کشمیر: انڈیا کا پاکستان پر دنیا کو گمراہ کرنے کا الزام

انڈیا نے پاکستان پر دنیا کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق انڈیا کے فیصلے کی حقیقت کو تسلیم کرے۔

پاکستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد انڈیا کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں کمی کا اعلان کیا ہے اور انڈیا کے سفیر کو ملک سے چلے جانے اور اپنے نامزد سفیر کو دلی نہ بھیجنے کے علاوہ دونوں ملکوں کے ٹرین رابطوں اور تجارت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے جمعے کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکوت نے دنیا کے کئی ملکوں کے سفیروں اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں کو انڈیا کی پوزیشن سے روشناس کروایا ہے اور بتایا ہے کہ شق 370 سے متعلق تبدیلی انڈیا کا مکمل طور پر اندرونی معاملہ ہے اور اس کا تعلق انڈیا کے آئین سے ہے جو انڈیا کے اقتدار اعلیٰ کے دائرے میں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان یکطرفہ قدم اٹھا کر اس اندرونی معاملے کو دنیا کے سامنے باہمی رشتے کی پریشان کن صورتحال کے طور پر پیش کر رہا ہے لیکن اسے ہر جگہ ناکامی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے پاکستان کی جانب سے کسی عسکری آپشن کے استعمال کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے پاس تمام سفارتی اور سیاسی آپشن موجود ہیں اور پاکستان کو انڈیا کی جانب سے بڑھائے گئے اس بحران کو مزید بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی کرسٹیئن آمنپور کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان انڈیا کے اقدامات کے خلاف سلامتی کونسل جائے گا اور سلامتی کونسل اور اس کے ارکان کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اس مسئلے کا حل چاہتا ہے۔

میزبان کرسٹیئن آمنپور نے ان کی توجہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ بیان کہ پاکستان اس مسئلے پر عسکری ردِ عمل نہیں دینا چاہتا، اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان کہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت میں کسی بھی حد تک جائے گا، کے درمیان بظاہر تضاد کی طرف دلائی۔

انھوں نے ملیحہ لودھی سے پوچھا کہ کیا ان کے نزدیک اس مسئلے کا کوئی عسکری حل ہے یا پاکستان ابھی بھی سفارتی طریقے سے معاملہ حل کرنا چاہتا ہے۔

جواب میں ملیحہ لودھی نے کہا کہ: ’ہم اس بارے میں بہت واضح ہیں کہ ہمارے پاس سارے سیاسی اور سفارتی آپشن میز پر موجود ہیں۔ یہ پورا بحران اس ریاست کے لوگوں کے بارے میں ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی برادری قانون، انصاف اور اصولوں کے لیے کھڑی ہو تاکہ اس ریاست کے لوگوں کی مشکلات حل کی جا سکیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے لوگوں کو 70 سال سے آزادی سے محروم رکھا گیا ہے اور اب انھیں ان کی شناخت سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ تبدیلیاں انڈیا کی حکومت کو جموں و کشمیر کی آبادی میں تبدیلی لانے میں مدد دیں گی اس لیے اس سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی شناخت خطرے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے اپنی قوم سے خطاب میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے دفاع پر بات کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کی توجیہہ 'بدنیتی اور دھوکہ دہی' پر مبنی تھی اور یہ کہ انڈیا اپنے اقدام سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کشمیر ٹھوس انداز میں سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر موجود ہے، اور اس حوالے سے اس بین الاقوامی ادارے کی کئی قراردادیں موجود ہیں۔

’کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور یہ مسئلہ بحران میں اس وقت تبدیل ہوا جب انڈیا نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ذریعے غیر قانونی طور پر ریاست جموں و کشمیر پر تسلط جمایا۔’

ملیحہ لودھی نے کہا کہ انڈیا کے وزیرِ اعظم کو یہ اقدام کرنے سے قبل کشمیر کو مکمل طور پر بند کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کسی بھی کشمیری نے اس اقدام کی حمایت نہیں کرنی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے بڑی تعداد میں اضافی فوجی تعینات کیے ہیں تاکہ مزاحمت کو دبایا جا سکے مگر ایک دن ضرور آئے گا جب کرفیو اٹھایا جائے گا اور تب کشمیریوں کی آواز سب سنیں گے۔

جمعہ کے روز کشمیر کے حالات

کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق قوانین کے خاتمے کے بعد وادی میں کیے جانے والے سکیورٹی کے سخت اقدامات اب بھی جاری ہیں۔

جمعے کو لوگوں کو اپنی مقامی مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی تاہم سری نگر کی جامعہ مسجد اب بھی بند ہے اور شہر میں کرفیو نافذ ہے۔

