سپریم کورٹ: ’حراست کو جائز یا ناجائز قرار دینا ججز کا کام ہے، حکومت کا نہیں‘

اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے فاٹا اور پاٹا ایکٹ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں حراستی مراکز کے قیام سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق اور صوبائی حکومت کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مراکز میں رکھے گئے افراد کی حراست کو جائز یا ناجائز قرار دینا ججز کا کام ہے حکومت کا نہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کو اس بات پر مطمئن کریں کہ ان علاقوں میں سنہ 2011 کا ایکشن اِن ایڈ آف سوِل پاور قانون موجود ہے یا نہیں، اور ’اگر موجود نہیں ہے تو پھر آپ کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔‘

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 25 ویں آئینی ترمیم میں سنہ 2011 کے قانون کو ختم کرنے یا برقرار رکھنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے ایک طرف شہری آزادی کا جبکہ دوسری طرف ریاست کی بقا کا سوال ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال اٹھایا کہ سنہ 2011 کا قانون اس وقت بنایا گیا جب وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے موجود تھے، لیکن اب چونکہ وہ علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن گئے ہیں، تو وہاں پر اُس وقت کے قانون کیسے برقرار رہ سکتے ہیں؟

اٹارنی جنرل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں حراستی مراکز کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کیونکہ پاکستان گذشتہ 20 سال سے حالت جنگ میں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ضرورت کے تحت کوئی بھی قانون ملک کے کسی بھی حصے میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر اس قانون میں کچھ خامیاں رہ گئی ہیں تو وہ اس کو دور کرنے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اٹارنی جنرل آفس کب سے قانون سازی کرنا شروع ہوگیا، یہ اختیار تو وزارتِ قانون کے پاس ہے‘۔

اُنھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حراستی مراکز میں رکھے گئے افراد کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 10 کا سب سیکشن 4 بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں ان مراکز میں رکھے گئے افراد کی حراست کا معاملہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر مشتمل ریویو بورڈ میں جاتا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کی طرف سے ان مراکز میں رکھے گئے افراد کی حراست سے متعلق کی گئی قانون سازی میں صرف ریویو کا ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان افراد کی حراست کا جائزہ کون لے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 'حراست کو جائز یا ناجائز قرار دینا ججز کا کام ہے، حکومت کا نہیں'۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہر تین ماہ کے بعد ریویو بورڈ ان مراکز میں رکھے گئے افراد کی مدت میں اضافہ یا انھیں رہا کرنے کے بارے میں فیصلہ دے سکتا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی بھی شخص کو غیر معینہ مدت کے لیے ان حراستی مراکز میں رکھا جائے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ، سپریم کورٹ، پاکستان

،تصویر کا ذریعہSupreme court of Pakistan

،تصویر کا کیپشنحراستی مراکز کے متعلق وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کی اپیلوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے ایک طرف شہری آزادی کا جبکہ دوسری طرف ریاست کی بقا کا سوال ہے

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ جب سے ان اپیلوں کی سماعت شروع ہوئی ہے اس وقت سے اب تک ان حراستی مراکز میں رکھے گئے کتنے افراد کو رہا کیا گیا ہے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اب تک ایک شخص کو بھی ان حراستی مراکز سے رہا نہیں کیا گیا۔

انور منصور نے عدالت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ ان حراستی مراکز میں رکھے گئے افراد کی ’اصلاح اور اُنھیں اچھا شہری‘ بنانے کے لیے اُن کی تربیت کی جا رہی ہے، جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے عدالت کو اس بات پر تو مطمئن کریں کہ یہ حراستی مراکز قانون کے مطابق قائم کیے گئے ہیں یا نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آدھا حصہ سنہ 2011 کے قانون اور آدھا حصہ صوبائی حکومت کے بنائے گئے قانون کو ملا کر پڑھ رہے ہیں اور دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوتا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ عدالت کو مطمئن کریں کہ صوبائی حکومت کی طرف سے ان حراستی مراکز سے متعلق بنائے گئے قانون میں سنہ 2011 میں نافذ کیے گئے قانون کو برقرار رکھا گیا ہے یا نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر قانون سازی کا اختیار وفاق کے پاس ہے تو صوبائی حکومت اس معاملے میں کیسے مداخلت کرسکتی ہے۔

باب خیبر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال اٹھایا کہ سنہ 2011 کا قانون اس وقت بنایا گیا جب وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے موجود تھے، لیکن اب چونکہ وہ علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن گئے ہیں، تو وہاں پر اُس وقت کے قانون کیسے برقرار رہ سکتے ہیں؟

بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا صوبائی حکومت نے قانون سازی سے متعلق وفاق کے امور میں مداخلت کی ہے اور کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قانونی نکات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ معاملہ پیش آیا ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’مائی لارڈ کچھ ایسا ہی ہے۔‘

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ شدت پسندوں سے متعلق ایک ویڈیو پیش کرنا چاہتے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا یہ ویڈیو وہی تو نہیں ہے جو پشاور میں آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد سنہ 2015 میں سپریم کورٹ کو دکھائی گئی تھی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ویڈیو نئی ہے، جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہیں وہ ویڈیو دکھا کہ ’ججز کو متاثر تو نہیں کرنا چاہتے؟‘

ان اپیلوں کی سماعت 26 نومبر یعنی کل تک ملتوی کردی گئی۔