پاکستان تحریک انصاف حکومت کا ایک سال: عمران خان کے وعدے، کتنے پورے کتنے ادھورے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عماد خالق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گذشتہ برس عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اگست 2018 میں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھاتے ہوئے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے اعلانات کے ساتھ ساتھ قوم سے کچھ وعدے بھی کیے تھے۔
اصلاحات اور تبدیلیوں کے یہ تین درجن کے قریب وعدے معیشت، کفایت شعاری، سیاحت، بدعنوانی کے خلاف مہم، غربت کے خاتمے، انصاف کی جلد فراہمی، پولیس کے محکمے کی بہتری، ہاؤسنگ، زراعت اور لائیو سٹاک جیسے شعبوں میں مسائل کے حل کے لیے کیے گئے تھے۔
بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان میں سے کتنے وعدے پورے ہوئے، کتنوں پر کام جاری ہے اور کتنے وفا نہ ہو سکے۔
ان 34 وعدوں میں سے
موجودہ صورتحال کے اعتبار سے
زمرے کے اعتبار سے
وعدہ: عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد عہد کیا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر کفایت شعاری اپنا کرغیرضروری اخراجات کم کریں گے۔
وعدہ: ابتدائی تین ماہ میں وزیراعظم بیرون ملک دوروں پر نہیں جائیں گے۔ اگر دورہ کیا گیا تو یہ تمام سفر کمرشل پروازوں پر ہوں گا اور اس کے لیے کلب کلاس استعمال کی جائے گی۔
وعدہ: سرکاری عمارتوں خصوصاً وزیراعظم ہاوس اور گورنر ہاؤسوں کو عوامی مقامات اور یونیورسٹیوں میں تبدیل کیا جائے گا
وعدہ: وزیراعظم ہاؤس کے زیرِاستعمال سرکاری گاڑیوں، بھینسوں اور ہیلی کاپٹروں کو نیلام کر کے پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے گا۔
وعدہ: حکومت سیاحت کے شعبے پر خاص توجہ مرکوز کرے گی اور وہ ہر سال عوام کے لیے چار نئے سیاحتی مراکز متعارف کروائے گی اور آمدن بڑھائے گی۔
وعدہ: کراچی اور گوادر کے ساحلوں کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔
وعدہ: سیاحت کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں اصلاحات کی جائیں گی
وعدہ: حکومت ملک میں غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرے گی اور ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔
وعدہ: بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے اداروں خصوصاً نیب کو مضبوط کیا جائے گا۔
وعدہ: ’وسل بلوئر ایکٹ ‘ لایا جائے گا جس کے تحت کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو بازیاب شدہ رقم کا 30 فیصد دیا جائے گا۔
وعدہ: بدعنوان عناصر کو سزا دی جائے گی
وعدہ: غیرقانونی طریقے سے باہر رقم لے جانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی
وعدہ: ملک میں فوری انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اور کسی بھی دیوانی مقدمے کا فیصلہ ایک سال میں سنایا جائے گا۔
’جیلوں میں غریب قیدیوں خصوصاً خواتین اور بچوں کے پاس وکیلوں کو بھیجیں گے۔ جن کے پاس فیس نہیں ان کی قانونی مدد کی جائے گی؟
وعدہ: بچوں سے زیادتی کے واقعات کا خاتمہ کرنے کے لیے سخت ایکشن لیں گے
وعدہ: سندھ اور پنجاب میں پولیس کے نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی
وعدہ: پانچ برسوں میں 50 لاکھ سستے گھر بنائیں گے جس سے صنعتی انقلاب آئے گا اور 50 صنعتوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
وعدہ: سرکاری ہسپتالوں کی حالت ٹھیک کریں گے۔
وعدہ: ملک بھر میں انصاف ہیلتھ کارڈ جاری کیے جائیں گے
وعدہ : نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دیں گے
وعدہ: نوجوانوں کو بلاسود قرضے دیے جائیں گے
وعدہ: نوجوانوں کو تکنیکی اور ووکیشنل ٹریننگ دی جائے گی
وعدہ: بیرونی قرضے نہیں لیں گے؟
وعدہ: ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے گا
وعدہ: ایس ایم سی سیکٹر میں سہولیات اور نظام میں بہتری لائی جائے گی
وعدہ: ہم بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کریں گے ؟
وعدہ: چھوٹی صنعتوں اور کاروبار کے لیے مدد فراہم کریں گے
وعدہ: سرکاری اداروں مثلاً پی آئی اے، پی ایس او، سٹیل مل، ریلوے کے نظام کو ٹھیک کیا جائے گا
وعدہ: ملک میں زرعی ایمرجنسی لگائی جائے گی
وعدہ: کسانوں کو سستے قرضے فراہم کیے جائیں گے
وعدہ: کسانوں کو ان کی فصل کے پورے پیسے دلوائے جائیں گے
وعدہ: نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کسانوں کی تربیت کی جائے گی
وعدہ: ملک میں زرعی تحقیق کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے
وعدہ: ملک میں لائیو سٹاک کے شعبے میں تبدیلی لائی جائے گی
وعدہ: بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے اداروں خصوصاً نیب کو مضبوط کیا جائے گا۔
زمرہ: بدعنوانی کے خلاف مہم موجودہ صورتحال: مکمل طور پرعمل ہوا
اس ضمن میں حکومت نے بدعنوانی کے خلاف متحرک قومی احتساب بیورو کے بجٹ میں رواں مالی سال میں 110 کروڑ کا اضافہ کیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق یہ بجٹ اب تقریباً ساڑھے چار ارب روپے رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔
وعدہ: ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے گا
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: مکمل طور پرعمل ہوا
اس وعدے کو پورا کرنے میں حکومت کامیاب رہی ہے۔ ترجمان ایف بی آر ڈاکٹر حامد کے مطابق اس برس ٹیکس فائلرز کی تعداد ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ساڑھے 22 لاکھ سے تجاوز کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پہلے سال میں تین لاکھ سے زائد افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی کی جانب سے غیرظاہر شدہ اثاثہ جات کو ڈیکلیئر کرنے کے حوالے سے متعارف کروائی جانے والی ایمنسٹی سکیم سے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وعدہ: ملک میں زرعی ایمرجنسی لگائی جائے گی
زمرہ: زراعت موجودہ صورتحال: مکمل طور پرعمل ہوا
تحریک انصاف کی حکومت نے دو جولائی 2019 کو ملک میں ’زرعی ایمرجنسی پروگرام‘ کے تحت 309 ارب روپے کی لاگت سے زرعی شعبے میں ترقی اور بہتری کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے سیکرٹری ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی کے مطابق وفاقی حکومت نے ’زرعی ایمرجنسی پروگرام‘ کے ذریعے پہلی مرتبہ زراعت کے شعبہ پر انتہائی توجہ دی ہے اور اگرچہ 18ویں ترمیم کے بعد یہ شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے لیکن وفاقی حکومت کا زرعی ایمرجنسی پروگرام وفاق کے بجٹ سے دیا گیا ہے۔
وعدہ: سرکاری ہسپتالوں کی حالت ٹھیک کریں گے۔
زمرہ: صحت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وفاقی وزارت صحت اور وزیراعظم صحت پروگرام کے ترجمان ساجد حسین شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں ملک بھر میں بنیادی صحت مراکز کو مکمل طور پر فعال اور ان میں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت کی بہتری کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ان کی توسیع کی جائے بلکہ وہاں مریضوں کے ہجوم کو بھی کم کرنا مقصود ہے۔ اس بارے میں وزیر اعظم کی صحت ویژن کے مطابق بنیادی صحت کے مراکز کو ملک بھر میں فعال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے نئے ہسپتالوں کی تعمیر، پہلے سے موجود ہسپتالوں میں جدید مشینری کی فراہمی اور توسیع کا کام جاری ہے۔
وعدہ: حکومت سیاحت کے شعبے پر خاص توجہ مرکوز کرے گی اور وہ ہر سال عوام کے لیے چار نئے سیاحتی مراکز متعارف کروائے گی اور آمدن بڑھائے گی۔
زمرہ: سیاحت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
حکومت اب تک ایک بھی نیا سیاحتی مرکز یا مقام متعارف نہیں کروا سکی لیکن اس بارے میں جائزہ رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے چند مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جنھیں آنے والے برسوں میں بہتر سہولیات کے ساتھ آراستہ کیا جائے گا۔ تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے تین جولائی کو سیاحت کے فروغ کے لیے ایک نئی موبائل ایپ ’کے پی ٹورازم‘ کے نام سے متعارف کروائی ہے۔
