ننکانہ صاحب: گرودوارہ کے باہر نعرہ بازی کرنے والا شخص گرفتار

،تصویر کا ذریعہANI
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس نے سکھوں کے مذہبی مقام گرودوارہ ننکانہ صاحب کے باہر نعرے بازی کرنے والے شخص عمران چشتی کو گرفتار کر لیا ہے۔
عمران چشتی کے والد ذوالفقار علی نے بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اتوار کی رات پولیس نے ان کے بیٹے کو گرفتار کرلیا ہے۔
یاد رہے جمعے کی شام ننکانہ صاحب میں معمولی جھگڑے پر مشتعل ہجوم نے گرودوارہ ننکانہ صاحب کے باہر تقریباً چار گھنٹے تک مظاہرہ اور احتجاج کیا تھا۔
اس واقعے کی وائرل ویڈیو میں عمران چشتی کو مشتعل ہجوم کے ساتھ سکھ برادری کو دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا تھا۔
انڈین حکومت نے اس واقعے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے سکھ برادری کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور تب سے پوچھا جا رہا تھا کہ حکومت نے اس سلسلے میں کیا کارروائی کی ہے۔
عمران چشتی محمد احسان نامی شخص کے بھائی ہیں جن پر ایک سکھ لڑکی جگجیت کور کو اغوا کرنے کا الزام تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter@mssirsa
جمعے کی شام کیا ہوا؟
جمعے کی شام یہ مظاہرہ اور احتجاج اس وقت شروع ہوا تھا جب دودھ دہی کی ایک دکان پر ہونے والے ایک جھگڑے نے طول پکڑا اور اسے علاقے میں ایک پرانے واقعے کے ساتھ ملا کر مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس اگست میں ننکانہ صاحب کے ایک سکھ خاندان نے چھ افراد پر ان کی جواں سال لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کے بعد ایک مسلمان لڑکے سے شادی کروانے کا الزام عائد کیا تھا۔
تاہم اس وقت پولیس نے موقف اپنایا تھا کہ لڑکی نے لاہور کی ایک عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے قانونِ شہادت کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ ’اس نے بغیر کسی دباؤ کے، اپنی مرضی کے مطابق اسلام قبول کرنے کے بعد محمد احسان نامی لڑکے سے شادی کی ہے۔‘
پاکستانی وزراتِ خارجہ کا ردِ عمل
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکام کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں دو مسلم گروہوں کے درمیان چائے کے ڈھابے پر معمولی تنازع ہوا۔
جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے ملزمان کوگرفتار کر لیا، جو زیر حراست ہیں۔ دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس واقعے کو بین المذاہب مسئلہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ گوردوارہ ننکانہ صاحب بالکل محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
دفترِ خارجہ کا مزید کہنا تھا ’اس معاملے میں انتشار، خاص طور پر ’بے حرمتی اور تباہی‘ اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرنے کے دعوے نہ صرف جھوٹے ہیں بلکہ فتنہ پرداز بھی ہیں۔‘
’حکومت پاکستان امن و امان کو برقرار رکھنے اور عوام خصوصاً اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ کرتار پور صاحب راہداری کا افتتاح، قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق، اقلیتوں کی پاکستان میں خاص خیال کا ایک مظہر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSardar Harmeet Singh
چیئرمین پنجابی سکھ سنگت کے چیئرمین گوپال سنگھ چاولہ نے، جمعے کی شام کو جو اس گرودوارہ کے اندر موجود تھے بی بی سی کے اعظم خان کو بتایا تھا کہ مشتعل ہجوم نے گرودوارہ کے گیٹ کو نقصان پہنچایا ہے جن کی اکثریت کم عمر نوجوانوں پر مشتمل تھی۔
گوپال سنگھ کے مطابق اس وقت گرودوارہ کے اندر تقریباً 20 افراد موجود تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
تاہم پاکستان کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے جو خود اس حلقے سے ہیں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ذاتی جھگڑے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں جو شخص نعرے لگواتے دکھائی دے رہا تھا وہ مذہبی رجحان رکھتا ہے۔ اعجاز شاہ کے مطابق مٹھی بھر لوگ احتجاج کر رہے تھے جبکہ وہاں بڑی تعداد تماشہ بینوں کی بھی موجود تھی۔

،تصویر کا ذریعہSardar Harmeet Singh
