پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی: وکلا کی ہڑتال اور عدالت نے پولیس سے تفصیلات طلب کر لیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وکلا تنظیموں کی جانب سے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پیش آئے واقعے کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال کی گئی ہے۔
ادھر لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے الزام میں گرفتار وکلا کی ضمانت کی درخواستوں پر لاہور پولیس کے حکام سے دو روز میں تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
گرفتار وکلا کو ضمانت کروانا پڑے گی
لاہور ہائی کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت کے دوران اس ڈویژن بینچ کے سربراہ جسٹس باقر علی نقوی نے ریمارکس دیے ہیں کہ وکلا نے پی آئی سی پر حملہ کرکے جو کیا وہ جنگل کا قانون ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جنگل کے قانون میں کوئی معاشرہ زیادہ عرصے تک باقی نہیں رہ سکتا۔
عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل اور پاکستان بار کونسل کے رکن اعظم نذیر تارڈ سے استفسار کیا کہ کیا وہ یہ وضاحت دے سکتے ہیں کہ ان کے موکلوں کو کیسے جرآت ہوئی کہ وہ پی آئی سی پر حملہ کریں۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر ایسا حملہ بار کونسل کے دفتر پر ہوا ہوتا تو پھر ان کا کیسا ردعمل ہوتا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملزمان کے وکیل کا کہا تھا کہ اُنھوں نے اس واقعے کی میڈیا پر آکر مذمت کی تھی اور اگر کوئی وکیل پی آئی سی پر حملے میں ملوث ہوا تو ان کے لائسنس معطل کیے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ عمومی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ گولی چلانے والا اور پتھر مارنے والہ گرفتار نہیں ہوتا۔
ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’پولیس والوں نے وکلا پر ایسے تشدد کیا جیسے وہ کسی دشمن ملک کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے آئے تھے جس پر بینچ کے سربراہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر وکلا کا رویہ جارحانہ تھا۔‘
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس حملے میں جتنے بھی وکلا گرفتار ہیں ان کو ضمانت کروانا پڑے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ ججز نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے۔
پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے اس واقعے سے متعلق تمام تفیصلات پیش کرنے کے لیے عدالت سے دو روز کی مہلت مانگ لی جس پر عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی۔
دوسری طرف سپریم کورٹ کے سینئیر وکلا نے پی آئی سی پر حملے میں ملوث وکلا کو فوری طور پر رہا کرنے کے ساتھ ساتھ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
وکلا کی ہڑتال
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 60 وکلا کی رکنیت کو معطل کردیا ہے ان وکلا نے پاکستان بار کونسل کی ہدایات پر عمل نہ کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات ہونے والے 3 ایڈشنل ججز کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائینٹ سیکرٹری کی طرف سے اس ضمن میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔
جمعرات کی شام ایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکلارہنماؤں نے کہا تھا کہ ملک بھر کے وکلا 13 دسمبر جمعے کو عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔
صحافی عباد الحق کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حفیظ الرحمان چودھری نے کہا تھا کہ کسی عدالت میں کوئی کام نہیں ہو گا جبکہ پاکستان بار کونسل کے رکن احسن بھون نے واضح کیا کہ وکلا کا یہ احتجاج پرامن ہو گا۔
انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پیش آئے واقعے کے محرکات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔
اس نیوز کانفرنس سے قبل لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلا تنظیموں کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل، لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے شرکت کی۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی پریس ریلیز کے مطابق وکلا کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے اپیل کی ہے کہ پی آئی سی کے واقع پر جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔
اجلاس میں وکلا رہنماؤں اور عہدیداروں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم کی گئی جسے پی آئی سی میں ہونے والے واقعے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اجلاس سے پاکستان بار کونسل کے رکن احسن بھون نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گرفتار وکلا کو فوری رہا کیا جائے اگر ایسا نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا۔
احسن بھون نے پی آئی سی میں ہونے واقعے کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ وکلا برادری اس پر رنجیدہ ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا جس میں وکلا کی رہائی کی استدعا کی جائے گی۔
یاد رہے کہ جمعرات کو بھی وکلا نے ہڑتال کی اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے تھے۔
’آگ کو مزید بھڑکنے سے روکیں‘

کراچی کے اعلیٰ عدالتوں اور سٹی کورٹس میں وکلا تنظیموں کی جانب سے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا ہے، ہائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے والے دروازے پر وکلا رہنما جمع ہو گئے اور کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس وجہ سے مقدمات کی سماعت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید قلب حسن نے کہا ہے کہ وکلا کو ہسپتال نہیں جانا چاہیے تھا، غلطی کس کی ہے اس کو دیکھنا ہو گا مگر آگ بھڑک چکی ہے۔
کراچی میں جمعے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید قلب حسن نے کہا کہ واقعہ وکلا کے ایکسیڈنٹ پر ہپستال میں لائن میں لگنے کی وجہ سے ڈاکٹروں کے رویے کی وجہ سے پیش آیا۔ ڈاکٹرز نے وکلا کو بری طرح پیٹا جس کی ایف آئی آر تو کٹی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ وکلا کو پتھر اور لاٹھیاں ماری گئیں، 100 سے زائد وکلا گرفتار ہوئے انھیں دہشت گرد بنا کر عدالت میں پیش کیا گیا، ان کے ساتھ حکومت اور پولیس نے ایسا رویہ اختیار کیا جیسے وہ دشمن ملک سے آئے ہیں۔
’اس واقعے میں صرف وکلا نہ بلکہ ڈاکٹرز بھی ملوث تھے مگر کارروائی صرف وکلا کے خلاف ہو رہی ہے، انھوں نے مشورہ دیا کہ وکلا اور ڈاکٹرز کو ضابطہ اخلاق کے تحت بٹھایا جائے اور اس آگ کو مزید بھڑکنے سے روکا جائے۔‘
وکلا جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
اس سے قبل لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہنگامہ آرائی کے ملزم وکلا کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
بدھ کو اس ہسپتال پر دو سو سے زیادہ وکیلوں نے دھاوا بول کر وہاں توڑ پھوڑ کی تھی اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔
پولیس نے جمعرات کی دوپہر 46 ملزمان وکلا کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج عبدالقیوم خان کے سامنے پیش کیا۔
عدالت نے مختصر سماعت کے بعد وکلا کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

جب پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا تو ان کے چہرے ڈھانپے گئے تھے اور اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ چند روز قبل چند وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج کے بعد ادویات کی مفت فراہمی کا مطالبہ کیا تھا وہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے وکلا اور ہسپتال انتظامیہ میں لڑائی ہوئی تھی۔
بدھ کو انتظامیہ اور وکلا کے درمیان مذاکرات ہونے تھے تاہم وکلا گروہ کی شکل میں ہسپتال آئے اور انھوں نے حملہ کیا۔ اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ہسپتال میں داخل مریض بھی متاثر ہوئے تھے اور حکام کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران تین مریض طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلا کے خلاف تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت دو مختلف مقدمات درج کیے ہیں۔
پہلا مقدمہ ہسپتال کے عملے کے ایک رکن کی مدعیت میں 250 سے زائد وکلا کے خلاف قتلِ خطا، کارِ سرکار میں مداخلت، دہشت پھیلانے، ہوائی فائرنگ کرنے، زخمی اور بلوہ کرنے، لوٹ مار، عورتوں پر حملہ کرنے اور سرکاری مشینری اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہچانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
اس مقدمے میں 21 وکلا کو، جن میں لاہور بار کے جنرل سیکرٹری اور نائب صدر بھی شامل ہیں، نامزد کیا گیا ہے جبکہ باقی نامعلوم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAli Waqar
دوسرا مقدمہ پولیس مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں پولیس وین کو جلانے، پولیس پر حملہ آور ہونے جیسے الزامات کے تحت دفعات لگائی گئی ہیں۔
