آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کشمیر میں سکیورٹی لاک ڈاؤن کے باوجود مظاہرے
انڈیا کی طرف سے کشمیر کی ریاست کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کے دو روز بعد وادی کے چند حصوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ذرائع مواصلات بشمول لینڈ لائن ٹیلی فون اتوار کی شب سے منقطع ہیں جبکہ اطلاعات کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ جموں کشمیر میں سکیورٹی فورسز کا لاک ڈاؤن جاری ہے تاہم بی بی سی سرینگر کے نمائندے عامر پیرزادہ کے مطابق چند علاقوں میں مظاہروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پتھراؤ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سرینگر کے عاصم عباس کا کہنا تھا کہ 'ہم پتھر کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ بیرونی دنیا کے ساتھ ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ والے محلے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں وہاں کے حالات کی خبر بھی نہیں ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عاصم، جو کہ ایک طالب علم ہیں، نے مزید کہا کہ 'اس کام کے بہت ہی خطرناک نتائج ہوں گے، جیسا کہ فلسطین میں ہوا جہاں اسرائیل کی آبادیاں بنائی گئیں، ان (انڈیا) کی پالیسی بھی وہی ہے۔'
اقبال نامی ٹریول ایجنٹ نے کہا کہ 'انھوں (حکام) نے بتایا کہ یاتریوں اور دوسرے سیاحتی مقامات پر باہر سے آنے والے سیاحوں پر حملہ ہونے والا ہے۔ مگر ایسا کچھ نہیں تھا، اس سب کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ انھوں نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنا تھا اور اپنا اندھا قانون لاگو کرنا تھا۔'
انھوں نے کہا کہ انڈیا کو کشمیری نہیں صرف کشمیر کی زمین چاہیے اور انھیں اس بات سے غرض نہیں کہ کشمیر کے لوگ مر جائیں یا بھوکے رہیں۔
'مودی کو اگر یہ کرنا تھا تو کل جماعتی کانفرنس بلاتے، اس کو زیر بحث لاتے، لوگوں کی رائے لیتے کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں۔ انڈین وزیر داخلہ امت شاہ بھی پارلیمان میں آئے اور اپنی ہی تقریر کرتے رہے حزبِ اختلاف کی کوئی بات نہیں سنی۔'
اقبال کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ غنڈہ راج ہے اور کچھ نہیں۔ آپ اس کو ایک لاوہ سمجھیے، جو پھٹنے والا ہے۔ یہ کیسے پھٹے گا یہ انڈیا کو نہیں پتا۔'
سرینگر سے تعلق رکھنے والے مصنف غلام علی نے کشمیر میں موجود سیاسی جماعتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اب ان کی کوئی تعلق نہیں رہا اگرچہ وہ انڈیا کی حکومت کی اعانت کر رہے تھے مگر انڈین حکومت نے ان کو دھوکہ دیا۔ کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں اس جرم میں برابر کی ملوث ہیں۔'
اس سے قبل نمائندہ بی بی سی زبیر احمد سے بات کرتے ہوئے کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مسلم رہنما کا کہنا تھا کہ ’میں ابھی مکمل صدمے میں ہوں۔ تمام کشمیری ایسے صدمے میں ہیں کہ وہ یہ سمجھنے کے قابل ہی نہیں ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ عرصے بعد لاوا پھٹنے والا ہے۔‘
پیر کو پارلیمان میں وزیر داخلہ امت شاہ کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان سے چند روز قبل وادی کشمیر میں کافی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں اور ریاست کی تقسیم اور دفعہ 35 اے کے خاتمے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔
لیکن جموں و کشمیر کو خصوصی حقوق دینے والے آرٹیکل 370 کی تمام شقوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا، لوگوں کو اس کا خدشہ کم تھا۔
کشمیری عوام انڈین حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے فیصلے کو تسلیم کرنے پر تیار نظر نہیں آتے لیکن علاقے میں سکیورٹی لاک ڈاؤن کی وجہ سے تاحال یہ ردعمل سامنے نہیں آ سکا ہے۔
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان کے تین دن بعد بھی کشمیر میں عوام کی زیادہ تر تعداد اپنے گھروں میں بند ہے اور کچھ ہڑتال کا سا سماں ہے۔
ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ تشدد کے چند واقعات کو چھوڑ کر ہر جگہ امن ہے تاہم پولیس اہلکار یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ لوگوں کا غصہ کسی بھی وقت پرتشدد شکل اختیار کرسکتا ہے۔
میں نے جتنے بھی عام لوگوں سے بات کی وہ فیصلے کے مخالف ہی نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ اگر انڈین حکومت ریاست کی آبادیاتی شکل تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
ایسے ہی ایک کشمیری نوجوان نے بلاخوف و خطر کہا کہ وہ اس فیصلے کو قبول نہیں کرتا۔ انھوں نے دعوی کیا کہ ’عسکریت پسندی کے پیش نظر، لوگ یہاں آنے، جائیداد خریدنے اور انھیں آباد کرنے کی ہمت نہیں کریں گے۔
ایسے خیالات کا اظہار کرنے والوں کی تعداد کم نہیں تاہم چونکہ حکام نے وادی میں مرکزی سیاسی اور علیحدگی پسند قیادت کو حراست میں لیا ہوا ہے اور یا وہ نظربند ہیں، سو عوام ان کی رہائی کے منتظر ہیں تاکہ وہ مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں ان کی رہنمائی کر سکیں۔
راشد علی دوائیوں کی دکان چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’پوری وادی کو کھلی جیل بنا دیا گیا ہے۔ رہنماؤں کو نظربند رکھا گیا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کو ہر جگہ تعینات کردیا گیا ہے۔ ابھی ہر جگہ کرفیو نافذ ہے لہٰذا لوگوں کے لیے گھر چھوڑنا مشکل ہے۔ جب یہ سب ختم ہو جائے گا، لوگ سڑکوں پر آئیں گے۔‘
جموں و کشمیر کو مرکزی علاقہ بنانے کے فیصلے پر عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو انڈیا میں تلنگانہ جیسی نئی ریاستیں تشکیل دی جارہی ہیں تو دوسری جانب ریاست جموں وکشمیر کی حیثیت چھین لی گئی ہے۔
آج کا سری نگر کسی بھی جنگی علاقے سے مختلف نظر نہیں آتا۔ دکانیں اور بازار بند ہیں، سکول اور کالج بھی بند ہیں۔ لوگوں نے اپنے گھروں میں راشن اور دیگر اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ تو کیا ہے لیکن اگر مزید کچھ دن دکانیں نہ کھلیں تو شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وادی میں ٹیلیفون لائنز، موبائل کنکشن اور انٹرنیٹ براڈ بینڈ کی سہولیات بند کر دی گئی ہیں۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے ہمیں بتایا کہ کچھ دن تک نہ تو کرفیو نرم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فون لائنوں اور موبائل فون کی سہولیات کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
اس صورتحال میں لوگوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد ایسی بھی ہے جو کشمیر سے نکلنا چاہتی ہے لیکن نقل و حمل کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پھنسی ہوئی ہے۔
سری نگر کے بس سٹینڈ۔ پولیس ان کو کنٹرول کر رہی تھی لیکن بسوں کی شدید کمی کے باعث وہ پریشانی کا شکار تھے۔
اسی ہجوم میں ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے مزدور نے مجھے بتایا کہ وہ دو دن سے وادی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تاحال یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
ایک اور مسافر نے کہا ’ہم نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا۔ گھر پر فون نہیں مل سکا کیونکہ موبائل فون نہیں چل رہے ہیں۔ ہم بہت پریشان ہیں۔‘