جبکہ گوپال چاولہ نے بتایا تھا کہ ضلع ننکانہ صاحب کی پولیس نے ان میں سے دو افراد کو گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد مبینہ طور پر لڑکی کو اغوا کرنے والے محمد احسان کے خاندان کے افراد نے پہلے شہر کے ایک چوک (چونگی نمبر 5) پر احتجاج کیا اور بعد میں گرودوارہ کا رخ کر لیا تھا۔
تاہم گرودوارہ ننکانہ صاحب کے اندر موجود افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے گرفتار افراد کو رہا کر دیا تھا جس کے بعد احتجاج کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا۔
گوپال سنگھ کا کہنا ہے کہ ’جمعے سے گرودوارہ ننکانہ صاحب میں گرو گوبند سنگھ کے جنم دن کی تقریبات کا آغاز ہو رہا تھا۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ نے سکھ برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون کیا ہے، اسے مذہبی مسئلے کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’یہ ایک خاندان کا پولیس گرفتاریوں کے خلاف ردعمل تھا۔ البتہ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ گرودوارہ کے گیٹ کو نقصان پہنچانے والے افراد پر توہین مذہب کا مقدمہ قائم کیا جائے۔‘
پنجاب حکومت کا موقف
پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ معاملہ ایک انفرادی جھگڑے سے شروع ہوا تھا ’محمد احسان نامی مسلمان لڑکا جس نے مبینہ طور پر سکھ لڑکی کو اغوا کیا تھا، کے چچا کی دودھ دہی کی دکان ہے جس پر اس کا بھائی بھی کام کرتا ہے۔ اس دکان پر ایک شہری کی طرف سے دہی میں مکھی کی شکایت کی گئی جس کے بعد جھگڑا ہوا اور پولیس کو اطلاع کر دی گئی جس نے موقع پر پہنچ کر چچا اور بھتیجے کو گرفتار کر لیا۔ جس کے بعد ان دونوں نے اس کو مذہبی رنگ دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اب لڑکے کے والد نے انتظامیہ سے معافی مانگی ہے۔‘
فیاض الحسن چوہان کے مطابق انڈیا اور انڈین میڈیا اس معاملے کو غلط رنگ دے کر متنازعہ شہریت بل اور کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس واقعے کی اطلاع کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان میں موجود انڈیا کے ہائی کمیشن نے ٹویٹ کرتے ہوئے ننکانہ صاحب گرودوارے کے باہر مظاہرے کی شدید مذمت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTweet/@IndiainPakistan
جبکہ انڈیا کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے ٹویٹ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے اور گرودوارہ ننکانہ صاحب میں پھنسے سکھ یاتریوں کو مشتعل ہجوم سے تحفظ کی اپیل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTweet/@capt_amarinder
مقدمے کا پس منظر
ننکانہ صاحب کے سٹی تھانے میں ستمبر 28 ستمبر تاریخ کو منموہن سنگھ نامی شخص کی درخواست پر چھ افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔ منموہن سنگھ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان افراد نے ان کے گھر میں گھس کر اسلحے کی نوک پر ان کی بہن جگجیت کور کو اغوا کیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے بتایا تھا کہ لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ہے۔ ’اس کی عمر 16 یا 17 سال ہو گی۔ اس کا ابھی شناختی کارڈ نہیں بنا ہوا۔‘
اس سے قبل گذشتہ برس لڑکی اور لڑکے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی جس میں لڑکی کو اسلام قبول کرتے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس میں وہ ویڈیو میں نظر نہ آنے والے ایک تیسرے شخص کو بتا رہی تھیں کہ ان کا نیا نام عائشہ رکھا گیا ہے۔
منموہن سنگھ کا مؤقف تھا کہ ’جگجیت کور کو اسلام جبراً قبول کروایا گیا ہے۔ اگر آپ ویڈیو میں دیکھیں تو اس میں بھی وہ سہمی ہوئی نظر آ رہی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جگجیت کور کے خاندان نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت ان کو بازیاب کروائے اور واپس گھر بھیجے، مگر منموہن سنگھ کے مطابق ننکانہ پولیس ان کو ٹالتی رہی۔
یاد رہے جبکہ گذشتہ برس ستمبر میں گورنر پنجاب چوہدری سرور نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا تھا کہ ننکانہ صاحب میں اقلیتی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکی کا معاملہ حل کر لیا گیا ہے۔
ویڈیو پیغام میں چوہدری محمد سرور نے کہا تھا کہ سکھ برادری اس واقعے پر بہت تشویش کا شکار تھی اور پوری دنیا کے پاکستانیوں اور سکھوں کے لیے یہ اطمینان کا باعث ہو گا کہ دونوں گھروں کی آپس میں بیٹھ کر صلح ہوگئی ہے۔










