وزیر اعظم عمران خان کا ہزارہ موٹروے حویلیاں مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب: ’ہارنا آتا ہے اور جیتنا بھی اور ہار کر کھڑا ہونا بھی‘

،تصویر کا ذریعہPress Information Department
وزیراعظم عمران خان نے ہزارہ موٹروے حویلیاں مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سیاسی مخالفین اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے ’کنٹینر سرکس‘ کے دوران ہونے والے مذاکرات میں ان کی جگہ کسی اور تحریک انصاف کے رہنما کو وزیر اعظم بنانے کے بارے مطالبہ کیا جاتا رہا۔
عمران خان نے چھٹی کیوں لی؟
وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ’بڑی دیر کے بعد دو دن کی چھٹی لی۔ اس پر عجیب عجیب چیزیں آنا شروع ہو گئیں۔ اور جو آرہی تھیں، وہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔‘
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ’جب میں کرکٹ کھیلتا تھا تو کمزور ٹیم آ جاتی تھی، میں کہتا تھا، میں نے نہیں کھیلنا کسی اور کو کھلاؤ ان کے خلاف۔ مجھے تو چیلنج لے کر مزا آتا ہے۔‘
عمران خان نے اپنے خطاب میں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اللہ نے ٹرین کیا ہوا ہے مقابلہ کرنے کے لیے۔ میں ایک سپیشلسٹ ہوں مقابلہ کرنے کا۔ میری کھیلوں کی گراؤنڈوں میں 20 سال ٹریننگ ہوئی ہے۔ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کا مقابلہ کیا ہے اور اللہ کا شکر ہے پاکستان کو اوپر لے کر گیا، مقابلہ کر کے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’مجھے ہارنا بھی آتا ہے اور جیتنا بھی آتا ہے۔ ہار کر کھڑا ہونا بھی آتا ہے۔‘
’عدلیہ عوام کا اعتماد بحال کرے‘
ملک میں یکساں نظام انصاف کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے عدلیہ اور ججوں کو براہ راست مخاطب کیا۔ انھوں نے کہا ’میں اپنے جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار کو کہنا چاہتا ہوں کہ پوری مدد کرے گی گورنمنٹ، جس طرح کی مدد ہمارے سے چاہیے۔ ہم آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
عمران خان نے کہا ’ساری جگہ سے پیسہ نکالیں گے، لیکن آپ کے لیے ہماری گورنمنٹ پیسہ دینے کے لیے تیار ہے۔ لیکن اس ملک میں ہم جو نہیں کر سکتے، ہم پوری آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم نے نظام انصاف سے متعلق مزید بات کرتے ہوئے کہا ’لیکن ہماری عدلیہ نے بحال کرنا ہے عوام کا ٹرسٹ اپنے اندر، عدلیہ نے ایک عام آدمی کو اعتماد دینا ہے کہ یہاں سب کے لیے ایک قانون ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہPress Information Department
’مجھے نواز شریف پر رحم آگیا‘
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک مجرم، عدالت جس کو مجرم قرار دے دیتی ہے۔ ہمیں یہ درخواست کی جاتی ہے کہ اس کو باہر جانے دو انسانی بنیادوں پر۔ ہم ڈاکٹروں کی رپورٹ دیکھتے ہیں اور وہ ہماری کابینہ کرتی ہے جو ابھی تک ہوا نہیں پاکستان میں۔‘
عمران خان نے کہا کابینہ کے زیادہ اراکین نے کہا کہ ان کو باہر نہ جانے دیں باقی بھی تو لوگ جیلوں میں بیمار ہوتے ہیں۔ ’لیکن رحم آ گیا، میں نے اپنی ساری کابینہ کو کہا ٹھیک ہے تکلیف ہے، جانے دو۔‘
ضمانتی بانڈ سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم نے کیا مانگا، ہم نے صرف ایک چیز مانگی کہ سات ارب روپے کی گارنٹی دے دو جو شریف خاندان ٹِپ میں بھی دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بڑی معمولی سی چیز، ایک کاغذ کا ٹکڑا، گارنٹی سائن کر کے چلے جاؤ۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ اس کے اوپر ڈرامے شروع ہو گئے۔ انھوں نے کابینہ کے فیصلے پر تنقید کرنے پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بالی ووڈ کا ایکٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کے اکثر افراد باہر بھاگے ہوئے ہیں ان کی کون گارنٹی دے گا۔ شہباز شریف کی گارنٹی کون دے گا، آپ پر بھی کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں۔
’شکر کریں کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کو رحم آ گیا آپ پر، آپ کو موقع دیا جانے کا، عدالت کا فیصلہ ہم تسلیم کرتے ہیں۔‘
کنٹینر سرکس: ’دھرنے کا ماہر یہاں کھڑا ہے‘
وزیر اعظم عمران خان نے کہا پچھلے دنوں کافی چیزیں ہوئیں، جن پر ضروری ہے کہ بات کروں۔ ’ایک تو سرکس ہوئی کنٹینر کے اوپر۔ اب آپ کو پتا ہے کہ اگر کوئی دھرنے کا ایکسپرٹ ہے پاکستان میں تو وہ یہاں کھڑا ہے۔‘
میں نے شروع میں کہا تھا ایک مہینہ کنٹینر میں گزار دیں تو میں ساری باتیں مان جاؤں گا۔
