سیربین ریڈیو کا اختتام: ’بی بی سی ہوتی تھی ہمارے زمانے میں‘

،تصویر کا ذریعہShahid Malik
- مصنف, شاہد ملک
- عہدہ, صحافی
ہم سب نے ایسے بزرگ ضرور دیکھے ہیں جو پرانے وقتوں کو یاد کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ گھی میں ترتراتا پکوان چاہت سے ان کے سامنے رکھیں تو سننا پڑے گا ’اوئے ایہہ گھیو اے؟ گھیو ہوندے سن ساڈے زمانے وچ۔‘
ساتھ ہی اپنے زمانے کے گھی کا قصیدہ شروع ہو جائے گا کہ ’بگھار لگ رہا ہے باورچی خانے میں اور خوشبو پھیلی ہوئی ہے گلی میں۔‘
اسی پہ بس نہیں بلکہ ’وہ گرین لیبل چائے نہیں رہی، وہ ڈیرہ دون کے چاول نہیں رہے، فلیکس کا شو، چابی کا لٹھا، دو گھوڑے کی بوسکی۔ اوہ ہو۔‘
اگر کوئی بات کو مختصر کرنا چاہے تو ’ہاں بھئی، ٹھیک ہے لیکن وہ چیز نہیں جو ہمارے دور میں ہوتی تھی۔‘ وہ چیز کیا تھی کیسی ہوتی تھی یا ہوتی بھی تھی کہ نہیں؟
یہ بھی پڑھیے
یہ پڑھنے اور سننے والے پہ منحصر ہے کہ اسے معروضی سچائی سمجھے یا کسی ’بڈھے بابے‘ کی داخلی واردات تصور کر لے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میڈیم اور شارٹ ویو پر بی بی سی ریڈیو کے پروگرام سیربین کی نشریات ختم ہونے پر وہ مرحلہ یاد آ رہا ہے جب بی بی سی کے 80 سال مکمل ہونے پر مجھے اب سے آٹھ برس پہلے دو دن کے نوٹس پر لندن طلب کیا گیا۔
مطالبہ یہ تھا کہ مائیکروفون کے سامنے شرمائے بغیر اس وقت کو یاد کرو جو تم نے ورلڈ سروس کے صدر دفتر بش ہاؤس میں گزارا۔ یہ کرم فرمائی اس جرم کا انعام تھی کہ بندہ عاجز نے اول پروڈیوسر، پریزنٹر پھر نامہ نگار اور تجزیہ کار کے طور پر کوئی 30 برس تک سامعین کی سمع خراشی کی۔
اگر ذاتی تجربہ گفتگو کا واحد حوالہ ہوتا تو مائیک کے سامنے مادری زبان میں اتنا کہہ سکتے تھے کہ ’بیٹا جی، بی بی سی ہوندی سی ساڈے زمانے وچ، ہُن تے اوہ بی بی سیاں نئیں رہیاں۔‘ لیکن جو سوال داغے گئے وہ سنجیدہ اور تجزیاتی نوعیت کے نکلے۔
آج کا گھپلا یہ ہے کہ مجھ جیسا غیر ذاتی سوچ کا دعویدار بھی ایک خاص عمر کو پہنچ کر وقت کے بہاؤ میں کسی نہ کسی مخصوص لمحے کا اسیر ہو چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر اس موضوع پہ غور کرتے ہوئے جس کا تعلق انسانی صورت حال سے ہو، وہ اسی ایک لمحے کے عطا کردہ معیارات کو بنیاد بنا کر تازہ حقائق کو پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس تناظر میں دیکھیں تو آج سے 35 برس اور 26 دن پہلے بش ہاؤس لندن میں داخل ہوتے ہی دل پہ نقش ہو جانے والی پہلی یاد تو اردو سروس کے انگریز سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ پیج کی شفقت آمیز علمیت اور سینئر ساتھیوں کا سرپرستانہ خلوص ہے۔

،تصویر کا ذریعہObaid Siddiqui
