’ملک ریاض سے لی گئی رقم پر وفاق کا نہیں کراچی کا حق ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے کے مرکزی درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا ہے کہ بحریہ گروپ آف کمپنیز کے بانی ملک ریاض کے برطانوی حکام سے تصفیے کے بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے حوالے کی جانے والی رقم کو اہلیانِ کراچی کی بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سید محمود اختر نقوی کی جانب سے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری برانچ میں جمع کروائی گئی متفرق درخواست وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے اس تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 19 کروڑ میں سے 14 کروڑ پاؤنڈ کی رقم پاکستان کو مل چکی ہے۔
شہزاد اکبر نے جمعے کو ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا تھا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض کے خاندان کے درمیان 19 کروڑ پاؤنڈ کا جو تصفیہ ہوا اس میں سے 14 کروڑ پاؤنڈ ’ریاستِ پاکستان‘ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بیرسٹر شہزاد اکبر نے یہ بھی کہا تھا کہ رقم سپریم کورٹ آف پاکستان کے نیشنل بینک آف پاکستان میں موجود اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ ملک ریاض کے اثاثوں کی مد میں برطانیہ سے حاصل ہونے والی رقم کو ’غریبوں کی سماجی بہبود‘ کے لیے وفاقی حکومت کو دے دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار عارف ارباب نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا کہ نیشنل بینک سے انھیں یہ پیغام ملا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ میں پیسہ جمع کرانا چاہتے ہیں جو ملک ریاض سے 460 بلین روپے کی ریکوری سے متعلق کھولا گیا تھا۔
رجسٹرار کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانیہ کے مقدمے سے سپریم کورٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے اور ’ہم صرف اپنے فیصلے کی روشنی میں بحریہ ٹاؤن سے قسطیں وصول کر رہے ہیں‘۔
پاکستان کی سپریم کورٹ اور ملک ریاض کے درمیان 460 بلین کا تصفیہ
واضح رہے کہ گذشتہ برس چار مئی کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی اراضی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
عدالت نے اپنے اس فیصلے میں معاملہ نیب کو بھیجنے اور تین ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان ریفرنسز اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ملک ریاض نے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے ساتھ تصفیہ کرتے ہوئے کراچی بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی الاٹمنٹ کو جائز قرار دینے کے لیے 460 ارب روپے دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
اور یہ رقم طے شدہ شیڈول کے تحت عدالت کے مقرر کردہ اکاؤنٹ میں جمع کروائی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShazadAkbar
اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں درخواست گزار محمود نقوی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق برطانیہ سے آنے والے 14 کروڑ پاؤنڈ سے پہلے ہی اس اکاؤنٹ میں 70 ارب روپے کی رقم جمع ہو چکی تھی۔
بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا جو تین رکنی بینچ بنایا گیا تھا اس میں پہلے وفاق اور پھر سندھ حکومت نے بھی اس رقم کے حصول کے لیے درخواست دی تھی تاہم سپریم کورٹ کا ان درخواستوں سے متعلق یہ کہنا تھا کہ جب تمام رقم جمع ہو جائے گی تو پھر اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
محمود اختر نقوی کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف ان کی درخواست میں وفاق کو تو فریق ہی نہیں بنایا گیا تو وہ کس حیثیت سے اس رقم کا دعویدار ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کی درخواست میں سندھ ریونیو بورڈ کے سینیئر رکن ملک اسرار احمد اور بحریہ ٹاؤن کے مالک کو فریق بنایا گیا تھا۔
بحریہ ٹاون کی وکلا ٹیم سے جب اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے برطانیہ سے آنے والے 14 کروڑ پاؤنڈ کے سپریم کورٹ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہونے سے متعلق کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کیا۔
واضح رہے کہ برطانیہ سے آنے والی رقم کی سپریم کورٹ کو منتقلی کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ یہ پیسے بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں ملک ریاض پر واجب الادا رقم کی مد میں سپریم کورٹ کو کیسے منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
جمعرات کو بیرسٹر شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس میں صحافیوں نے اس حوالے سے سوالات پوچھے تھے جن پر انھوں نے کہا تھا کہ رازداری کے حلف نامے کے تحت وہ اس کی مزید تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShazadAkbar
جمعے کو اپنی ٹویٹس میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہ مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے پر اس سے زیادہ تفصیلات نہ دینے کے حلف نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کا برطانیہ سمیت کئی غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ ایسے ہی کئی معاملات جاری ہیں اور حکومت کو 'سینکڑوں ملین ڈالر' موصول ہونے کی توقع ہے اس لیے وہ ’یہ رازداری کا عہد توڑنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔'
نامہ نگار اعظم خان کے مطابق شہزاد اکبر نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ 14 کروڑ پاؤنڈ کی رقم برطانیہ سے پاکستان کو ’ٹیلی گرافک ٹرانسفر‘ (ٹی ٹی) کے ذریعے موصول ہوئی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ رازداری کے حلف نامے پر دستخط کرنے کی وجہ سے اس تصفیے کی تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ملک کو اتنی زیادہ رقم واپس ملی ہو۔
ملک ریاض سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر شہزاد اکبر نے کہا ’ہماری طرف سے ایک پریس ریلیز آ گئی تھی۔ یہ 28 ارب روپے بنتے ہیں۔‘
صحافیوں نے کہا کہ یہ 39 ارب بنتے ہیں جس پر انھوں نے کہا ان کا کیلکولیٹر 250 ملین ڈالر پر جا کر رک گیا تھا۔
اس سے قبل ملک ریاض نے ٹوئٹر پر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انھوں نے اپنی ظاہر شدہ قانونی جائیداد بیچ کر یہ 190 ملین پاؤنڈ کی رقم بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں جمع کرانی ہے۔ ملک ریاض نے عدالت عظمیٰ کے ساتھ تصفیہ کرتے ہوئے قسطوں میں 460 بلین روپے کی رقم دینے کی حامی بھری تھی۔
ملک ریاض نے دوسرے ٹویٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کا تصفیہ ایک سول نوعیت کے معاملے میں ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیرسٹر شہزاد اکبر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ سول نوعیت کا معاملہ ہے اور یہ پیسے بغیر کوئی مقدمہ قائم کیے تصفیے کے نتیجے میں ملے ہیں۔
’ہم برطانوی حکومت اور این سی اے کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے اس کیس کو اتنے کم وقت میں منطقی انجام تک پہنچایا۔‘
’کیا سپریم کورٹ سٹیٹ آف پاکستان نہیں‘
کانفرنس کے دوران صحافی کے اس سوال پر کہ ملک ریاض کا یہ پیسہ سپریم کورٹ میں جائے گا یا سٹیٹ آف پاکستان کو؟ شہزاد اکبر نے جواب دیا کہ نیشنل کرائمز ایجنسی (این سی اے) کی پریس ریلیز میں لکھا ہوا ہے کہ یہ پیسہ برطانیہ کی طرف سے ریاست پاکستان کو منتقل کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا ’رازداری کے حلف نامے کے تحت اس کی مزید تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔‘
جب صحافیوں نے مزید سوالات کیے تو انھوں نے کہا ’بالکل یہ رقم سپریم کورٹ میں جمع ہو گی۔ شہزاد اکبر نے صحافیوں سے سوال کیا کہ ’کیا سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیسے آتے ہیں تو کیا وہ سٹیٹ آف پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’یہ پیسے عدالت میں جمع ہوں گے اور ہم نے عدالت سے (یہ پیسے) مانگے ہوئے بھی ہیں کہ یہ پیسے سندھ کو نہیں ملنے چائیں، وفاق کو ملنے چائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں ملک ریاض تصفیے کا پسِ منظر
اس سے قبل تین دسمبر کو این سی اے کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق یہ تصفیہ نیشنل کرائم ایجنسی کی ملک ریاض حسین کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے۔
بیان کے مطابق تصفیے کے تحت ملک ریاض حسین اور ان کا خاندان جو 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم/اثاثے دے گا ان میں منجمد کیے جانے والے بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم کے علاوہ مرکزی لندن کے متمول علاقے میں واقع ون ہائیڈ پارک پلیس نامی عمارت کا ایک اپارٹمنٹ بھی شامل ہے جس کی مالیت پانچ کروڑ پاؤنڈ کے لگ بھگ ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بی بی سی کی تحقیقات کے دوران برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور پاکستانی حکام دونوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ لندن میں ملک ریاض سے ایک تصفیے کے نتیجے میں ملنے والی کروڑوں پاؤنڈ کی رقم ریاستِ پاکستان کو منتقل کر دی گئی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک ایس ایم ایس پیغام میں بی بی سی کو بتایا کہ ریاستِ پاکستان کو یہ رقم منتقل ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNCA
خیال رہے کہ برطانوی ادارے کے اعلامیے میں تصفیے میں پانچ کروڑ پاؤنڈ مالیت کا اپارٹمنٹ دینے کی بات کی گئی ہے جبکہ ملک ریاض کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ جائیداد فروخت کی ہے تاکہ اس کی رقم سے سپریم کورٹ کو رقم کی ادائیگی کا وعدہ پورا کیا جا سکے۔
بی بی سی اردو نے جب ملک ریاض کے ترجمان کرنل ریٹائرڈ خلیل الرحمان سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ملک ریاض کی جانب سے ٹوئٹر پر اپنا موقف دے دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ملک ریاض کا شمار پاکستان کے امیر ترین افراد میں کیا جاتا ہے اور وہ بحریہ گروپ آف کمپنیز کے بانی ہیں جسے تعمیرات کے شعبے میں سب سے بڑا نجی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔
ملک ریاض نے رواں برس مارچ میں پاکستان کی سپریم کورٹ کو بھی 460 ارب روپے کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بدلے عدالتِ عظمیٰ نے ان کے خلاف کراچی کے بحریہ ٹاؤن سے متعلق تمام مقدمات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
بحریہ ٹاؤن کے وکیل علی ظفر کے مطابق 460 ارب روپے کی یہ رقم سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں جمع کروائی جائے گی اور اس کے بعد سپریم کورٹ کوئی لائحہ عمل تیار کرے گی کہ اس رقم کا کیا جائے جو کہ تفصیلی فیصلے میں ہی واضح ہو گا۔











