انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن ادریس خٹک کی بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ادریس خٹک

،تصویر کا ذریعہAbdul Latif Advocate

،تصویر کا کیپشنلاپتہ ہونے والے انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخواہ میں پشاور اسلام آباد موٹروے پر دوران سفر صوابی انٹر چینج سے لاپتہ ہونے والے انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کی بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔

یہ رٹ پٹیشن پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ ادریس خٹک 11 نومبر کو اسلام آباد میں روس کے سفارت خانے کی ایک تقریب میں شرکت اور اپنی بہن سے ملنے گئے تھے۔ جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دائر درخواست میں کار کے ڈرائیور اور مالک شاہ سوار کی وساطت سے بتایا گیا ہے کہ وہ 13 نومبر کو اسلام آباد سے براستہ موٹروے واپس آ رہے تھے کہ صوابی انٹر چینج پر موجود سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ادریس خٹک اور ڈرائیور شاہ سوار کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ دو دن بعد 15 نومبر کو ڈرائیور شاہ سوار کو صوابی انٹرچینج پر کار کے ہمراہ چھوڑ دیا گیا جبکہ ادریس خٹک کے حوالے سے کوئی بھی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

لاپتہ افراد

،تصویر کا ذریعہAbdul Latif Advocate

،تصویر کا کیپشنپشاور ہائی کورٹ میں ادریس خٹک کی بازیابی کے لیے دائر کی جانے والی درخواست کا عکس

ان کا کہنا تھا کہ دائر درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ بھی ممکن ہے کہ کسی شک کی بناء پر کوئی ادارہ ان کو اپنے ساتھ لے گیا ہو۔‘

عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی درخواست میں وزارت دفاع و وزارت داخلہ اور فوج کے خفیہ اداروں کو فریق بنایا ہے۔‘

عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ چمبر کے قانون دان طارق افغان ایڈووکیٹ کے مطابق ادریس خٹک کے حوالے سے ابتدائی پٹیشن سماعت کے لیے منظور ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’اب یہ کیس پشاور ہائی کورٹ کے انسانی حقوق بینچ میں چلے گا جہاں پر پہلے ہی تقریباً دو سو لاپتہ افراد کے مقدمے زیر سماعت ہیں۔‘

ادریس خٹک کون ہے؟

عبدالطیف آفریدی کے مطابق ادریس خٹک سابق سوویت یونین اور موجودہ روس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انھوں نے وہاں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی جبکہ پاکستان میں وہ روس سے فارغ التحصیل طلباء کی تنظیم ’ایلومینی ایسوسی ایشن آف ریشیا گریجیویٹ ان پاکستان‘ کے جنرل سیکرٹری ہیں۔

وہ اکثر اوقات روس کے سفارت خانے میں مختلف تقریبات میں جاتے رہتے تھے۔

ادریس خٹک کے خاندانی ذرائع کے مطابق وہ ترقی پسند سیاسی نظریات رکھتے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی سے منسلک ہیں۔ وہ روس تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئے تھے جہاں وہ دس سال تک مقیم رہے۔ اور تعلیم مکمل کر کے واپس آنے کے بعد وہ کبھی بھی دوبارہ روس نہیں گئے۔

انھیں اکثر اوقات اسلام آباد میں روس کے سفارت خانے سے مختلف تقریبات میں شرکت کے دعوت نامے ملتے رہے اور وہ ان میں شرکت کرتے رہے۔ ان پر کبھی بھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی کسی سے کوئی دشمنی ہے۔

ادریس خٹک

،تصویر کا ذریعہAbdul Latif Advocate

ادریس خٹک مختلف ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے بطور کنسلٹنٹ فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ جن میں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی ملکی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشل کے مطابق ادریس خٹک نے صوبہ خیبر پختوںخواہ اور حال ہی میں صوبے خیبر پختوںخواہ میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں ہونے والی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد کیسز پر کام کیا۔ وہ اور بھی کئی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

ادریس خٹک کے بھائی اور ڈرائیور کا موقف

ادریس خٹک کے بھائی ڈاکٹر اویس خٹک کی ضلع صوابی کے تھانہ چھوٹا لاہور میں درخواست پر روزنامچے میں رپورٹ درج کی گئی ہے۔

ڈاکٹر اویس خٹک نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ان کے بڑے بھائی ادریس خٹک نوشہرہ کے گاؤں میں اکیلے رہتے تھے۔

’مجھے میری بہن اور بھانجے نے بتایا کہ وہ 13 نومبر کو اسلام آباد گئے تھے اور اس دن شام سے ان کا موبائل نمبر بند آ رہا ہے جس کے بعد میں گاؤں گیا مگر کچھ پتا نہیں چلا۔ جس ڈرائیور کے ساتھ وہ گئے تھے۔ اس نے بتایا کہ ان کو صوابی انٹر چینج پر چند سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔‘

ڈاکٹر اویس خٹک کا کہنا ہے کہ ’میرے بھائی ذیابطیس اور دیگر امراض کے مریض ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ وہ زیادہ بیمار نہ ہو جائیں۔ اس لیے ان کو جلد از جلد بازیاب کروایا جائے۔‘

ادریس خٹک کے خاندانی ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی ہے صرف درخواست کا روزنامچے میں اندراج کیا ہے۔

ادریس خٹک کے کار ڈرائیور شاہ سوار نے 17 نومبر کو صوابی کے علاقے تھانہ چھوٹا لاہور میں درخواست دی ہے کہ ’میں کار نمبر 128 لاہور کا ڈرائیور ہوں۔ ادریس خٹک کے ہمراہ اسلام آباد گیا تھا۔ 13 نومبر کو واپسی پر صوابی انٹر چینج کے قریب سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے ہمیں روک کر ہمارے سروں پر ٹوپیاں پہنائیں اور اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے۔ جب 14 نومبر کو میرے سر سے ٹوپی اتاری گئی تو میں نے دیکھا کہ ادریس خٹک میرے ساتھ موجود نہیں تھے۔‘

ڈرائیور شاہ سوار کے مطابق ان کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’دوسرے دن 15 نومبر کو صوابی انٹرچینج ہی پر لے جا کر مجھے چھوڑ دیا اور کار بھی حوالے کی جبکہ ادریس خٹک تاحال غائب ہیں۔‘

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’میرے ساتھ سفر کرنے والے ادریس خٹک کو بازیاب کروایا جائے۔‘

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں درخواستوں پر تفتیش کی جارہی ہے۔ مناسب ثبوتوں پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

بازیابی کے لیے انسانی حقوق کی تنظیموں کی اپیل

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ادریس خٹک کے لاپتہ ہونے کو انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیا ہے۔ تنظیم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ادریس خٹک کو سادہ لباس میں موجود افراد نے غائب کر رکھا ہے۔ ان کے حوالے سے ان کے خاندان کو معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔‘

’ادریس خٹک تشدد یا اس سے بھی بدترین حالات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جیسے پاکستان میں دیگر افراد کو لاپتہ کر دیا گیا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے پیغام میں اس معاملے میں فی الفور کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہر کوئی واشنگٹن یا جس بھی ملک میں رہائش پزیر ہے وہاں پر پاکستان کے سفارت کار سمیت پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو خط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کریں۔‘

’خط میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کریں کہ ادریس خٹک کو فی الفور بازیاب کروایا جائے۔‘

پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیم پاکستان ہیومن رائٹ کمیشن آف پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ان کے پاس اس بات کی ٹھوس وجوہات ہیں کہ وہ یقین کریں کہ ادریس خٹک کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔‘

ادریس خٹک کے خاندان کے مطابق ان کے پاس اس طرح کا کوئی ثبوت یا اشارہ موجود نہیں ہے کہ ان کا غائب ہونا یا اغوا ہونا، اغوا برائے تاوان کی کوئی کارروائی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ ادریس خٹک کو فوری بازیاب کروایا جائے۔