اس سمے میرا بچپن ختم ہو رہا تھا اور ان میں سب سے ’نوجوان‘ کا پچپن شروع ہو رہا تھا۔ دوسرا اہم سبق یہ کہ کچھ ہو جائے، بی بی سی کے ہر لینگویج سیکشن کو باہم آواز ملائے رکھنی چاہیے۔ گویا اردو پروگراموں کے لوگ صرف اردو نشریات کا حصہ نہیں تھے بلکہ یہ اردو زبان میں بی بی سی کی عالمی سروس تھی۔
یوں کہہ لیں کہ ہماری ایسٹرن (مشرقی) سروس کے لیے، جس میں فارسی، پشتو، اردو، ہندی اور بنگالی کے علاوہ تمل اور سنہالہ زبانیں شامل تھیں،خبروں کا ایک ہی بلیٹن ہوتا۔ یعنی ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے انگریزی کا عالمی خبرنامہ جس کی ترتیب میں علاقائی دلچسپی کو سامنے رکھتے ہوئے جنوبی ایشیا کا چیف سب ایڈیٹر معمولی سی رد و بدل کر لیتا۔
سب کو ہم آواز رکھنے کی ذمہ داری ورلڈ سروس کے نیوز روم کی تھی۔ چنانچہ الگ الگ لینگویج سیکشن کے وہ پروڈیوسر جنھیں اس روز خبریں پڑھنا ہوتیں نیوز روم میں بیٹھ کر ہی اپنے اپنے بلیٹن کا ترجمہ کرتے۔ اس دوران وہ ڈیسک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوتے اور دوستانہ ماحول میں باہمی صلاح مشورہ ہوتا رہتا۔
اردو نشریات کی علی الصبح اور شام کی مجالس میں ساڑھے نو منٹ کے بلیٹن کے بعد نامہ نگاروں کی رپورٹوں، مراسلوں اور بش ہاؤس کے اندر لکھے جانے والے تجزیوں کے ترجمہ شدہ مواد پر مبنی حالات حاضرہ کے لائیو پروگرام ’جہاں نما‘ اور ’سیربین‘ کے نام سے نشر ہوتے۔ ان کی ترتیب و پیشکش ہمارے سیکشن کی صوابدید پر تھی۔
اسی طرح ساتوں دن ریکارڈ شدہ تفریحی، تعلیمی اور ادبی پروگرام جو ہم لوگوں کی ذمہ داری تھے۔

فنی اور صحافتی تبدیلیاں
1980 کی دہائی کے وسط میں ’جہاں نما‘ اور ’سیربین‘ کے بیچ دوپہر کی کم دورانیہ کی نشریات ختم کر دی گئیں اور تیسری مجلس کے طور پر شب نامہ پیش کیا جانے لگا، جو اردو کا پہلا السٹریٹڈ خبرنامہ تھا۔ اس میں عام بلیٹن کی طرح پانچ سے نو اور کبھی کبھار گیارہ سطروں پر مشتمل خبریں تو ہوتیں لیکن بعض نیوز آئٹم نامہ نگار کی صوتی رپورٹ کی شکل میں شامل کیے جاتے۔
پیش کار ان کا ابتدائیہ پڑھتا اور پھر سامعین منٹ ڈیڑھ منٹ کے لیے رپورٹر کی آواز سنتے۔ اس تبدیلی کا تعلق ایک اضافی تکنیکی سہولت سے تھا جسے الیکس پروب کا نام دیا گیا۔
یہ بش ہاؤس کی پانچویں منزل پر اردو سروس کے پانچ کمروں میں سے ایک میں نصب ایک نئی مشین تھی جس پہ صوتی رپورٹیں ریکارڈ کر لیں جاتی۔ اس سے پہلے ہمارے فلور پر ایک چھوٹا سا سیلف آپریٹڈ سٹوڈیو تو تھا اور ریکارڈ شدہ ٹیپ کو ایڈٹ کرنے کی سہولت بھی، مگر ٹیلی فون لائن پر رپورٹ یا انٹرویو براہ راست ریکارڈ کرنے کے لیے نیوز ٹریفک کے علاوہ بش ہاؤس کی پوری عمارت میں صرف ایک سٹوڈیو تھا۔
ساؤتھ ایسٹ ونگ کا سٹوڈیو ایس نائن جہاں پیشگی بکنگ کا نظام رائج رہا۔
تازہ سہولت کی بدولت، جسے پہلی بار ایک تسلسل کے ساتھ سید راشد اشرف کام میں لائے اور سامعین کے اجتماعی شعور میں نئے پروگرام کے لیے جگہ بنی اور کئی فنی اور صحافتی تبدیلیوں کا راستہ بھی کھلا۔
