گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور: مبینہ طور پر اغوا ہونے والی سکھ لڑکی کے معاملے میں ’صلح‘ ہوگئی

گورنر پنجاب

،تصویر کا ذریعہGoverner Punjab

،تصویر کا کیپشنمنگل کو پنجاب کے گورنر چوہدری سرور نے لڑکے کے والد، ان کے وکیل، اور لڑکی کے والد اور بھائی سے ملاقات کی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا ہے کہ ننکانہ صاحب میں اقلیتی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکی کا معاملہ حل کر لیا گیا ہے۔

منگل کو گورنر ہاؤس لاہور میں چوہدری سرور نے لڑکے کے والد، ان کے وکیل، اور لڑکی کے والد اور بھائی سے ملاقات کی اور اس کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ دونوں خاندانوں میں صلح ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ننکانہ صاحب کے ایک سکھ خاندان نے چھ افراد پر ان کی جواں سال لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کے بعد ایک مسلمان لڑکے سے شادی کروانے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم پولیس کے مطابق لڑکی نے لاہور کی ایک عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے قانونِ شہادت کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ ’اس نے بغیر کسی دباؤ کے، اپنی مرضی کے مطابق اسلام قبول کرنے کے بعد محمد احسان نامی لڑکے سے شادی کی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

گورنر پنجاب والی ویڈیو میں ان افراد کو گورنر پنجاب کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے، تاہم پیغام میں اس معاملے کے حل کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔

جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں چوہدری محمد سرور نے کہا کہ سکھ برادری اس واقعے پر بہت تشویش کا شکار تھی اور پوری دنیا کے پاکستانیوں اور سکھوں کے لیے یہ اطمینان کا باعث ہوگا کہ دونوں گھروں کی آپس میں بیٹھ کر صلح ہوگئی ہے۔

چوہدری سرور نے بعد میں لڑکے کے والد کو اپنا پیغام دینے کی دعوت دی جنھوں نے کہا ’ہم بچی کے سلسلے میں دستبردار ہوں گے اور کسی عدالت سے اسے طلب نہیں کریں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ اگر یہ ان کے ساتھ جاتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘

اس موقع پر لڑکی اور لڑکے کے والد نے ایک دوسرے کو گلے بھی لگایا۔

مقدمے کا پسمنظر

ننکانہ صاحب کے سٹی تھانے میں رواں ماہ کی 28 تاریخ کو منموہن سنگھ نامی شخص کی درخواست پر چھ افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔ منموہن سنگھ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان افراد نے ان کے گھر میں گھس کر اسلحے کی نوک پر ان کی بہن جگجیت کور کو اغوا کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے بتایا تھا کہ لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ہے۔ ’اس کی عمر 16 یا 17 سال ہو گی۔ اس کا ابھی شناختی کارڈ نہیں بنا ہوا۔‘

اس سے قبل لڑکی اور لڑکے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی جس میں لڑکی کو اسلام قبول کرتے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس میں وہ ویڈیو میں نظر نہ آنے والے ایک تیسرے شخص کو بتا رہی تھیں کہ ان کا نیا نام عائشہ رکھا گیا ہے۔

منموہن سنگھ کا مؤقف تھا کہ ’جگجیت کور کو اسلام جبراً قبول کروایا گیا ہے۔ اگر آپ ویڈیو میں دیکھیں تو اس میں بھی وہ سہمی ہوئی نظر آ رہی ہے۔‘

جگجیت کور کے خاندان نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت ان کو بازیاب کروائے اور واپس گھر بھیجے، مگر منموہن سنگھ کے مطابق ننکانہ پولیس ان کو ٹالتی رہی۔

پولیس کا مؤقف

ننکانہ صاحب کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) فیصل شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے منموہن سنگھ کی شکایت پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ یہ بھی معلوم کر لیا گیا تھا کہ لڑکا اور لڑکی اس وقت لاہور میں موجود تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ایک وکیل کی طرف سے ان سے رابطہ کیا گیا جنھوں نے بتایا کہ جگجیت کور نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔

انھوں نے بتایا تھا کہ ’لڑکی نے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کے بعد محمد احسان سے شادی کی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ لڑکی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ پولیس انھیں اور ان کے شوہر کو ہراساں کر رہی ہے اور یہ کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ اس کے بعد عدالت نے انھیں دارالامان بھجوانے کا حکم دیا۔

ڈی پی او ننکانہ صاحب فیصل شہزاد کے مطابق لڑکی کی عمر 19 برس ہے اور اس بات کی تصدیق نادرا سے ہو چکی تھی۔ پولیس کے مطابق جگجیت کور کا شناختی کارڈ نہیں تھا تاہم ان کا فارم (ب) موجود تھا جس کے ذریعے ان کی عمر کا تعین کیا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکا اور لڑکی ایک ہی محلے کے رہائشی تھے۔ ڈی پی او ننکانہ صاحب کے مطابق ’کوشش کی جا رہی ہے کہ سکھ برادری اور مقامی افراد کے قائدین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملے کا حل نکالا جائے۔‘

وزیرِ اعلیٰ کا نوٹس

دوسری جانب صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس میں صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت کے علاوہ صوبائی وزراء، اختر ملک اور خالد محمود، شامل ہیں۔

وزیرِ اعلٰی پنجاب نے کمیٹی کو تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ’کمیٹی کے اراکین لڑکی کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر کے حقائق سامنے لائیں۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل رواں برس ہی پاکستان کے صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں سے یکے بعد دیگرے ہندو لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