سینیٹ: چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد تین ووٹوں سے ناکام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے ایوانِ بالا کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہو گئی ہے۔
اپوزیشن نے ان نتائج کو دباؤ کے نتیجے میں وفاداری تبدیل کروانے کا عمل قرار دیا ہے جبکہ سینیٹ میں قائدِ ایوان اور تحریکِ انصاف کے رہنما شبلی فراز کا کہنا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ اپوزیشن کے چند سینیٹر بک گئے۔
بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق صادق سنجرانی کے خلاف تحریک کے حق میں 50 ووٹ آئے جبکہ اس کی کامیابی کے لیے 53 ووٹ درکار تھے اور یوں صادق سنجرانی چیئرمین کے عہدے پر برقرار رہے ہیں۔
صادق سنجرانی کے حق میں 45 ارکانِ سینیٹ نے ووٹ دیا جبکہ ایوان میں حکومتی ارکان کی تعداد 36 ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہfacebook
ایوانِ بالا میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریکِ عدم اعتماد بھی ناکام رہی جس کی حمایت میں 32 ووٹ آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو اس کی صدارت سینیٹر بیرسٹر سیف نے کی جنھوں نے اپوزیشن کو چیئرمین کے خلاف تحریک پیش کرنے کی اجازت دی۔
اپوزیشن کی جانب سے قائد حزبِ اختلاف راجہ ظفر الحق نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جس کی حمایت اپوزیشن کے 64 ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر کی۔
تاہم جب خفیہ رائے شماری کی باری آئی تو اپوزیشن کی تحریک کے حق میں 50 ووٹ ہی آ سکے جبکہ ووٹنگ میں کل 100 ارکان نے حصہ لیا تھا۔
جماعت اسلامی کے دو سینیٹرز سراج الحق اور مشتاق احمد جبکہ مسلم لیگ ن کے چوہدری تنویر اجلاس اور ووٹنگ کے عمل میں شریک نہیں ہوئے۔
'سینیٹر بکے نہیں'
سینٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے ووٹنگ کے بعد پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی اور بدقسمتی سے اس میں بڑی سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کر کے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جو کچھ وہ کرنے جا رہے ہیں وہ ادارے کے وقار اور جمہوریت کے تسلسل کے خلاف ہے۔
'مولانا فضل الرحمان کے گھر جا کر ان سے بات کی گئی مگر انھیں عزت راس نہیں آئی اور انھوں نے عوام میں جا کر یہ پیغام دیا جیسا کہ حکومت ان سے مدد مانگنے آئی ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے اس عدم اعتماد کی تحریک کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جبکہ باقی بڑی سیاسی جماعتیں اس تمام عمل میں استعمال ہوئی ہیں۔
'اپوزیشن کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ جو کرنے جا رہے تھے اس سے انھیں نقصان ہوا اور یہ سب کچھ انھوں نے احتساب کے جاری عمل سے فرار اختیار کرنے کے لیے کیا تھا۔'
'اپوزیشن کے سینیٹروں کو اس بات کا بھی احساس تھا اور ان ہی کی مدد سے یہ تحریک ناکام ہوئی۔ ہمیں اپوزیشن سے کوئی گلہ نہیں۔ یہ کسی ایک کی نہیں بلکہ ادارے کی فتح ہے۔'
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ اپوزیشن کے چند سینیٹر بکے ہیں۔ 'اگر حکومت نے خرید و فروخت کرنی ہوتی تو ووٹ بہت زیادہ ہوتے۔'

شبلی فراز کے مطابق ’سینیٹ کے تمام اراکین چاہے وہ حکومت سے ہیں یہ اپوزیشن سے سب باوقار لوگ ہیں۔ نہ کوئی بکا ہے نہ کسی کو خریدا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے جن ارکان نے صادق سنجرانی کو ووٹ دیے ہیں ’ایسا انھوں نے سینیٹ کے وقار کو بلند کرنے کے لیے کیا ہے۔‘
تحریکِ انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ 'یہ مت کہیں کہ لوگ بکے ہیں، ہاں سینیٹرز کا اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے۔'
حکومتی سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اراکین کی جانب سے ضمیر کے فیصلے کے مطابق صادق سنجرانی کو ووٹ ڈال کر خاندانی سیاست کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
'سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ نہیں بلکہ ضمیر کے مطابق فیصلہ ہوا ہے۔ اپوزیشن کے وہ اراکین جنھوں نے صادق سنجرانی کے حق میں ووٹ دیا وہ گمنام ہیرو ہیں۔'
نتیجہ اپوزیشن کی امیدوں کے برعکس
ووٹنگ سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اپنی کامیابی کے بارے میں پریقین دکھائی دیتے تھے تاہم نتیجہ ان کی امیدوں کے برعکس نکلا۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج پھر گذشتہ برس ہوئے دھاندلی زدہ عام انتخابات کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کے 14 ووٹ پیسے کی چمک دمک کی نذر ہو گئے ہیں اور اپوزیشن کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ جنھوں نے اپنا ضمیر بیچا اور جمہوریت اور نظام کو کمزور کیا ان کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف فیصلہ لیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم پوری قوم کو بتائیں گے کن اراکین نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔
شہباز شریف کے مطابق اپوزیشن اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ اگلے ہفتے حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس ہو گی جس میں درپیش مسائل پر بات چیت کے بعد اگلا لائحہ عوام کے سامنے لایا جائے گا۔
اس سے قبل مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ڈرا دھمکا کر چند ووٹ توڑنے کا کھیل قابل فخر نہیں، شرمناک فعل ہے جو ہر بار کامیاب نہیں ہو سکتا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد دوبارہ لانی چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اس کٹھ پتلی حکومت کے جمہوریت پر حملے جاری ہیں اور آج سینیٹ میں ایک کھلا حملہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا پارٹی دیکھے گی کہ کون کون سے اراکین دباؤ میں آئے اور ’جنھوں نے ووٹ بیچا ان کو نہیں چھوڑیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ اپوزیشن خاموش نہیں بیٹھے گی اور جدوجہد جاری رہے گی۔ 'اس ہار میں بھی ہماری جیت ہے کیونکہ 50 سینٹرز نے انتہائی دباؤ کے باوجود ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے صادق سنجرانی کے خلاف ووٹ دیا۔'
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مصطفیٰ نواز نے تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج جو ہوا وہ تمام سینیٹروں کے لیے شرمندگی کی بات ہے۔ 14 ووٹوں کا کم ہونا انتہائی غیرمناسب بات ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے چند ساتھیوں نے بہت قابل شرم کام کیا ہے۔ اب مناسب نہیں کہ میں اس ایوان کا حصہ رہوں اور میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنا استعفی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو جمع کروا دوں گا۔'