وعدہ: ملک میں زرعی تحقیق کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزارت فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے سیکرٹری ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی کے مطابق کسانوں کے لیے نئے بیج اور اچھی فصل کی پیداوار کے ساتھ ساتھ فشریز اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں بھی نئی مواقع پیدا کرنا زرعی ایمرجنسی پروگرام کا مقصد ہے۔
وعدہ: سیاحت کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں اصلاحات کی جائیں گی
زمرہ: سیاحت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزیراعظم عمران خان نے 14 مارچ کو سیاحت کے فروغ کے لیے 190 ممالک کے لیے نئی ویزا پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت 175 ممالک کے شہریوں کو ای ویزا کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
وعدہ: حکومت ملک میں غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرے گی اور ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔
زمرہ: غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کے سلسلے میں حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 80 گنا اضافہ کرتے ہوئے اس مد میں 190 ملین روپے رکھے ہیں۔وزیراعظم نے ’احساس پروگرام‘ کے تحت 31 نکاتی ایجنڈا کے ذریعے 115 پالیسی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے اس پروگرام کا 27 مارچ کو افتتاح کیا۔ یہ پروگرام 28 وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کے شراکت داری سے چلایا جائے گا۔ ان میں سے شروع ہونے والے منصوبوں میں اثاثہ جات، بلاسود قرضوں کی فراہمی اور ہنر سازی کا پروگرام جو پانچ جولائی سے نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے 42.65 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دوسرا پروگرام پناہ گاہ شیلٹر ہومز ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت، خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب کے چند شہروں میں بےسہارا اور غریب افراد کے لیے ’پناہ گاہ مراکز‘ کا آغاز کیا گیا ہے جہاں قیام کے ساتھ ساتھ تین وقت کھانا بھی مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ غربت کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کی معاون خصوصی اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر کے مطابق ان میں سے بیشتر منصوبوں کو رواں برس کے اختتام پر شروع کر دیا جائے گا جن میں خواتین کو انکم سپورٹ پروگرام میں ’کفالت‘ پروگرام کے تحت بینک اکاؤنٹس، غریب اور نادار افراد میں راشن کارڈز کا اجرا، تحفظ کے نام سے مالی مدد کا پروگرام شامل ہیں۔ چند دیگر منصوبے اگلے برس شروع کیے جائیں گے جن کے لیے پالیسی مرتب کی جا رہی ہے۔
وعدہ: عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد عہد کیا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر کفایت شعاری اپنا کرغیرضروری اخراجات کم کریں گے۔
زمرہ: کفایت شعاری موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزیراعظم کے ترجمان افتخار درانی کے مطابق وزیراعظم ہاوس کے خرچے میں 30 فیصد بچت کی گئی ہے تاہم اگر بجٹ دستاویزات کا جائزہ لیا جائے تو سنہ 2019-20 کے بجٹ میں وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات کے لیے مختص رقم میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2018-19 میں وزیراعظم ہاؤس کا بجٹ 1092 ملین روپے رکھا گیا تھا جبکہ مالی سال 2019-20 کے لیے یہ بجٹ بڑھا کر 1171 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔
وعدہ: ’وسل بلوئر ایکٹ ‘ لایا جائے گا جس کے تحت کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو بازیاب شدہ رقم کا 30 فیصد دیا جائے گا۔
زمرہ: بدعنوانی کے خلاف مہم موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزارت قانون کی قانونی مشیر بیرسٹر عنبرین عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وسل بلوئر ایکٹ‘ کے بارے میں مسودہ تیار کر کے قومی اسمبلی میں متعارف کروایا جا چکا ہے اور قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ اب اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے گا اور وہاں سے منظوری کے بعد اسے قانون کی شکل دے دی جائے گی۔