ایک تو چند کلیدی خبروں کو چھوڑ کر اردو میں اپنا تمام تر خبرنامہ خود مرتب کر لینے کا اختیار، دوسرا مرکزی نیوز روم کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے نامہ نگاروں کے ہوتے ہوئے یہ گنجائش کہ اردو سمیت ایسٹرن (مشرقی) سروس کے لینگویج سیکشن متعلقہ علاقوں میں اپنے ذیلی نمائندے مقرر کر لیں۔
ذیلی نامہ نگاروں کی بدولت پروگرام میکرز کی ترجمہ نویسی سے جان چھوٹ گئی، لیکن ایک گونہ لامرکزیت کا رجحان بھی پیدا ہوا۔ پشتو، اردو، ہندی اور بنگالی کی نشریات بتدریج ایک ہی آواز کی الگ الگ گونج بننے لگیں اور ایسے نامہ نگار بھی میدان میں آ گئے جن میں اس پیشہ ورانہ پختگی کا فقدان تھا جو بی بی سی کی معتبر صحافت کی پاسداری کر سکتی۔
یوں سمجھیں کہ گھوڑا تیز ہو گیا، سوار پیچھے رہ گیا۔

اپنے انٹرویو کا تازہ موقع
آج کل ہر روز کوئی نہ کوئی دن منانے کا جو رواج چل نکلا ہے اسی بنا پر ’سیربین‘ کے خاتمے پر میرا دل آج اپنا ہی انٹرویو کرنے کو چاہے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
چند برس پہلے کسی شخص کو گولی مارے جانے کی بریکنگ نیوز نشر ہوتے ہی ایک نجی چینل کے مستعد رپورٹر نے مرحوم کی بیوی سے پوچھا تھا کہ ’بیوہ ہونے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں؟‘
اسی طرح میں بھی خود سے یہ سکہ بند جرمن سوال کر سکتا ہوں کہ شاہد ملک تم نے رواں صدی کی ابتدا تک ’سیربین‘ کی جو پیش کاری کی، اس پہ سامعین کے تاثرات کیا تھے اور نشریاتی صحافت سے طویل وابستگی کے بعد تمہیں اخباری کالم نویسی کا اشتعال کیوں آیا؟
مجھے صرف سوال نمبر دو وارا کھاتا ہے کیونکہ پہلے سوال کے جواب میں اپنی ’ریٹنگ‘ بڑھانے کے لیے اگر میں نے گراف کو ذرا اوپر نیچے کر دیا تو اس کا ازخود نوٹس لیا جا سکتا ہے اور پھر معاملہ نیب کے پاس ہو گا۔
سچ یہ ہے کہ کالم نویسی کی ترغیب بی بی سی کے نامہ نگارِ اسلام آباد اوئین بینٹ جونز سے ملی۔ ہاں، ’اگر بچپن سے شوق تھا‘ جیسے اسلوب کا سہارا لیا جائے تو اردو کی دوسری کتاب کی کہانیاں، آبائی شہر میں ’پاپڑاں والی خانقاہ‘ کے مفتی حبیب کا مترنم وعظ اور ریڈیو پاکستان پر نعتوں اور قوالیوں کے گراموفون ریکارڈ، زبان و بیان میں میری دلچسپی کے عوامل ٹھہریں گے۔
مگر اس میں ان لسانی تضادات کو بھی دخل ہے جن کی لہر سکول میں میڈیم کی تبدیلی سے پھوٹی۔ پھر گھر میں پنجابی اور محلے میں اردو کا فرق۔ اس سے آگے برطانوی ہائی کمیشن میں بطور مترجم اولین نوکری اور سات آٹھ برس تدریسی سرگرمیوں سے لے کر ’یہ بی بی سی لندن ہے‘ کے مرحلے تک ان دھاروں کا بتدریج شعور جو ہیڈ مرالہ کے سنگم پر دریائے توی اور چناب کی سفید اور سرخ موجوں کی طرح باہم مدغم ہو کر بھی دور تک الگ الگ دکھائی دیتے رہے۔