ہم نے 126 دن گزارے۔ میری اپنی پارٹی کے لوگ گھبرا گئے تھے۔ کابینہ میں کچھ کے دل کمزور ہیں۔ میں نے ان کو سمجھایا۔ میں نے کہا کوئی فکر نہ کرو۔ میں جانتا ہوں کہ کنٹینر اور دھرنا کیا ہوتا ہے۔ تو میں نے ان کو بڑا دلاسہ دیا۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کنٹینر کے سرکس پر لگا ہوا تھا کہ مولانا آ رہا ہے، مولانا جا رہا ہے، یہ کر دے گا، ساتھ سب ان کے ہمنوا تیار ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا صرف ان کی کوشش تھی، یہ سب ڈرامے کرنے کی کوشش تھی کہ دباؤ ڈال کر سارے کہ کسی نہ کسی طرح ان کے کرپشن کیسز سے پیچھے ہٹ جاؤ۔ بلیک میل کرنے کے لیے آئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مائنس عمران خان فارمولے پر مذاکرات ہوتے رہے‘
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آزادی مارچ کے دوران ’مذاکرات میں یہ کہتے ہیں کہ جی کسی کو بھی تحریک انصاف سے وزیر اعظم بنا دیں سوائے عمران خان کے۔ صرف ان کو مسئلہ عمران خان کا تھا۔ کیوں تھا مسئلہ عمران خان سے؟ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ عمران خان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ میں اگر ان کو چھوڑتا ہوں تو میری قوم غور سے سن لو، سب سے زیادہ میں اپنی قوم کے ساتھ غداری کروں گا اگر میں ان کی بلیک میلنگ میں آ کر اور اداروں کو کہوں کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔
’آج میں اگر چپ ہو جاؤں تو میں جنرل مشرف کی طرح ان سے مک مکا کر سکتا ہوں لیکن مجھے خوفِ خدا ہے۔ مجھے اپنی آخرت کی فکر ہے، ووٹ کی نہیں ہے۔‘
مولانا فضل الرحمان کے انداز سیاست پر تنقید کرنے کے بعد عمران خان نے کہا کہ ’میں نے کنٹینر پر کچھ اور شکلیں دیکھیں۔ جتنا بڑا چور اتنا ہی زیادہ شور۔ وہاں شہباز شریف جو منڈیلا بننے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی کھڑا تھا۔ وہاں بلاول زرداری بھی تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’بلاول جو تھیوری لے کر آیا ہے دنیا کے سائنسدان گھبرا گئے ہیں۔ آئن سٹائن گھبرا گیا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے۔‘
عمران خان نے بلاول کی مزید پیروڈی کرتے ہوئے کہا کہ ’جس بات پر آئن سٹائن کی روح تڑپ رہی ہے وہ اس بات پر کہ اس نے کہا جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔‘
’اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے۔‘ انگریزی میں لبرل وہ لبرل نہیں لبرلی کرپٹ ہے۔‘
عمران خان نے کہا دوسری طرف سارے بے روزگار سیاستدان کھڑے ہیں۔ وہاں ان کی بھی شکلیں دیکھیں۔ میں سب کی شکلیں دیکھ رہا تھا کیونکہ اب میرے پاس ساری انفارمیشن ہے، جس کو ڈر لگ رہا تھا کہ اب وہ پکڑا جائے گا کرپشن میں وہ پہنچا ہوا تھا کنٹینر پہ۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں 22 سال نیچے سے جدوجہد کرکے آیا ہوں۔ مجھے مقابلہ کرنا آتا ہے اور میں آج پھر چیلنج کر رہا ہوں آپ سب کو جو مرضی کرنا ہے، سب اکھٹے ہو جاؤ۔ جو بھی کرنا ہے، میں آپ میں سے ایک آدمی بھی نہیں چھوڑوں گا۔‘
اپوزیشن کا ردعمل: 'عمران نے نواز شریف کے منصوبے پر تختی لگا دی'
پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران صاحب اُس شخص کی صحت پر سیاست کر رہے ہیں جس کے منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں۔ ’آج نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے ایک اور منصوبے پر 'نالائق' کے نام کی تختی لگائی گئی۔‘
وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’عمران صاحب آپ تو کہتے ہیں سب چور ہیں، تو پھر چوروں کے منصوبوں کا افتتاح کیوں کر رہے ہیں؟ عمران آج پورے ملک کی طرح آپ بھی نواز شریف کو دعا دیتے جس نے پاکستان کو ہزارہ موٹر وے کا منصوبہ دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہزارہ موٹر وے کی تعمیر کی تکمیل سے قائد نواز شریف کا آج ایک اور خواب پورا ہوگیا‘۔
ترجمان مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کی بصیرت کو سلام، انھیں معلوم تھا کہ 'نالائق' نے خیبر پختونخوا میں کچھ نہیں کرنا، پانچ سال خیبر پختونخوا اور ایک سال وفاق میں حکومت کے باوجود ایک کلومیٹر سڑک نہ بنا سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ 'نالائق اور نااہل کس بے شرمی اور ڈھٹائی سے نواز شریف کے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگا رہے ہیں۔'
پاکستان پیپلز پارٹی کا رد عمل
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے عمران خان کی تقریر پر ایک ٹویٹ میں رد عمل دیا۔
بلاول نے لکھا کہ ’نہ لبرل ہوں، نہ کرپٹ ہوں اور نہ ہی منافق۔ میں ترقی پسند اور نظریاتی ہوں۔ ایک سال سے سیاست میں ہوں۔۔۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹ میں عمران خان کی عمر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ 20 سال سے ’سیلیکٹڈ سیاست‘ کرتے آرہے ہیں اور یہ کہ ان کی ’پہچان یو ٹرن، منافقت اور کٹھ پتلی ہے۔‘