وعدہ: بدعنوان عناصر کو سزا دی جائے گی
زمرہ: بدعنوانی کے خلاف مہم موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف مہم کے تحت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سرکاری افسران اور کاروباری شخصیات کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ تاہم اس مہم کو چنندہ سیاسی شخصیات کے خلاف ’وچ ہنٹ‘ بھی کہا جا رہا ہے۔ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد میں مسلم لیگ ن کے سابق صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی شامل ہیں۔
وعدہ: غیرقانونی طریقے سے باہر رقم لے جانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی
زمرہ: بدعنوانی کے خلاف مہم موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
اس ضمن میں عمران خان کی حکومت نے مختلف حکومتی اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، سٹیٹ بنک میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ ایک جامع لائحہ عمل تشکیل دیا ہے۔ اور متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے ساتھ منی لانڈرنگ کے متعلق چند قوانین اور امور پر مشاورت جاری رکھی ہوئی ہے۔
وعدہ: ملک میں فوری انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اور کسی بھی دیوانی مقدمے کا فیصلہ ایک سال میں سنایا جائے گا۔
زمرہ: قانون اور پولیس نظام میں اصلاحات موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزارت قانون کی مشیر بیرسٹر عنبرین عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت کے منشور اور پہلے 100 روزہ ایجنڈے کے مطابق اس حوالے سے ’سول کورٹ پروسیجر 2019‘ کے نام سے ترمیمی قانونی بل کا مسودہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں جمع کروا دیا گیا ہے۔ فی الحال قائمہ کمیٹی اس کا جائزہ لے رہی ہے۔
’جیلوں میں غریب قیدیوں خصوصاً خواتین اور بچوں کے پاس وکیلوں کو بھیجیں گے۔ جن کے پاس فیس نہیں ان کی قانونی مدد کی جائے گی؟
زمرہ: قانون اور پولیس نظام میں اصلاحات موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزارت قانون کی قانونی مشیر بریسٹر عنبرین عباسی کے مطابق اس سلسلے میں بھی ’لیگل ایڈ اینڈ جسٹس بل‘ کو متعارف کروایا جاچکا ہے اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے اس کی منظوری دے دی ہے اور اب یہ سینٹ میں منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔یہ بہت جلد قانون کے شکل میں سامنے آ جائے گا۔ اس بل کے مطابق وکلا کے پیینل ہونگے جو جیل میں قید غریب قیدیوں خصوصاً خواتین اور بچوں کو مفت قانونی مدد فراہم کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی مالی مدد بھی کی جائے گی۔
وعدہ: بچوں سے زیادتی کے واقعات کا خاتمہ کرنے کے لیے سخت ایکشن لیں گے
زمرہ: قانون اور پولیس نظام میں اصلاحات موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزارت قانون کی مشیر بیرسٹر عنبرین عباسی کے مطابق گذشتہ حکومت کے دور میں بچوں کے ساتھ ریپ اور زیادتی کی واقعات کی روک تھام کے لیے متعارف کروایا گیا ’زنیب الرٹ بل‘ جلد ہی منظور کروا کر قانون کے طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق کریمنل لا میں ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے بچوں کے تحفظ کے بارے میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر قانون کریں گے۔
وعدہ: سندھ اور پنجاب میں پولیس کے نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی
زمرہ: قانون اور پولیس نظام میں اصلاحات موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
