چونیاں میں بچوں سے جنسی زیادتی اور قتل کا ملزم گرفتار، اسی محلے کا رہائشی نکلا

مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ قصور کے علاقے چونیاں میں چار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد انھیں قتل کرنے والے مبینہ ملزم کو ڈی این اے کی شناخت کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کے چونیاں کے واقعات میں ملوث شخص کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور ملزم کی شناخت ڈی این اے میچ ہونے کے بعد منگل کی صبح ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ ’اب 200 فیصد تصدیق ہو چکی ہے کہ زیادتی کے بعد چار بچوں کو قتل کرنے کے واقعہ میں ایک ہی ملزم ہے، ایک بچے کی لاش اور تین بچوں کی ہڈیوں سے ڈی این اے کے ذریعے ملزم کو شناخت کیا گیا ہے۔‘

مزید پڑھیے

ملزم کی عمر 27 برس بتائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ اس کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلے گا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ قصور میں چائلڈ پروٹیکشن سنٹر بنایا جائے گا۔

ایس پی انویسٹی گیشن قدوس بیگ کے مطابق ملزم سہیل شہزاد رانا ٹاؤن چونیاں کا رہائشی ہے اور لاہور میں تندور پر کام کرتا تھا۔

سہیل

،تصویر کا ذریعہCM OFFICE

انھوں نے بتایا کہ یہ اسی محلے کا رہائشی ہے جہاں یہ بچے رہتے تھے۔ اور یہ اکثر اوقات بچوں کو چیز لے کر دیتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ یہ بچوں کو کھانے پینے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ لے جاتا تھا اور پھر ان کے ساتھ زیادتی کرتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل شہزاد اس سے قبل بھی ایک پانچ سالہ بچے کے ریپ کے جرم میں ڈیڑھ سال تک سزا کاٹ چکا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس کا کہنا ہے ’ملزم نے جون 2019 میں بارہ سالہ علی عمران سے زیادتی کی اور اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ اگست میں ملزم نے دو مزید بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا۔ انھوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ملزم سہیل شہزاد گرفتار ہوا اور اسے پانچ سال کی سزا ہوئی تھی اور ڈیڑھ سال کی سزا کاٹ کر ملزم جیل سے باہر آگیا۔

خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی تھی جس کی سربراہی قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زاہد مروت کر رہے ہیں اور اس میں انٹیلیجنس بیورو اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے افسران بھی شامل ہیں۔

پنجاب کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشنز انعام غنی کے مطابق پولیس کو ایک بچے فیضان کی مکمل لاش ملی تھی جبکہ دو کھوپڑیاں اور انسانی ڈھانچے کے چند باقیات ملے تھے۔ یہ باقیات ایک دوسرے سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھے۔

فیضان کی لاش ایک کھڈے کے اندر الٹی پڑی تھی۔ بظاہر انھیں وہاں لا کر پھینکا گیا تھا، دفن کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