اپنی میڈیکل ہسٹری بیان کرنے کے لیے راولپنڈی کے ایک نواحی کنٹونمنٹ کا ذکر کرنا پڑے گا جہاں نئے ہم جماعتوں کی بدولت ’آساں، جاساں، ٹکرساں‘ جیسی ٹھیٹھ پوٹھواری سے واسطہ پڑا۔ ساتھ ہی تقسیم کے وقت موجودہ انڈین ریاست اتر پردیش کی آرمی کلودنگ فیکٹری، شاہجہاں پور سے پاکستان آ جانے والے وہ حق ہمسائے جن میں سے بعض اپنے آبائی علاقے روہیل کھنڈ کی امپورٹد بولی بولتے۔
مگر سیکٹر سولہ ’کنے‘ رہنے سے کسی کی ’ہیٹی‘ نہ ہوتی۔ ان لسانی تضادات میں اردو کے استاد مولانا بشیر احمد صمصام کے غلط تلفظ، غلط اضافتوں اور سکون و حرکت کی گڑبڑ پر گرفت، اور اس سے بڑھ کر والد محترم کا اصرار کہ ان کا ہونہار فرزند سوشل سائنسز کی اردو تدریس کے باوجود امتحانات انگریزی میں دے۔
دو زبانوں میں ایک سا مواد پڑھتے رہنے سے ترجمے کا چسکا لگ گیا جس کا فائدہ وطنِ عزیز میں کم اور لندن میں زیادہ ہوا۔ نامہ نگار ٹیلی فون لائن پہ اپنی آواز میں رپورٹ ریکارڈ کراتا، جس کا متن کچھ ہی دیر میں کمپیوٹر سکرین اور پرنٹر کے ذریعے ہر متعلقہ سروس کو پہنچ جاتا۔
یوں ہم منجھے ہوئے انگریز صحافیوں کی تحریریں پڑھتے اور معمولی رد و بدل کے بعد اردو کے قالب میں ڈھال لیتے۔

،تصویر کا ذریعہShahid Malik
ہم بھی لکھاری بن گئے
اطہر علی، محمد غیور اور آصف جیلانی جیسے اخبار نویسوں کی ادارتی پرکھ، سارہ نقوی، سید راشد اشرف اور یاور عباس کی پیش کاری، وقار احمد، علی احمد خان اور سب سے بڑھ کر رضا علی عابدی کی لسانی گرہ کشائیاں تھیں۔
جن کی بدولت محض تدریسی تجربے کا حامل ایک نووارد صحافی ترجمے کے بہانے مکھی پہ مکھی کی بجائے مچھر مارنے لگا۔ اگلا مرحلہ یہ کہ کوئی سینئر ساتھی سالانہ چھٹی پر گیا تو اس کا کام عارضی طور پر آپ کے کھاتے میں، یوں معمول کے سوال و جواب اور انگریزی اسباق کے علاوہ ہفتہ وار سیاسی تجزیہ میزان، سائنس کلب، گرد و پیش، کھیل کے میدان سے، کم و بیش سبھی پروگرام ایک ایک کر کے پیش کیے اور بہت مزہ آیا۔
مگر یہ پروگرام ایسے تھے جن کے لیے مواد کسی نہ کسی انگریزی یونٹ سے مل جاتا یا ہم خود الیکس پروب پر ماہرین کے انٹرویو کر لیتے۔ یوں طبع زاد تحریری متن کی ضرورت کم ہی پیش آتی۔ یہاں اہلِ نظر کے لیے نشانیاں ہیں، جن کے لیے لانگ شاٹ کی جگہ اپنا منظر کلوز اپ میں دکھانا پڑے گا۔
وِیک اینڈ پر نشر ہونے والا ’سب رس‘ کرتے ہوئے تخلیقی ذہن نے سوچا کہ کسی معروف شخصیت کے ساتھ دلچسپ گفتگو اور ادبی تقریبات کی رپورٹ کے علاوہ پروگرام میں نئی کتابوں پر تبصرے بھی ہونے چاہئیں۔
پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے ایک تازہ کتاب اچھی طرح پڑھ لی کہ اس کا تین ساڑھے تین منٹ کا جائزہ ’سب رس‘ میں شامل کر لیں گے۔