وکلا کی جانب سے جمعرات کو صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے تاہم حکومت اور ضلعی انتظامیہ ان سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے۔
وکلا کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک ان کے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ وکلا کی ہڑتال کے باعث عدالتوں میں جمعرات کو کام نہیں ہو سکا۔
وکلا تنظیموں کے ایک مشترکہ اجلاس میں ہائی کورٹ بار، پنجاب بار کونسل اور ضلعی بار کی قیادت میں وکلا اپنا اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔
جمعرات کی صبح سی سی پی او لاہور ذولفقار حمید نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’شہر کی صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔ ڈاکٹروں اور وکلا دونوں نے ہڑتال کا اعلان کیا ہوا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ صرف احتجاج کی حد تک ہے۔‘
ڈاکٹرز کا پی آئی سی میں کام کرنے سے انکار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر مشتمل گرینڈ ہیلتھ الائنس نے بدھ کے واقعے پر تین دن کے لیے یوم سیاہ منانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
صحافی محمد زبیر کے مطابق ’ہسپتال میں ہو کا عالم ہے۔ اس وقت صرف سکیورٹی گارڈز اور دفتری عملہ موجود ہے جبکہ تباہی کے نشانات جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پی آئی سی ذرائع نے بتایا ہے کہ صبح کے وقت صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد ہسپتال آئیں تھیں۔ جہاں پر ان کی ہسپتال انتظامیہ اور سینئیر ڈاکٹروں کے ساتھ طویل میٹنگ ہوئی۔
’ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے کہا گیا کہ ڈاکٹر ہسپتال میں کام شروع کرئیں مگر ڈاکٹروں اور ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کا یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے اپنی شرائط پیش کیں۔ جس میں پی آئی سی میں سکیورٹی کا موثر انتظام، ہنگامہ آرائی کے مرتکب تمام وکلا کی گرفتاری تک کام کرنے سے معذرت کی ہے۔ ‘
ذرائع کے مطابق میٹنگ میں طے کیا گیا ہے کہ اس پر دوبارہ بات کی جائے گئی اور متوقع طور پر ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان دوبارہ رات کو مذاکرات ہوسکتے ہیں۔
رینجرز کی تعیناتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہر میں کشیدہ صورتحال اور پنجاب بار کونسل کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کے پیش نظر لاہور کے اہم مقامات پر رینجرز کی تعیناتی کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
وزارت داخلہ نے ڈی جی رینجرز کو شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کی غرض سے لاہور کے مختلف مقامات پر دس پلاٹون رینجرز تعینات کرنے کی سفارش کی تھی۔
ان مقامات میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، گورنر ہاؤس، پنجاب اسمبلی، پنجاب سول سیکرٹیریٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان (لاہور رجسٹری)، لاہور ہائی کورٹ اور دیگر جگہیں شامل ہیں۔
سپریم کورٹ وکلا کے خلاف شکایات کا جائزہ لے گی
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد میں بلوچستان میں ملازمتوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بدھ کو پیش آنے والے لاہور کے واقعے کے بعد سب کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ہی وکلا کی انضباطی کمیٹی کا اجلاس 13 دسمبر کو سپریم کورٹ میں ہو گا جس میں وکلا کے خلاف شکایات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس انضباطی کمیٹی میں چیئرمین کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے چار ارکان شامل ہوتے ہیں۔ یہ انضباطی کمیٹی وکلا کے خلاف آنے والی شکایات اور اس پر کی گئی کارروائی کے بارےمیں غور کرے گی۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ اس انضابطی کمیٹی نے جرم ثابت ہونے پر متعدد وکلا کے لائسنس مسوخ اور معطل کیے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال پہلی مرتبہ اس انضباطی کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔ اس سے پہلے جسٹس عظمت سعید کے پاس اس کمیٹی کی سربراہی تھی۔
وکلا کا ہسپتال کے اندر ’حملہ‘

ایف آئی آر کے مطابق بدھ کے روز دن 12 بجے 200 سے 250 مسلح و مشتعل وکلا ایمرجنسی گیٹ کو توڑتے ہوئے زبردستی ہسپتال کی عمارت میں داخل ہوئے اور مختلف ٹولیوں میں بٹ کر ہسپتال کے مختلف شعبوں میں توڑ پھوڑ کی۔
وکلا نے ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی سٹاف، میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹرز پر تشدد کیا اور ہسپتال کے قیمتی آلات اور سامان کو توڑا جس سے ہسپتال میں موجود مریض اور ان کے لواحقین شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ وکلا نے ڈاکٹروں کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
ایف آئی آر نے مطابق حملہ آور مسلح وکلا کے ایک گروہ نے نرسز ہاسٹل میں داخل ہو کر نرسوں کو بھی زدوکوب و ہراساں کیا، غلیظ گالیاں دیں اور وہاں موجود انچارج نرس کے کپڑے پھاڑے اور ان کے گلے سے لاکٹ اتار لیا۔ وکلا نے مختلف افراد سے ان کی قیمتی اشیا بھی چھین لیں۔
ایف آئی آر کے مطابق توڑ پھوڑ اور زدوکوب کرنے کا عمل تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران بعض مسلح وکلا نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔
پنجاب بار کونسل کا مؤقف
پنجاب بار کونسل کی جانب سے بدھ کو ہونے واقعے کے بارے میں ایک ہنگامی اجلاس کے بعد پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ بار کونسل ’ڈاکٹرز کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اشتعال انگیز ویڈیو اور پُر امن وکلا پر کیے جانے والے لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ کی مذمت کرتی ہے۔
پنجاب بار کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وکلا کی ایف آئی آر کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، پولیس تشدد کے ذمہ داران اور وکلا پر تشدد کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو گرفتار کیا جائے اور ان پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
’ویڈیو جو ہنگامہ آرائی کی وجہ بنی‘
وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وکلا اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان پہلے سے مسئلہ چلا آ رہا تھا جس کے بعد فریقین میں صلح صفائی کروا دی گئی تھی تاہم سوشل میڈیا ڈاکٹرز کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد وکلا دوبارہ مشتعل ہوئے۔
اُنھوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل ہوئے جھگڑے کو وزیر قانون راجہ بشارت نے حل کروا دیا تھا۔
خیال رہے کہ مذکورہ ویڈیو میں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک ڈاکٹر ہسپتال کے احاطے میں کھڑے ہو کر وکلا اور ڈاکٹروں کے درمیان گذشتہ دنوں ہونے والی گفتگو عملے اور دیگر ڈاکٹروں کو بتا رہے ہیں جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ وکلا نے کہا کہ ہم ڈاکٹروں کو ہی آئی سی کے اندر جا کر کچھ نہیں کہہ سکتے۔

اس ویڈیو میں خطاب کرنے والے ڈاکٹر وکلا کی نقل اتار کر مذاق اڑا رہے ہیں۔
ہنگامہ آرائی میں تین مریض ہلاک
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق بدھ کی شام صوبائی وزیر صحت اور صوبائی وزیر اطلاعات اور وزیر قانون نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہنگامہ آرائی کے باعث تین مریض دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔
پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کے مطابق ہلاک ہونے والے مریضوں میں ایک خاتون اور دو مرد شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو دی گئی بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہے کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث 34 وکلا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ہسپتال میں ہنگامہ آرائی اورتشدد کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے اورذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

پریس کانفرنس میں وزیر قانون راجہ بشارت نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس واقعے کے انکوائری دو محکموں میں کی جائے گی اور ڈاکٹر اور مریضوں کی گاڑیوں کے نقصان کا ازالہ کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ میڈیا کی وجہ سے وکلا کی نشاندہی ہوئی ہے جو اس معاملے میں شامل تھے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائی گی۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یاد رہے کہ وکلا نے احتجاج کے دوران جی پی او چوک بند کر دیا جس کے باعث ارد گرد کے علاقوں میں ٹریفک کی روانی میں خلل پڑا۔
نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق اس ہنگامہ آرائی کی کووریج کرنے والے صحافیوں کو بھی زخمی کیا گیا ہے اور کئی صحافیوں کے موبائل فون بھی توڑے گئے۔
پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان بھی موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ وکلا نے انھیں اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وکلا کا ایک گروہ فیاض الحسن چوہان کو دھکیل رہا ہے۔