اس حوالے سے بھی حکومت نے ایک سپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ سپریم کورٹ کے تحت قائم جسٹس اینڈ لا کمیشن اور وزارت قانون کے مطابق پنجاب اور سندھ میں پولیس نظام میں اصلاحات سے متعلق مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ وزارت قانون کی عنبرین عباسی کے مطابق اس پر کام ہو رہا ہے لیکن کیونکہ یہ صوبائی معاملہ ہے اس پر زیادہ تفصیل موجود نہیں جبکہ لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ترجمان رحیم اعوان کا کہنا تھا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے تحت اس پر کام ہورہا ہے۔
وعدہ: پانچ برسوں میں 50 لاکھ سستے گھر بنائیں گے جس سے صنعتی انقلاب آئے گا اور 50 صنعتوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
زمرہ: ہاؤسنگ موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد گذشتہ برس اکتوبر میں رکھا۔ ابتدائی طور پر سات اضلاع فیصل آباد، سکھر، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد، گلگت اور مظفر آباد میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیے جائیں گے۔ تاحال 11جولائی 2019 کو وزیراعظم عمران خان نے صرف اسلام آباد کے منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔
وعدہ: نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کسانوں کی تربیت کی جائے گی
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
ڈاکٹر ہاشم کے مطابق زرعی ایمرجنسی پروگرام کے ذریعے کسانوں کو ’پانی کی تقسیم اور بچت‘ کی تربیت سازی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ کھاد کی مناسب مقدار کا استعمال اور کم رقبے میں زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی تربیت سازی بھی شامل ہے۔
وعدہ: ملک بھر میں انصاف ہیلتھ کارڈ جاری کیے جائیں گے
زمرہ: صحت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
حکومت نے وزیراعظم صحت پروگرام کا آغاز کیا ہے اور وفاقی وزارت صحت اور وزیراعظم صحت پروگرام کے ترجمان ساجد شاہ کے مطابق ملک بھر کے 280 سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل میں شامل کیا گیا ہے اور 60 اضلاع میں انصاف صحت کارڈز کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے تحت صحت انشورنس کی قیمت پانچ لاکھ سے بڑھا کر سات لاکھ 20 ہزار کر دی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق تمام قبائلی اضلاع سمیت پاکستان کے زیر انتظام کشمیراور دیگر صوبوں کے تقریباً 50 اضلاع میں انصاف صحت کارڈ کی تقسیم کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اگلے دو سال کے اندر اندر یہ ملک بھر میں مکمل کر لیا جائے گا۔
وعدہ : نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دیں گے
زمرہ: روزگار کے مواقع موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
اس حوالے سے حکومت ’کامیاب جوان‘ پروگرام متعارف کروا رہی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوان عثمان ڈار نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت 100 ارب روپے سے ’کامیاب جوان‘ پروگرام کا آغاز کر رہی ہے جس کا افتتاخ عید الاضحیٰ کے بعد وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں دس لاکھ نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔
وعدہ: نوجوانوں کو بلاسود قرضے دیے جائیں گے
زمرہ: روزگار کے مواقع موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوان عثمان ڈار کے مطابق ’کامیاب نوجوان‘ پروگرام کے تحت ایک لاکھ روپے تک کا قرضہ دیا جائے گا اور نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع بھی مہیا کیے جائیں گے۔
وعدہ: نوجوانوں کو تکنیکی اور ووکیشنل ٹریننگ دی جائے گی
زمرہ: روزگار کے مواقع موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوان عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے ’کامیاب نوجوان‘ پروگرام کے تحت ملک بھر میں نوجوانوں کو تکنیکی اور ووکیشنل ٹریننگ کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کی تربیت سازی بھی کی جائے گی۔
وعدہ: کسانوں کو ان کی فصل کے پورے پیسے دلوائے جائیں گے
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
حکومت اپنا یہ وعدہ پورا کرنے کا بھی کریڈٹ لے رہی ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان افتخار درانی کے مطابق وزیر اعظم نے کسانوں سے جو وعدہ کیا اس جانب اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کسانوں کو ان کی فصل کے بروقت اور پورے پیسے ادا کیے جا رہے ہیں تاہم پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد کھوکھر اس دعوے کی بھی نفی کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔سیکرٹری فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے مطابق کسانوں کو ان کی فصل کی بروقت قیمت ادا کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ صوبائی معاملہ ہے لیکن پھر بھی وفاقی حکومت اس کو مانیٹر کرنے کا نظام مرتب کر رہی ہے۔
وعدہ: سرکاری عمارتوں خصوصاً وزیراعظم ہاوس اور گورنر ہاؤسوں کو عوامی مقامات اور یونیورسٹیوں میں تبدیل کیا جائے گا
زمرہ: کفایت شعاری موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا تاہم ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے اور اس حوالے سے فیزیبلٹی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایوان صدر، پنجاب اور سندھ کے گورنر ہاؤسوں کو عوام کے لیے متعدد بار کھولا گیا ہے۔
وعدہ: ایس ایم سی سیکٹر میں سہولیات اور نظام میں بہتری لائی جائے گی
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزیر اعظم کی معاشی ٹیم نے اس حوالے سے بھی چند اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزارت صنعت کے سیکریٹری عامر اشرف خواجہ کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر اور مشیر صنعت عبدالرزاق داؤد نے اس معاملے میں مختلف صنعتی عہدیداروں سے متعدد امور پر مشاورت کی ہے اور ملک میں قائم کی جانے والی اقتصادی اور صنعتی زونز میں ان پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
وعدہ: ہم بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کریں گے ؟
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
اس سلسلے میں وزیراعظم نے امریکہ کے اپنے حالیہ دورے پر بھی وہاں مقیم پاکستانی بزنس کمیونٹی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جبکہ اس سے قبل چین، قطر اور دیگر ممالک سے بھی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت اور خصوصی مراعات دینے کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان اپنی معاشی ٹیم کے ساتھ لائحہ عمل مرتب دے رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی سرمایہ کاری پاکستان میں نہیں آئی ہے۔
وعدہ: چھوٹی صنعتوں اور کاروبار کے لیے مدد فراہم کریں گے
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزارت صنعت و پیداوار کے سیکرٹری عامر اشرف کے مطابق اس سلسلے میں وزیر اعظم نے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا حکومتوں کو صنعتی زونز کے قیام اور ان میں چھوٹی صنعتوں کو بہتر مواقع مہیا کرنے کے حوالے سے متعدد اجلاس میں مشاورت کی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم نے کراچی میں سمال سکیل بزنس انڈسٹری کے نمائندوں سے ملاقات بھی کی۔ اس کے علاوہ چمڑے کی صنعت پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
وعدہ: سرکاری اداروں مثلاً پی آئی اے، پی ایس او، سٹیل مل، ریلوے کے نظام کو ٹھیک کیا جائے گا
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
حکومت اس وعدے کی تکمیل کے لیے بھی چند اقدامات اٹھانے کی دعویدار ہے۔ وزیراعظم کے ترجمان افتخار درانی کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے حکومت کے پہلے سال 43 ارب روپے کا منافع کمایا ہے۔ اسی طرح ریلوے، پاکستان پوسٹل سروسز، پی آئی اے، پی ٹی وی جیسے سرکاری ادارے خسارے سے نکل کر منافع بخش اداروں کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔
وعدہ: وزیراعظم ہاؤس کے زیرِاستعمال سرکاری گاڑیوں، بھینسوں اور ہیلی کاپٹروں کو نیلام کر کے پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے گا۔
زمرہ: کفایت شعاری موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
اس حوالے سے حکومت نے اخباروں میں اشتہارات دیے کہ وہ 102 گاڑیوں کی نیلامی کرے گی تاہم 17 ستمبر 2018 کو نیلامی میں حکومت 102 میں سے صرف 61 گاڑیاں نیلام کرنے میں کامیاب ہو سکی جن سے تقریباً آٹھ کروڑ روپے تک کی آمدنی ہوئی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کے مطابق اس فروخت سے گاڑیوں کے ایندھن اور دیکھ بھال کے خرچوں میں کمی ضرور آئی ہے۔ اسی طرح انھوں نے وزیراعظم ہاؤس کی آٹھ بھینسوں کی نیلامی کے بارے میں بتایا کہ اس سے سالانہ پانچ لاکھ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ یہ آٹھ بھینسیں 23 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی تھیں البتہ ہیلی کاپٹرز کی نیلامی پر بھی اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس بارے میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی وضاحت سامنے آئی ہے۔
وعدہ: کسانوں کو سستے قرضے فراہم کیے جائیں گے
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کام کا آغاز ہو چکا ہے
وزارت فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے سیکرٹری ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی کا کہنا ہے کہ زرعی ایمرجنسی پروگرام کے اندر بہت سے ایسے چھوٹے منصوبے مثلاً ’ایگری فنانس‘ رکھے گئے ہیں جن کی تحت کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل شروع ہو چکا ہے اور جلد ہی کسان مختلف سرکاری اور کمرشل بینکوں سے قرضہ جات حاصل کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے مختلف بینکوں سے مشاورت جاری ہے تاہم پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کوئی سہولت کسان کو نہیں دی جا رہی بلکہ بجلی اور کھاد پر ملنے والی سبسڈی بھی واپس لے لی گئی ہے۔
وعدہ: بیرونی قرضے نہیں لیں گے؟
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کوئی پیشرفت نہیں ہوئی
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قرضے قوم پر بوجھ ہیں اور وہ قرض نہیں لیں گے مگر حکومت سنبھالنے کے بعد انھوں نے آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر قرض لیا جبکہ قطر، متحدہ عرب امارات، چین اور سعودی عرب سے بھی مشروط قرض لیا گیا۔
وعدہ: ابتدائی تین ماہ میں وزیراعظم بیرون ملک دوروں پر نہیں جائیں گے۔ اگر دورہ کیا گیا تو یہ تمام سفر کمرشل پروازوں پر ہوں گا اور اس کے لیے کلب کلاس استعمال کی جائے گی۔
زمرہ: کفایت شعاری موجودہ صورتحال: کوئی پیشرفت نہیں ہوئی
یہ وعدہ ایفا نہ ہو سکا اور حلف برداری کے بعد سے جولائی 2019 تک وزیراعظم عمران خان نے آٹھ ممالک کے 13 غیر ملکی دورے کیے۔ ان دوروں میں تین مرتبہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت، دو مرتبہ چین جبکہ ایک ایک بار ایران، ملائیشیا، ترکی، قطر اور کرغستان گئے۔ ان دوروں کے لیے کمرشل پروازیں استعمال نہیں کی گئیں تاہم امریکہ کے حالیہ دورے ہر عمران خان نے اپنے اس وعدے کو جزوی طور پر پورا کرتے ہوئے کمرشل پرواز پر امریکہ کا سفر کیا۔
وعدہ: کراچی اور گوادر کے ساحلوں کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔
زمرہ: سیاحت موجودہ صورتحال: کوئی پیشرفت نہیں ہوئی
تاحال اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اور کراچی اور بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حکومتی سطح پر ساحلی پٹی کو سیاحتی سہولیات سے آراستہ نہیں کیا گیا۔
وعدہ: ملک میں لائیو سٹاک کے شعبے میں تبدیلی لائی جائے گی
زمرہ: معیشت موجودہ صورتحال: کوئی پیشرفت نہیں ہوئی
ڈاکٹر پاشم پوپلزئی کے مطابق لائیوسٹاک کے شعبے میں تبدیلی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ جھینگوں کے حوالے سے تحقیق اور تربیت سازی کے ساتھ اس صنعت کو بڑھاوا دیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں دودھ کی صنعت پر خاص توجہ دی جائے گی جس سے لائیو سٹاک میں بہتری آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلد ہی دودھ کی پیداوار بڑھانے، جانوروں کی افزائش نسل کے متعلق جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔






