منی لانڈرنگ کے الزامات: احتساب عدالت کا نیب کو مریم نواز کے خلاف تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

مریم نواز

،تصویر کا ذریعہPMLN

    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, صحافی

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب نے نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور بھتیجے یوسف عباس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے مہلت مانگ لی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ چودھری شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کے الزام کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔

نیب کے پراسیکیوٹر حافظ اسد نے احتساب عدالت کو بتایا کہ مریم نواز کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات میں نواز شریف سے بھی پوچھ گچھ کرنی ہے۔

مریم نواز اور ان کے چچازاد بھائی یوسف عباس کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر بدھ کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پہلے یوسف عباس کو احتساب عدالت پہنچایا گیا اور لگ بھگ 45 منٹ کے وقفے کے بعد مریم نواز کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ انھیں ڈیوٹی جج جواد الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

احتساب عدالت نے مریم نواز اور یوسف عباس کو روسٹرم پر بلایا تاہم رش کی وجہ سے جج نے مریم نواز کو فوری طور پر واپس اپنی جگہ بیٹھے کی ہدایت کی اور باور کرایا کہ سکیورٹی ایشو ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر مریم نواز کے وکیل نے واضح کیا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ یہاں سب چہرے جانے پہچانے ہیں جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ ہو سکتا ہے کچھ چہروں کو آپ بھی نہ جانتے ہوں۔

کمرۂ عدالت میں رش اور شور کی وجہ سے کانوں پڑی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی جس کی وجہ سے احتساب عدالت کے جج اور وکلاء کو آپس میں بات کرنے اور سمجھنے میں شدید دشواری کا سامنا رہا۔

رش کے دوران کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اپنی اہلیہ مریم نواز کے ساتھ ساتھ رہے اور ان کے لیے جگہ بناتے رہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے دانیال عزیز کے ساتھ مل کر مریم نواز کے سامنے رکھی میز کو آگے کی طرف دھیکلا تاکہ ان کی اہلیہ کو کو کوئی دشواری نہ ہو۔

کمرۂ عدالت میں خواتین ارکان اسمبلی ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بھی بناتی رہی۔

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے کمرۂ عدالت میں تصاویر بنانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ کوئی تصویر اور سیلفی نہ بنائے۔

مریم نواز

،تصویر کا ذریعہPMLN

مریم نواز اور یوسف عباس کو ان کے وکلا کے ساتھ الگ کمرے میں ملاقات کی اجازت دی گئی تاہم کمرے میں دیگر کارکن بھی داخل ہو گئے۔

احتساب عدالت کے جج نے تمام صورت حال پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ کمرے میں مختلف مقدمات کا اہم اور قیتمی ریکارڈ پڑا ہے وہ تباہ ہو جائے گا۔ عدالت نے حکم دیا کہ غیر متعلقہ لوگوں کو کمرے سے باہر نکالا جائے۔

فاضل جج نے غصے کا اظہار کیا اور کہا پولیس کا کوئی والی وارث نہیں وہ کیوں بکری بنے کھڑی ہے۔؟

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے لیے منرل واٹر لا کرکمرۂ عدالت میں رکھی فائلوں میں چھپا دیا گیا۔

مریم نواز کی احتساب عدالت آمد اور روانگی کے موقع پر ان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ کارکنوں نے نعرہ لگایا ’چاروں صوبوں کی آواز مریم نواز مریم نواز۔‘

میڈیا سے مختصر گفتگو میں مریم نواز نے جیل میں فون برآمدگی کی اطلاع کو بے بنیاد قرار دیا اور نشاندہی کی کہ آئی جی جیل خانہ جات خود اس کی تردید کر چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کے بارے میں سوال پر مریم نواز نے کہا کہ جس طرح غلط طریقے سے یہ حکومت آئی ہے اسی طرح یہ جائے گی.

احتساب عدالت کے جج نے نیب کی تفتیش مکمل نہ ہونے پر مریم نواز اور یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی۔

عدالت نے مریم نواز اور یوسف عباس کو 23 اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