نواز شریف کا بیرون ملک علاج: ’پلیٹلیٹس میں کمی کی وجہ زہر تو نہیں، تحقیق ہونی چاہیے‘

حسین نواز
    • مصنف, فراز ہاشمی، حسین عسکری
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے لندن پہنچنے کے موقع پر ان کے بیٹے حسین نواز نے اس بات کو دہرایا ہے کہ اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے کہ ان کے والد کے خون میں پلیٹلیٹس کی کمی کی وجہ زہر خورانی تو نہیں۔

انھوں نے یہ بات لندن میں اپنے گھر کے باہر صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہی۔ حسین نواز ماضی میں بھی اپنی ایک ٹویٹ میں اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں۔

حسین نواز کا کہنا تھا کہ 'میں نے خدشے کا اظہار کیا تھا اور صرف میں نے نہیں بلکہ بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا تھا کہ تھرومبوسائٹوپینیا، جس کا مطلب ہے پلیٹلیٹس کی کمی ہونا، اس کی ایک وجہ زہر خورانی یا پوائزننگ بھی ہوتی ہے اور اس کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔'

لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم چیز نواز شریف کی صحتیابی ہے۔

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں, 1

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام, 1

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہPML (N)

نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ پہنچ چکے ہیں۔

نواز شریف کو ہسپتال لے جانے کے بجائے ایوان فیلڈ اپارٹمنٹ لائے جانے کے بارے میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان کے اپارٹمنٹ میں بھی جاتی عمرہ کی طرح آئی سی یو کی طرز پر سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں اور ان کے نجی معالج جو پاکستان سے خصوصی طور پر ان کے ہمراہ لندن پہنچنے ہیں، ان کے ساتھ چوبیس گھنٹے رہیں گے۔

اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نواز شریف کے خون میں پلیٹلیٹس کی کمی مبینہ طور پر زہر خورانی کو قرار دینے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ لندن میں اس کی تشخیص ہو جائے گی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صرف حسین نواز نے نہیں بلکہ بعض سیاستدانوں نے بھی ’پولونیئم‘ نامی کیمیکل کا ذکر کیا تھا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ طبی ماہرین بتا سکتے ہیں کہ کیا وہ سسٹم سے نکل جاتی ہے، رہ جاتی ہے اور جو نقصان ہو رہا ہے کیا اس کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

انھوں نے انگلینڈ میں جدید طبی سہولیات کا ذکر کیا اور کہا کہ یہاں اس بات کی تشخیص ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف
،تصویر کا کیپشنمریم اورنگزیب کے مطابق ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ نواز شریف کو علاج کے لیے شاید امریکہ لے جانا پڑے گا

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کا کہنا تھا کہ میڈیا نواز شریف کے علاج سے متعلق معلومات کو راز میں رکھنے میں ان کی مدد کرے تاکہ اس پورے معاملے کو اس طرح سے سیاسی رنگ دینے سے بچایا جا سکے جس طرح ان کی والدہ کی بیماری کے وقت ہوا تھا۔

حسین نواز کے مطابق وہ خود منگل کو سعودی عرب سے لندن پہنچے ہیں جہاں صحافیوں کے اس سوال پر کہ کیا نواز شریف کا علاج ہارلے سٹریٹ کلینک میں کروایا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ ’ان کا علاج کہاں ہے۔۔۔میں آپ سب سے درخواست کروں گا کہ آپ سب بھی اس بات کو راز رکھنے میں ہماری مدد کریں۔۔۔جس طرح میری والدہ کی علاج، بیماری کو سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی تھی، ہمیں کوشش کرنی ہے کہ اس بار ایسا نہ ہو‘۔

نواز شریف کے علاج سے متعلق امریکہ جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انھیں جانا چاہیے تاکہ ان کی تمام بیماریوں کا علاج ایک چھت کے نیچے ہو سکے جو ان کے مطابق لندن میں دستیاب نہیں اور اگر ہے تو اس بارے میں انھیں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

اسحاق ڈار
،تصویر کا کیپشناسحاق ڈار نے بھی میڈیا سے گفتگو کی

نواز شریف کی لندن روانگی

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف عدالت سے اجازت ملنے کے بعد منگل کو علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہوئے۔ انھیں بیرونِ ملک لے جانے کے لیے قطر کے شاہی خاندان کی وی آئی پی فضائی کمپنی قطر امیری فلائٹس کی ایئر ایمبولینس لاہور آئی اور وہاں سے پرواز اور دوحہ میں مختصر قیام کے بعد لندن پہنچی۔

نواز شریف کو لندن لے جانے والے ایئر بس اے تھری 19 طیارے میں آئی سی یو، آپریشن تھیٹر اور وینٹی لیٹر جیسی سہولیات بھی موجود ہیں۔

اس سفر میں مسلم لیگ ن کے صدر اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف، ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور دو ملازمین بھی ان کے ہمراہ تھے۔

نواز شریف منگل کی صبح جاتی امرا سے اپنی والدہ اور بیٹی مریم نواز کو الوداع کہنے کے بعد ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے جبکہ شہباز شریف ماڈل ٹاؤن سے آئے۔ مسلم لیگ ن کی سینیئر قیادت براہِ راست ہوائی اڈے پر پہنچی جہاں انھوں نے نواز شریف کا استقبال کیا اور انھیں رخصت کیا۔

نواز شریف

مسلم لیگ ن کے مطابق ایئر ایمبولنس جب اپنے سفر کے دوران قطر میں ری فیولنگ اور طبی عملے کی تبدیلی کے لیے رُکی تو قطر میں مختصر قیام کے دوران نواز شریف کا دوبارہ طبی معائنہ بھی ہوا ہے۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بتایا تھا کہ روانگی سے قبل ڈاکٹروں نے نواز شریف کا تفصیلی معائنہ کیا اور انھیں سفر کے دوران خطرات سے بچانے کے لیے سٹیرائڈز کی ہائی ڈوز اور ادویات دی گئی تھیں۔

اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ نواز شریف کو علاج کے لیے شاید امریکہ لے جانا پڑے گا۔ 

نون لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف نے 15 دن قبل علاج کے لیے بیرون ملک روانہ ہو جانا تھا لیکن حکومت کے تاخیری حربوں کی وجہ سے اب انھیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے جانا پڑ رہا ہے۔

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں, 2

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام, 2

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سنیچر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی مشروط حکومتی اجازت کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

اس اجازت کے بعد وزارتِ داخلہ کی جانب سے پیر کو ایک میمورینڈم جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا بلکہ انھیں ایک مرتبہ چار ہفتے کی مدت کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے نواز شریف کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کے لیے سات ارب روپے کے مساوی مالیت کے انڈیمنیٹی بانڈ کا تقاضا کیا گیا تھا تاہم عدالت کی جانب سے دی جانے والی اجازت میں انڈیمنیٹی بانڈ کی شرط ختم کر کے نواز شریف کی واپسی کو ڈاکٹروں کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا تھا۔