہندی کی تقریب کی اور ہم نے انھیں شاہی کچن کے احاطے میں ڈنر کرنے کی اجازت دی تھی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شاہی کچن عرصہ دراز سے مٹی کا ڈھیر بنا ہوا تھا، ہم نے اس جگہ کو صاف کیا اور اس کے تعمیر سمیت تزئین و آرائش کا کام مکمل کر کے اسے دوبارہ کھڑا کیا۔ اس کے بعد یہاں کارپوریٹ تقریبات کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس اجازت کے باوجود بھی ہم اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ اس کی عمارت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘

قانونی کارروائی
ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری کا کہنا تھا کہ ’ہم سے جھوٹ بول کر دھوکہ دینے والی پارٹی کے خلاف ہم ایف آئی آر درج کروائیں گے۔ فی الحال جو ایک لاکھ روپے انھوں نے بطور سکیورٹی جمع کروائے تھے وہ ہم نے ضبط کر لیے ہیں۔‘
ہفتے کو پولیس نے اس حوالے سے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات بھی جاری کیں۔ جس کے بعد لاہور شاہی قلعے کے انچارج بلال طاہر کو تقریب نہ روکنے کے باعث معطل کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا ردِ عمل
شاہی قلعے میں ہونے والی مہندی کی اس تقریب کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین نے بھی تنقید کی۔ ٹوئٹر پر جہان داد خان نے لکھا کہ ’ایسی جگہ پر مہندی کی تقریب ہونا انتہائی خوفناک ہے، جو ہمارا ورثہ ہے'۔
اظہر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لکھا کہ 'کمال کی بات ہے کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ کیا کوئی دیکھنے پوچھنے والا نہیں ہے'۔
ایسی ہی تنقید کئی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سامنے آئی جن میں یہ بھی لکھا گیا کہ ’اس مہندی کی تصاویر یونیسکو والوں کے ہیریٹیج ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی جائیں‘۔
یاد رہے کہ لاہور کے شاہی قلعے کے کچھ حصوں کو یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹج لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جس میں قلعے کا شیش محل بھی شامل ہے۔