میرے مولا، یہ کیا ہوا؟ آنکھوں میں ہیڈ مرالہ کی مثال پھر ابھرنے لگی جہاں دریائے توی اور چناب کی سفید اور سرخ لہریں ایک دوسری سے مل کر بھی ایک خاص فاصلے تک الگ الگ ہی رہتی ہیں۔ یہ نہیں کہ سوچ کے افق پر کوئی نکتہ طلوع نہیں رہا تھا۔ ایسا نہیں لیکن اب آپ سے کیسے چھپاؤں کہ سکول کالج کی تعلیم کے نتیجے میں اور نامہ نگاروں کی انگریزی رپورٹیں پڑھ پڑھ کر ترجمہ کرنے کی عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ خیالوں کی مچھلیاں میری اردو کے جال میں پھنسنے سے پہلے ہی پھدک کر پھر دریا میں جا گرتیں۔
موسم سرما کی صبح،سنیچر کا دن، اسی دوپہر کو ریکارڈنگ اور اطہر صاحب والے اکیلے کمرے میں شدید بے بسی کا عالم کہ اردو کے مقبول و باوقار کلچرل پروگرام کا پیٹ کیسے بھروں۔ اچانک ایک میز پر اولیویٹی کا ’آدم بو‘ مینوئل ٹائپ رائٹر دکھائی دیا۔
ایک بجلی سی کوندی اور ذہن نے انگریزی کے فقرے گھڑنے شروع کر دیے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی نالائق طالب علم امتحان میں کسی ناقابلِ فہم سوال کا جواب ’اتمام حجت‘ کے طور پر بغیر سوچے سمجھے لکھنے بیٹھ جائے۔ آخر کار پون گھنٹے میں ایک قابل نشر آئٹم تیار ہو گیا، جسے اردو میں ڈھالتے ہوئے بھی چنداں مشکل پیش نہ آئی۔
کسی پروگرام کے لیے ’سی سکیشن آپریشن‘ کے ذریعے یہ میری پہلوٹی کی تحریر تھی، جس نے مجھے ایک ایسا مترجم بنا دیا جس نے اپنے ہی مضامین کے کامیاب ترجمے کیے ہیں۔ اصل کامیابی یہ تھی کہ میں نے اپنا انگریزی تبصرہ بھی پرانی نصابی کتابوں کی طرح آدھی قیمت پر سنٹرل ’ٹاکس اینڈ فیچرز‘ کو بیچ دیا۔
پھر ایک مدت تک ہر ہفتے کے اختتام پر یہی معمول رہا۔ ابتدا میں جن کتابوں کے ساتھ یہ حرکت کی گئی ان میں عمران خان کی ’آل راؤنڈ ویو‘، بے نظیر بھٹو کی ’ڈاٹر آف دی ایسٹ‘، محمد غیور اور ساتھیوں کی ’پاکستان آفٹر ضیا الحق‘ اور اسلامی سکالر بی اے مصری کی ’اسلامک کنسرن فار انیملز‘ شامل تھیں۔
تو حاصلِ غزل کیا ہے؟
دس برس تک لندن میں عالمی نشریات سے وابستگی اور کچھ عرصہ ایشین نیوز نیٹ ورک کی سربراہی کے بعد آپ کے بھائی نے 42 برس کی عمر میں پاکستانی پنجاب میں بی بی سی کے اولین نامہ نگار کے طور پر کام شروع کیا تو طریقہ کار پرانا ہی تھا۔ یعنی نیوز کاپی یا وائس رپورٹ انگریزی میں،پھر اسی متن پر مبنی اردو مراسلہ اور حسب فرمائش ہندی انٹرویو۔ اسلوب اس سے ذرا ہٹ کر جسے اطہر علی مرحوم مجھے چھیڑنے کے انداز میں عالمانہ زبان کہا کرتے تھے۔
اب اس زعم میں کہ ہم براہ راست اردو لکھ لیتے ہیں ہفتہ وار اخباری گپ بازی کا نام ’خوش کلامی‘ رکھ چھوڑا ہے۔ پھر بھی اس دن سے ڈرتا ہوں جب روزی روٹی کی خاطر کسی انگریزی روزنامہ کے لیے کالم لکھنا پڑ جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اب کے ترتیب پہلے سے الٹ ہو گی۔ یہی کہ ابتدائی متن اردو میں لکھوں اور پھر اس کا ترجمہ انگریزی میں کر لیا جائے۔
رہا نئے سال سے سیربین بند ہو جانے کا سوال تو انسانی زندگی میں ارتقا کا عمل کبھی نہیں رکتا اس لیے:
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا









