’مریم نواز ہوشیار ہیں‘

،تصویر کا ذریعہARIF ALI
- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
مریم نواز کے قریب سمجھے جانے والے سیاستدان اور موجودہ گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ '2018 میں مریم بہت مؤثر اور اہم کردار ادا کرنے والی ہیں۔ ایک تو انتخابی مہم کی منصوبہ بندی اور دوسرا وہ آپ کو سڑکوں پر ووٹرز کے درمیان بھی نظر آئیں گی۔'
وہ سوشل میڈیا پر متنازع ٹویٹس ہوں یا مسلم لیگ نواز کی حمایت پر مبنی بیانات پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز خبروں میں رہنے کا ہنر جانتی ہیں۔
ٹوئٹر پر مریم نواز کی سیاسی سرگرمیاں ان کے سیاست میں آنے کا اشارہ دیتی ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وہ اگلے برس ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ وزیر اعظم پاکستان بننے کی خواہش رکھتی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی عارف نظامی کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم کے دونوں بیٹے حسن اور حسین یا تو سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے یا پھر اس امتحان میں پورے نہیں اتر سکے اسی لیے مریم نواز کا انتخاب کیا گیا حالانکہ نواز فیملی کے اہم فیصلے ہمیشہ مرد ہی کرتے آئے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'مریم نواز ہوشیار ہیں اور خود کو بہت خوش اسلوبی کے ساتھ عوام میں پیش کر رہی ہیں۔'
انھوں نے مزید کہا 'اگر انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا جو کہ میرا خیال ہے وہ لیں گی، تو پھر حزب اختلاف کو عوام میں بھی ان کی مقبولیت کا اندازہ ہو گا۔ وہ مسلم لیگ کی لیڈر ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ سربراہ ہیں مگر وہ پارٹی کی رکن تو ہیں اسی لیے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

مریم نواز کے سیاسی عزائم اسی وقت عیاں ہوئے جب انھیں ’یوتھ لون پروگرام‘ کا سربراہ مقرر کیا گیا مگر حزب اختلاف کے اعتراضات کے بعد نہ صرف انھیں یہ عہدہ چھوڑنا پڑا بلکہ انھوں نے سیاسی تقاریر بھی کم کر دیں۔
تو آخر اب مریم نواز مسلم لیگ نواز کے لیے کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟
اس سلسلے میں عارف نظامی کہتے ہیں 'مریم پارلیمان کی رکن تو نہیں ہیں مگر وہ وزیر اعظم کے قریبی مشاورتی سرکل کا اہم حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم ہاؤس میں قائم میڈیا سیل چلاتی ہیں اور بظاہر وہ وزرات اطلاعات و نشریات کو خصوصی طور پر کنٹرول کرتی ہیں۔ مریم اورنگزیب انہی کی نامزد کردہ ہیں۔ ٹی وی پر حزب اختلاف کے خلاف کیا موقف اپنانا ہے یہ فیصلہ انہی کے سیل کے پاس ہے۔'
ناقدین کہتے ہیں کہ مریم نواز ٹوئٹر پر عوامی مسائل کی بجائے سیاسی جھگڑوں پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ بعض خواتین ارکانِ پارلیمان کی بھی شکایت ہے کہ خواتین کے مسائل بظاہر مریم نواز کی ترجیحات میں کہیں نیچے نظر آتے ہیں۔
تاہم گورنر سندھ اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'مریم کہتی ہیں کہ خاتون ہونے کے ناطے ضروری نہیں کہ وہ صرف خواتین کے مسائل پر بات کریں۔ اگر وہ سیاست میں باقاعدہ آتی ہیں تو خواتین کے علاوہ تعلیم اور صحت وہ شعبے ہیں جن میں بہتری ان کے لیے سرفہرست ہوگی۔'
مریم نواز اپنے والد کے بل بوتے پر عوامی سیاست میں آ تو جائیں گی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر عوام اور اپنی جماعت کی حمایت حاصل کر پائیں گی؟








