جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس: سپریم کورٹ نے بینچ تحلیل کرنے سے متعلق حکمنامہ واپس لے لیا

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس ختم کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی بینچ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے بینچ برقرار رکھنے سے متعلق نیا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔
تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے قریبی عزیز کے انتقال کی وجہ سے وہ چھٹی پر ہیں اور اب وہ اگلے ہفتے سے دستیاب ہوں گے اس لیے اب اس کیس کی سماعت 28 اکتوبر کو ہو گی۔
بینچ توڑنے کا اعلان کس نے اور کب کیا تھا؟
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ اعلان پیر کو ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کیا تھا۔
اُنھوں نے دوران سماعت کہا کہ اس بینچ کے رکن جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اس بینچ میں شمولیت سے معذوری ظاہر کی ہے۔
درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ ہی تشکیل دیا جائے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نئے بینچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے۔
یہ دوسری مرتبہ تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس ختم کرنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کو تحلیل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جو اب واپس لے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے سات رکنی بینچ تشکیل دیا تھا تاہم درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر درخواست گزاروں نے اس سات رکنی بینچ میں شامل دو جج صاحبان جسٹس طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن پر اعتراضات اُٹھائے گئے تھے جس کے بعد یہ بینچ تحلیل کر دیا گیا تھا۔
بینچ تحلیل کرنے کے اعلان پر بار کونسل اور وکلا کا اعتراض
جب پیر کو بینچ تحلیل کرنے سے متعلق اعلان کیا گیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ جب اس بینچ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا تو پھر اس کو تحلیل کیوں کیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ کا فیصلہ موجود ہے کہ وہی بینچ درخواستوں کی سماعت کرے گا جس نے ان درخواستوں کی سماعت کا آغاز کیا تھا۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اس بینچ کو بغیر کوئی وجہ بتائے تحلیل کیا گیا ہے اور اگر کوئی نیا بینچ تشکیل دیا گیا تو پاکستان بار کونسل کو اس پر اعتراض ہوگا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس بینچ میں شامل جج صاحبان نے ان درخواستوں کی تین سماعتیں کی ہیں اور سپریم کورٹ کا حکم بھی ہے کہ اگر ایک بینچ میں شامل ججز نے کچھ سماعتیں کی ہیں تو وہی بینچ درخواستوں کی سماعت بھی کرے۔
اُنھوں نے کہا تھا کہ ’اگر ایک جج نہیں ہے تو اس کا انتظار کیا جاسکتا ہے، جلدی کس بات کی ہے؟‘
وکیل رہنما علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’کسی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا فیصلہ سنایا جانا ضروری سمجھا جا رہا ہے‘۔
بینچ تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد بینچ کے سربراہ نے یہ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا جائے۔