کشمیر میں ہزاروں فوجی گلیوں میں گشت کر رہے ہیں۔

کشمیر میں مواصلات کے تمام ذرائع گذشتہ اتوار سے منقطع ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق سری نگر کے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سہولت ملنا شروع ہو گئی ہے لیکن اس کی کوالٹی زیادہ اچھی نہیں ہے۔

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار عامر پیرزادہ کے مطابق پیر سے جاری کرفیو اب بھی نافذ ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ عید منانے میں لوگوں کو کوئی پریشانی نہ ہو۔

کشمیر کا مسئلہ انڈیا کا اندرونی مسئلہ نہیں: شاہ محمود قریشی

پاکستان کے اے آر وائی نیوز چینل پر ارشد شریف کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج انھوں نے پوری ڈپلومیٹک کور کو دفتر خارجہ میں دعوت دی تھی تاکہ وہ پاکستان کا نقطہ نظر ان کی خدمت میں پیش کرسکیں اور جو کشمیر کی صورتحال ہے اس سے آگاہ کرسکیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان حال ہی میں کی یورپی یونین کے یورپی کمیشن کی نائب صدر فیڈریکا موغیرنی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جس میں ان سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور انھیں پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔

ان کے بقول ان کی انڈین وزیر خارجہ سے بات ہوئی تھی اور انڈیا کی وزیر خارجہ نے انھیں دو باتیں بتائیں۔ ’پہلی بات یہ تھی کہ آرٹیکل 370 کا جو مسئلہ ہے یہ انڈیا کا اندرونی مسئلہ ہے۔ دوسرا یہ جو ہم نے کیا ہے یہ کشمیریوں کی فلاح اور ترقی کے لیے کیا ہے۔’

’میں نے ڈپلومیٹک کور سے بھی کہا اور ان سے بھی کہا کہ یہ غلط ہے، ہم اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ اندرونی مسئلہ نہیں ہے۔ کشمیر کا مسئلہ مسلمہ بین الاقوامی تنازعہ ہے اور (اس مسئلے پر) اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں۔ میں نے اس سے متعلق انڈیا کے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے لوک سبھا اور سلامتی کونسل میں دیے گئے بیانات کا حوالہ بھی دیا۔’

’انڈیا مہم جوئی کے ذریعے کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے‘

جمعرات کی رات کو اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب انڈین فوج کی چنار کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کنولجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان اور اس کی فوج کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کچھ عرصے سے پاکستان وادی میں ’کچھ واقعات کی کھلی دھمکی دے رہا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ 'جس کا دل چاہے وادی میں آ کر امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کر لے، ہم ان کا خاتمہ کردیں گے۔'

اس بیان کی ویڈیو ٹوئٹر پر چنار کور کے باضابطہ اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی تو جواب میں پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اس پر سخت ردِعمل دیا۔

لیفٹیننٹ جنرل ڈھلون کے پاکستان پر الزام کے جواب میں انھوں نے ویڈیو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بیان درحقیقت جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک 'مس ایڈوینچر' کے لیے بہانے تراشنا ہے۔

انھوں نے انڈیا کی فوج سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر غیر ملکی میڈیا اور اقوامِ متحدہ کے پاکستان اور انڈیا کے لیے خصوصی مبصرین کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے اور وہ جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں، کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں؟

انھوں نے رواں سال 27 فروری کو انڈیا کی جانب سے پاکستان کے شہر بالاکوٹ میں 'سرجیکل سٹرائیک' کے دعوے اور پاکستان کی جانب سے انڈیا کا ایک مگ 21 طیارہ گرانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جواب '27 فروری 2019 سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔'

پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور آج کل ٹوئٹر پر کافی سرگرمِ عمل ہیں اور وقتاً فوقتاً ٹوئیٹس کے ذریعے انڈیا کے مختلف سیاسی اور عسکری اقدامات پر ردِ عمل بھی دیتے نظر آ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر احمد نواز، ملالہ کا ردِعمل

اس ٹوئٹر تھریڈ کے علاوہ پاکستان کے دو نوجوان سماجی کارکنان نے بھی جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

ان میں سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں زخمی ہونے والے طالبعلم احمد نواز اور سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسفزئی شامل ہیں۔

احمد نواز نے لکھا کہ وہ کشمیر میں انڈیا کی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی پر بہت افسردہ ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ اس ظلم و ستم کو فوری طور پر روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

ملالہ یوسفزئی نے اپنا ایک کھلا خط ٹوئیٹ کیا جس میں انھوں نے تمام 'متعلقہ حکام، جنوبی ایشیائی لوگوں، اور بین الاقوامی برادری' پر زور دیا کہ کہ کشمیریوں کی مشکلات دور کریں۔ انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ 'چاہے ہمارے درمیان جو بھی اختلافات ہوں، ہمیں انسانی حقوق کا دفاع ہمیشہ کرنا چاہیے۔'