زخمی ملزمان کے سر میں گولی مارنے والا پولیس اہلکار گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے اس اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے دو مشتبہ ملزمان کو زخمی حالت میں سر پر گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔
یہ واقعہ کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پیش آیا جہاں جمعرات کی صبح ہونے والے ایک پولیس مقابلے میں ایک پولیس اہلکار اور دو مبینہ ڈاکو ہلاک ہوئے تھے۔
ایس ایس پی وسطی راؤ عارف کے مطابق پولیس نے ملزمان کا پیچھا کیا تو انھوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ذیشان اور دو ڈاکو ہلاک ہو گئے۔
ایس ایس پی کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت حبیب اور عبدالباسط کے نام سے ہوئی جو بلوچستان کے علاقے خضدار سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راؤ عارف کا دعویٰ ہے کہ مشتبہ ملزمان گلبہار، ناظم آباد اور اطراف کے علاقوں میں وارداتیں کرتے تھے اور ان سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس کے ڈاکوؤں کی ہلاکت کے دعوے کے چند گھنٹے بعد ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک پولیس اہلکار کو سڑک پر پڑے زخمی ملزمان کو سر میں گولیاں مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہVideo Grab
یہ اہلکار ان کی ہلاکت کی تسلی کرنے کے بعد ایمبولینس میں سوار ہو جاتا ہے جبکہ زخمی ملزمان سڑک پر ہی موجود ہوتے ہیں۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس حکام نے فائرنگ کرنے والے شاہ میر نامی پولیس اہلکار کو حراست میں لیا ہے۔ یہ اہلکار اس پولیس اہلکار ذیشان کا برادرِ نسبتی ہے جو مبینہ ڈاکوؤں سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا تھا۔
شاہ میر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ واقعے کے وقت ذیشان کے ساتھ ڈیوٹی پر تھا۔
دوسری جانب آئی جی سندھ کلیم امام نے ویڈیو کا نوٹس لے کر ڈی آئی جی ویسٹ کو محکمہ جاتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار ذیشان کی نمازِ جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹرز میں ادا کر دی گئی جس میں آئی جی سندھ کلیم امام، ڈی جی رینجرز سندھ جنرل عمر احمد اور ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے شرکت کی۔
ذیشان کی بیوہ نے ایک بیان میں اپنے بھائی کو بےقصور قرار دیتے ہوئے اس کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں پولیس تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور رواں برس جنوری میں پنجاب کے شہر ساہیوال میں بھی عام شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے پر پنجاب پولیس کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔









