کراچی میں چوری کے الزام میں لڑکا تشدد سے ہلاک، دو ملزمان گرفتار

لاش

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

کراچی کے علاقے بہادرآباد میں چوری کے الزام میں تشدد سے ہلاک ہونے والے لڑکے ریحان کے قتل میں ملوث دو ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

کراچی کے فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او اورنگزیب خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق اس واقعہ میں چار سے پانچ ملزمان ملوث ہیں جن میں سے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تیسرا ملزم زیر حراست ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق ملزمان کے خلاف مقتول ریحان کے والد کی مدعیت میں قانون کی دفعہ 316 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر کراچی کے علاقے بہادر آباد میں ایک لڑکے کو تشدد کرنے اور برہنہ کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ جس میں اس لڑکے کو باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایس ایچ او تھانہ فیروز آباد کے مطابق مقتول ریحان پر تشدد کی وجوہات پر چھان بین کی جا رہی ہے البتہ اب تک ملزمان نے ہلاک ہونے والے ریحان پر سامان چرا کر بھاگنے کا الزام لگایا ہے۔

تھانہ ایس ایچ او اورنگزیب خٹک نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مقتول ریحان کے خلاف بھی تھانہ بہادر آباد میں چوری اور نقب زنی کے دو مقدمات درج ہے۔

ایس ایچ او کے مطابق ریحان کے لواحقین نے پولیس کو درخواست دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریحان پر برہنہ کر کے تشدد کرنا اور ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر وائرل کرنا نہایت لرزہ خیز ہے اس لیے یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے۔

ایس ایچ او اورنگزیب خٹک کے مطابق گرفتار ملزمان کو ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم ملزمان سے تفتیش کر رہی ہے اور اب ممکنہ طور پر انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ریحان پر تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کی تھی۔

جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے ٹوئٹ کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے متعلق آگاہ کیا۔

سوشل میڈیا پر لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی ویڈیو سامنے آنے پر مختلف ٹوئٹر صارفین نے اس کو انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کیا۔

حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی ندا کرمانی نے اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لڑکے کی تشدد کرکے ہلاک کیے جانے کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ نہیں کریں گی لیکن اس طرح کا انصاف ہمارے بیمار معاشرے میں پروان چڑھتے تشدد کی سوچ کا عکاس ہے، جہاں تشدد ایک عام بات ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

کراچی کی سیاسی رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی ارم عظیم فاروقی نے بھی ٹویٹ میں واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہTWITTER