نواز شریف کی لندن روانگی: ’کیا جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہوگیا‘، وزیراعظم عمران خان

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وزیراعظم عمران خان نے ایک خطاب کے دوران مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کی لندن روانگی اور ان کی میڈیکل رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ’تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

جمعے کو میانوالی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سوال کیا کہ ’کیا جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہوگیا۔۔۔ رپورٹ میں تو کہا گیا تھا کہ مریض کا اتنا برا حال ہے کہ کسی بھی وقت مر سکتا ہے۔‘

تاہم مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے ٹوئٹر پر اس کے جواب میں کہا ہے کہ ’اس شخص کو یہ بھی نہیں معلوم کہ نواز شریف جہاز کی سیڑھیاں نہیں چڑھا تھا بلکہ انھیں ایمبو لفٹ سے جہاز پر پہنچایا گیا تھا۔‘

احسن اقبال کی ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@betterpakistan

سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کی غرض سے گذشتہ ہفتے برطانیہ روانہ ہوئے تھے۔ عدالت کی جانب سے حکومت کی انڈیمنیٹی بانڈ کی شرط ختم کر کے نواز شریف کی واپسی کو ڈاکٹروں کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان نے کیا کہا؟

میانوالی میں ایک ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کو چھوٹ نہیں دیں گے کیونکہ اگر انھوں نے ’ڈیل کی تو یہ ملک سے بڑی غداری ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے نواز شریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو میں نے ڈاکٹروں کی رپورٹ اپنے سامنے رکھ لی۔‘

’اس میں تو کہا تھا کہ مریض کا اتنا برا حال ہے کہ کسی بھی وقت مر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کوئی 15 بیماریاں تھیں۔‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس کا علاج پاکستان میں نہیں ہو سکتا۔۔۔ اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہوگیا۔ یا لندن کی ہوا لگی تو ٹھیک ہوگیا۔‘

انھوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’مجھے ابھی تک پتا نہیں ہے، اس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو لے جانے والے جہاز کے بارے میں کہا کہ ’وہ ایسا زبردست جہاز تھا، عام انسان تو ایسے نہیں جاتے۔‘

ماضی کے احتساب اور اپنی حکومت کے خلاف سیاسی انتقام کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل مشرف نے جب احتساب شروع کیا تو ہم ان کے ساتھ تھے۔ لیکن انھیں بتایا گیا کہ آپ کی کرسی خطرے میں آجائے گی۔ تو جنرل مشرف نے احتساب ختم کر دیا اور شریف خاندان کو باہر بھیج دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان اپنی کرسی بچانے نہیں آیا بلکہ اس ملک میں تبدیلی لانے آیا ہے۔ تبدیلی تب آئے گی جب مافیا کو شکست دیں گے۔‘

’مقابلہ کرنا ہے تو کارکردگی دکھائیں‘

نواز شریف سے متعلق عمران خان کے بیان کے ردعمل میں مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایسے الفاظ کسی وزیراعظم کے نہیں ہو سکتے۔

مریم اورنگزیب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر مقابلہ کرنا ہے تو ان حسد بھری تقریروں کے بجائے کارکردگی کر کے دکھائیں۔‘

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر مقدمہ چلنا چاہیے۔‘

حکمراں جماعت تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’پشاور میٹرو بس پانچ سال سے بن رہی ہے اور پھر اس کی ڈیڈ لائن آگے کر دیتے ہیں۔‘

انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف اپنی بیٹی کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر نیب میں پیش ہوئے تھے۔‘