#StudentsSolidarityMarch: پاکستان میں طلبا یکجہتی مارچ کی تصویری جھلکیاں

لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور سمیت پاکستان کے کم از کم 28 شہروں میں طلبا یکجہتی مارچ میں طالب علم اور نوجوان اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

احتجاج میں شریک نوجوانوں نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے ہیں۔ یہاں اس مارچ کی چند تصویری جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں۔

طلبا یکجہتی مارچ

کراچی میں طلبہ یکجہتی مارچ میں طلبا کے علاوہ سابق طلبا یونینز کے عہدیدار، انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکن اور مزدور رہنما بھی شامل ہوئے۔

طلبا یکجہتی مارچ

پشاور میں طلبا یکجہتی مارچ پشاور پریس کلب سے شروع ہوا اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے طلبا رہنماؤں نے شرکا سے خطاب کیا۔ اس ریلی میں مختلف طلبا تنظیموں کے علاوہ مزدور کسان پارٹی کے رہنماؤں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

طلبا یکجہتی مارچ

طلبا تنظیموں نے اس موقع پر بلوچستان یونیورسٹی میں مبینہ طور پر پیش آنے والے جنسی ہراس کے واقعے اور وہاں طلبا کی تنظیم سازی پر عائد مکمل پابندی کے خلاف بھی احتجاج کیا۔

طلبا یکجہتی مارچ

طلبا رہنماؤں نے تعلیم کی اہمیت پر زود دیتے ہوئے ملک میں طلبا کی تنظیموں پر عائد پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے طلبا تنظیموں کی فوری بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔

طلبا یکجہتی مارچ

سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں سہولیات کے فقدان کا موضوع بھی اس موقعہ پر ہوئی تقاریر کا اہم حصہ رہا۔

طلبا یکجہتی مارچ

تعلیمی اداروں میں ہراس کیے جانے کے واقعات کی مذمت کے علاوہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی آواز بلند کی گئی۔

طلبا یکجہتی مارچ

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک میں باعزت روزگار کی فراہمی اور اس حوالے سے حکومتی ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔

طلبا یکجہتی مارچ

تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافے کا نہ ہونا اور گذشتہ ادوار میں بجٹ کٹوتیوں کی بھی مذمت کی گئی۔

طلبا یکجہتی مارچ

کراچی میں ہوئی یکجہتی ریلی میں کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی، داؤد انجنیئرنگ، سندھ جناح میڈیکل یونیورسٹی، وفاقی اردو یونیورسٹی سمیت درجن سے زائد جامعات کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔

طلبا یکجہتی مارچ
طلبا یکجہتی مارچ
طلبا یکجہتی مارچ

۔