#StudentsSolidarityMarch: کیا حکام نوجوان نسل کی تحریک سے خوفزدہ ہیں؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@aimamk
- مصنف, ہدیٰ اکرام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
دنیا کے جمہوری ملکوں میں سٹوڈنٹ یونین کو سیاست کی نرسری کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جہاں ایک پڑھے لکھے ماحول میں اپنی بات کرنا اور خدشات کا کھل کر اظہار کرنا تعلیمی اداروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں کئی دہائیوں سے یہ عمل رکا ہوا ہے۔
ستر کی دہائی میں جب جنرل ضیا الحق نے ان طلبا یونینز پر پابندی عائد کی تو ان نرسریوں میں نئی سیاسی قیادت کی تربیت کا عمل رک گیا اور جب ایسا اقدام ہو جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں نئی قیادت اور پڑھے لکھے سیاستدان کہاں سے آئیں گے؟ موروثی سیاست کا خاتمہ کیسے ممکن ہو پائے گا؟
جہاں نرسریاں بند ہوں وہاں جنگل تو اگا کرتے ہیں باغ نہیں لگتے اور طلبہ یونینز کے حامی ان پابندیوں کو کچھ اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اسی سوچ کے تناظر میں بائیں بازو کے نظریات رکھنے والی طلبہ تنظیموں نے یونینز پر پابندی کے خاتمے اور طلبہ سیاست کے لیے جدوجہد شروع کر رکھی ہے۔
اس سلسلے میں پروگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹیو، سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور ان کے ساتھ شامل دیگر طلبہ تنظیموں نے اپنی آواز بلند کرنے کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں میں 29 نومبر کو طلبہ یکجہتی مارچ کا اعلان کیا ہے۔
جب ان طلبہ سے پوچھا گیا کہ اس یکجہتی مارچ سے وہ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی سوچ میں واضح نظر آئے۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور سے تعلق رکھنے والی طلبا تنظیم کی سرکردہ کارکن محبہ احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست کرنے کا حق دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ’ہم جمہوریت کو صحیح معنوں میں آگے لانا چاہتے ہیں۔ اس وقت جمہوریت اور سیاست صرف ایک طبقے تک محدود نظر آتی ہے اور ہم اسے اس طبقے سے چھین کر عوام تک لانا چاہتے ہیں۔‘
محبہ احمد کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان جو خلا اور رابطوں کا فقدان پیدا ہو چکا ہے، اسے دور کرنے کے لیے طلبہ کو خود ہی میدانِ عمل میں اترنا پڑے گا۔
طالب علم آمنہ وحید بھی کہتی ہیں کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 17 کے مطابق سٹوڈنٹ یونینز اور ایسوسی ایشنز قائم کرنا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
’بطور طالب علم ہم تقریباً 60 فیصد پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری اپنی ہی نمائندگی کسی فورم پر نہیں ہے۔‘
آمنہ وحید نے سیاست پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی بھی تعلیمی ادارے کے سربراہ سے لے کر نیچے تک سیاست چلتی ہے، سٹوڈنٹ لاز میں سیاست ہے تو جب طلبا اپنے حق کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ وہاں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ آخر سیاست کوئی گالی تو نہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کیوں؟
پاکستان میں طلبہ کے لیے اپنے حقوق کی بات کرنا آسان نہیں۔
رواں ہفتے بلوچستان کے گورنر آفس سے بلوچستان یونیورسٹی کے لیے ایک مراسلہ جاری کیا گیا جس میں درج ہے کہ ’بلوچستان یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔‘
بلوچستان کے گورنر آفس سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مراسلا بھیج دیا ہے، تفصیل یونیورسٹی ہی بتا سکتی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
جواب میں بلوچستان یونیورسٹی کے رجسٹرار نے بتایا کہ ’یونیورسٹی آف بلوچستان سٹوڈنٹ یونینز کی بحالی کی تحریک سے خوفزدہ نہیں۔‘
’لیکن ان یونینز کی آڑ میں ادارے سے باہر کام کرنے والی سیاسی تنظیمیں، جو در اندازی شروع کرتی ہیں، تعلیمی اداروں کے لیے تقصان دہ ہیں۔ ان کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔‘
دوسری جانب حسنین جمیل فریدی، جو اس طلبہ تحریک میں پیش پیش ہیں، کی پنجاب یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کینسل ہونے کی اطلاعات بھی منظر عام پر آئی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
بی بی سی نے جب حسنین جمیل سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ مارچ 2019 میں انھوں نے یونیورسٹی میں بسوں کے حصول کے لیے ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں ایک دوسری تنظیم نے ان پر حملہ کیا۔
وہ کہتے ہیں اتنظامیہ نے انھیں پکڑنے کے بجائے ریلی نکالنے والوں سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔
’کئی ماہ گزر گئے یونیورسٹی نے اس معاملے پر کوئی بات آگے نہں بڑھائی، لیکن اب جب ہم نے سٹوڈنٹ مارچ کی تحریک تیز کی تو میری ایم فل کی ڈگری اس کیس کو بنیاد بنا کر کینسل کر دی گئی۔ پر ہم رکنے والے نہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
حکام نوجوان نسل کی تحریک سے خوف زدہ؟
معلم اور سماجی کارکن عمار علی جان سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات کا مقصد درحقیقت مزاحمتی سیاست کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔
’تعلیمی ادراوں کی خواہش ہے کہ وہ نظام کو آمرانہ انداز میں چلاتے رہیں اور ان کا کسی بھی معاملے پر احتساب نہ ہو، ملک میں جمہوریت تب تک پنپ نہیں سکتی جب تک تدریسی اداروں میں آزاد انسان نہیں پیدا ہوتے، اور ان میں جمہوریت نہیں ہوتی۔‘
عمار جان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کے اندر سنگین نوعیت کے معاملات پیدا ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے ’دنیا تو دور کی بات اس خطے میں ہماری یونیورسٹیوں کی کوئی رینکنگ نہیں رہی۔‘
لیکن اگر ذرا ماضی میں جھانکیں اور اس دور کی جانب بڑھیں جب سٹوڈنٹ یونینز بحال تھیں تو صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔
سینیئر صحافی راشد رحمان نے گزرے وقت کو ٹٹولتے ہوئے بتایا کہ اس وقت اختلاف رائے ضرور تھا لیکن آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں تھی۔
’یہ کوشش جب شروع ہو جائے کہ دماغوں کو ڈبوں میں بند کر دیا جائے، نہ سوال ہو، نہ جواب آئے، تو اس سے تقصان معاشرے کا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے اور ایسا ہی کچھ ہمارا حال بیان کر رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAbdullah Khan
سٹوڈنٹ یونینز پر پابندی تو جنرل ضیا الحق کے آمرانہ دور میں لگی لیکن اس کے بعد آنے والی سولین حکومتیں بھی انھیں اپنے دعوؤں کے باوجود بحال نہ کر پائیں۔
راشد رحمان کے مطابق مارشل لا کے اس آرڈیننس کو ختم کرنا کوئی مشکل کام نہ تھا، لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ صرف سویلین حکومتوں کی بزدلی تھی۔
سینیئر صحافی راشد رحمان کا کہنا تھا کہ سٹوڈنٹ یونینز پر پابندی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کے اس کلچر سے ٹرین ہو کر نکلنے والے طلبہ جو آگے چل کر ملکی سیاست کا حصہ بنتے تھے، وہ ختم ہو گئے۔
اپنے حق کی بات کرنے والے طالبات کے مطابق تعلیمی اداروں کی انتظامیہ تعلیمی اداروں کو درس گاہوں کے بجائے انتظامی اداروں کے طور پر چلانا چاہتی ہیں جہاں انھوں نے اپنی ایک عملداری قائم کر رکھی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ حکام اس لیے طلبہ یونینز اور تنظیموں کے خلاف ہیں کیوںکہ انھیں خوف ہے اگر طلبہ کو سیاست کا حق دیا گیا تو پھر ان کا اختیار خطرے میں پڑ جائے گا۔ ’یہی خوف کئی دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں نیا خون شامل ہونے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔‘











