ساہیوال واقعہ: سی ٹی ڈی اہلکار ذمہ دار، قتل کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

ساہیوال، بچے

،تصویر کا ذریعہTWITTER

،تصویر کا کیپشنساہیوال واقعے کے متاثرین کی گاڑی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے ساہیوال واقعے میں انسداد دہشت گردی کے ادارے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

لاہور میں جے آئی آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت نے بتایا کہ ساہیوال واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل کے خاندان کے افراد کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی کو ٹھہرایا گیا ہے۔

وزیرِ قانون کے مطابق سی ٹی ڈی کے صوبائی اور ضلعی عہدیداران کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’رپورٹ کی روشنی میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب کو عہدے سے ہٹا کر وفاقی حکومت کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ‘

’ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ ایس ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کے معطل کر دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کا کہ اس واقعے میں ملوث پانچ اہلکاروں پر دفعہ 302 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ان پر انسداد دہشت گردی کے مقدمہ قائم کر کے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر قانون نے بتایا کہ واقعے میں ہلاک ہونے والے گاڑی کے ڈرائیور ذیشان جاوید سے متعلق مزید حقائق معلوم کرنے کے لے جے آئی ٹی نے مزید مہلت مانگی ہے۔

اسی بارے میں

وزیرِ قانون راجہ بشارت کا کہنا تھا ’سارے ذمہ داروں کا تعین ہو جائے تو کارروائی کی جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تیز اور شفاف تحقیقات کا وعدہ پورا کیا ہے۔ ’ہماری عوام کے ساتھ کمٹمنٹ ہےکہ ہم نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔ یہ معاملہ حکومت پنجاب کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ ہم نے اسے مثال بنانا ہے۔‘

’ماضی میں اس صوبے میں لوگوں کو انصاف نہیں ملتا تھا۔ لیکن ہم نے لوگوں کو انصاف دینا ہے۔ ‘

ذیشان

یاد رہے کہ ساہیوال کے قریب قومی شاہرہ پر پنجاب پولیس کی انسداد دہشت گردی فورس (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کیے گئے مبینہ پولیس مقابلے میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سےجاری کیے گئے بیان میں ہلاک ہونے والے چاروں افراد کو دہشت گرد قرار دیا گیا لیکن اس کے چند گھنٹوں کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر عینی شاہدین کی جانب سے بنائی جانے والی مختلف ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد اس موقف کو تبدیل کر لیا گیا اور پنجاب پولیس اور حکومتی وزرا نے پریس کانفرنس میں صرف کار ڈرائیور ذیشان کو دہشتگرد قرار دیا۔ جبکہ اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے دیگر افراد کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اس واقعے کی مختلف سطح پر تحقیقات کا حکم دیا تھا ارو اس کے لیے جے آئی بنائی گئی تھی۔